سیاسی مداخلت کا انجام‘ محرومی

سیاسی مداخلت کا انجام‘ محرومی

خیبر پختونخوا اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کی کوہاٹ اور کرک کے سرحدی علاقے میں صنعتی زون کے قیام کو موخر کرنے کی وجوہات سے اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ذہانت کے ساتھ منصوبہ بندی اور امکانات کا درست اندازہ لگا کر اس کے مطابق منصوبہ بندی کا فقدان تھا جبکہ کمپنی کے کام میں غیر ضروری مداخلت سے کمپنی کے وسائل اور وقت کا ضیاع ہوا اور بالآخر کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا محاورہ حقیقت کے روپ میں سامنے آگیا مگر بہت دیر ہوچکی تھی ۔ ہمارے نمائندے کی تحقیقی رپورٹ میں اس کی وجہ صراحت سے بیان کی گئی ہے جس کے مطابق کوہاٹ اور کرک کے سرحدی علاقے موضع شہزادی بانڈہ کے ایک ہزار ایکٹررقبہ پر اکنامک زون کے قیام کے لئے سیاسی شخصیات کے مابین کھینچاتانی شروع ہوئی ۔ یہ دیکھے بغیر کہ ان کے مطالبات کو پورا کرنے کی کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی اگر سیاسی دبائو اور کھینچا تانی نہ ہوتی اور کمپنی کو فیصلے کا آزادانہ موقع دیاجاتا تو اس تپسیا کی ضرورت نہ پڑتی جس میں وقت اور وسائل کے ضیاع کے بعد کنسلٹنٹ نے یہ رپورٹ دی کہ اس جگہ پر صنعتی زون کے قیام کی گنجائش نہیں۔کرک اور کوہاٹ کی سیاسی شخصیات کی اس کشمکش اور بلا وجہ کی ضد سے علاقے کا ایک صنعتی زون کے قیام سے محروم ہونا علاقے کے عوام کے کاروبار روزگار اور ترقی کے مواقع پر لات مارنے کے مترادف ہے جس کی ذمہ دار صوبائی حکومت کو ٹھہرانا اس لئے غلط نہ ہوگا کہ جس صورتحال پر کنسلٹنٹ کی رپورٹ طلب کی گئی تھی۔ اس کے لئے کسی ماہرانہ رپورٹ کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی شخصیات کی چپقلش کے باعث یہ رپورٹ ان کا منہ بند کرنے کے لئے بنوائی گئی وگرنہ کنسلٹنٹ نے جو رپورٹ دی ہے اس میں کوئی ایسی تکنیکی بات نہیں جو سمجھ سے بالا تر ہو۔ اگر سیاسی شخصیات کی چپقلش کو نظر انداز کرکے اور سیاسی خواہشات کی تکمیل سے بالاتر ہو کر موزوں مقام کا فیصلہ کیا جاتا تو دونوں اضلاع کے کسی موزوں مقام پر یا پھر آس پاس کے کسی موزوں علاقے میں صنعتی زون کا قیام عمل میں لانے کی پیشرفت ہوتی تو عوام کو اس سے مستفید ہونے کا موقع ملتا۔ اب جبکہ منصوبہ ہی لپیٹ دیاگیا ہے اور معاملہ کسی موزوں مقام کی تلاش کے مرحلے پر د وبارہ پہنچا ہے تو کم از کم یہ امر یقینی ہے کہ موجودہ دور حکومت میں اس کا قیام ممکن نہیں جبکہ آئندہ کے منصوبوں کی ترجیحات کا فیصلہ آنے والے حکمرانوں نے کرنا ہے اس لئے اس علاقے میں اس مجوزہ منصوبے کے روبہ عمل آنے کا امکان تک خطرے میں پڑ گیاہے۔ اس طرح کے تجربات اور صورتحال سے سیاسی عمائدین کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ مفاد عامہ کے نافع منصوبوں میں سیاسی شخصیات کی بجائے ماہرین سے مشاورت ہونی چاہئے اور موزوں ترین مقامات کی نشاندہی کے بعد کسی بھی سیاسی مفاد اور مصلحت سے بالاتر ہو کر اس پر کام شروع کروانے کی ضرورت ہے۔
پنشن کی تجویز ختم کرنے پر ملازمین کی پریشانی بجا ہے
عدالت عظمیٰ کا پی ٹی سی ایل پنشنروں کی پنشن میں اضافے کا فیصلہ دینے کے باوجود معمر پنشنروں کو پوری پنشن کی ادائیگی میں لیت و لعل توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ پی ٹی سی ایل کے معمر پنشنرز بار بار احتجاج کرتے ہیں مگر ان کے مطالبات کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ پوری عمر خدمات کی انجام دہی میں گزارنے والے صرف پی ٹی سی ایل ہی کے پنشنروں سے یہ سلوک نہیں ہو رہا ہے بلکہ تقریباً تمام سرکاری محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین مسائل کاشکار ہیں۔ خاص طور پر اولڈ ایج بینیفٹ سے پنشن لینے والوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں ‘اب تو سرے سے سرکاری ملازمین کی پنشن بند کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر اس تجویز پر عملدرآمد کیاگیا تو پھر سرکاری ملازمت اور سیٹھوں کے پاس ملازمت میں زیادہ فرق نہیں رہے گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور مراعات میں اضافہ کرکے پنشن ختم کرنے سے ملازمین کو وقتی طور پر تو فائدہ ہوگا لیکن اس طرح سے ان کے لئے اتنا کچھ پس انداز کرنا ممکن نہ ہوگا کہ ریٹائر ہونے پر محتاجی کا شکار نہ ہوں۔ اگر ہمارے ملک میں علاج معالجہ کی سہولت ہی مفت ہوتی اور دیگر ممالک کی طرح شہریوں کو بنیادی ضروریات کاحکومت خیال رکھتی تو بعد از ریٹائرمنٹ سرکاری ملازمین کو کچھ تحفظ کا احساس ہوتا مگر یہاں تو کفن اور قبر اور تدفین کے لئے بھی خاصی رقم کی ضرورت پڑتی ہے مستزاد متوفی کی بیوہ اور غیر شادی شدہ بچیوں کی کفالت کا معاملہ اپنی جگہ سنگین مسئلہ ہے اس ساری صورتحال میں پنشن برقرار رکھنے کی ضرورت مسلمہ ہے۔اس طرح کے حالات میں سرکاری ملازمین میں شدید بے چینی فطری امر ہوگا،۔ پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ کو معمر پنشنروں کو یوں سڑکوں پر احتجاج پر مجبور کرنے کی بجائے ان کے جائز اور قانونی مسئلے کے حل پر توجہ دینی چاہئے۔

اداریہ