Daily Mashriq


امریکہ کا ایک خطرناک اقدام

امریکہ کا ایک خطرناک اقدام

قرائن سے لگ رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی امریکہ کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کو ختم کرنے کی بجائے طول دینے کا باعث بنے گی ۔ پاکستان کی ملٹری امداد کو ختم کرکے افغانستان کی پیچیدہ صورت حال کے حوالے سے ایک بہت بڑا جوا کھیلا ہے ۔ نئے سال کے آغاز پہ ایک غیر ضروری ٹویٹ کرکے نہ صرف سفارت کاری کی روایات سے عاری ہونے کا ثبوت دیا ہے بلکہ پاکستان پاکستان پر جھوٹا اور دھوکے باز ہونے کے الزام لگا کردہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کوبھی دھندلا نے کی کوشش کی ہے۔ٹرمپ کی اس ٹویٹ کے بعد جہاں سفارتی اور حکومتی حلقوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے وہیں پر عوامی سطح پر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے۔جہاںتک امریکہ کی جانب سے دیئے جانے والے 33 بلین ڈالر کی بات ہے تو کانگریشنل ریسرچ سروس کے جانب سے فراہم کئے جانے والے اعدادوشمار درست نہیں ہیں کیونکہ یہ ایجنسی صرف مختص کی جانے والی رقم کا ریکارڈ رکھتی ہے نہ کہ دی جانے والی اصل رقم کا۔ ٹرمپ کی ٹویٹ سے سب سے زیادہ خوشی کابل میں بیٹھی افغان اتحادی حکومت کو ہوئی ہے جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے مطالبہ کررہی تھی کہ افغانستان میں ہونے والے حملوں میں سرحد پار سے ملوث ہونے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس حوالے سے پاکستان پر دبائو بڑھایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی ایک بلین ڈالر کی امداد روکنے کے بعد افغان اتحادی حکومت خوشی کے شادیانے بجاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ایک طویل عرصے سے خانہ جنگی کے شکار ملک میں سیکورٹی، معاشی اور سیاسی مسائل سے نمٹنے سے ناکامی کے بعد افغان اتحادی حکومت اپنے ناکامیوں کا سارا بوجھ پاکستان کے کندھے پر ڈالنا چاہتی ہے اور اس لئے وہ امریکہ سے مطالبہ کرتی رہتی ہے کہ وہ پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کرکے سفارتی دبائو میں اضافہ کرے۔ لیکن افغانستان اور امریکہ کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ پاکستان کی امداد بند کرنے سے ان دونوں کو فائدے کے بجائے نقصان ہی ہوگا اور خطے میں عدم استحکا م پھیلے گا۔ افغانستان میں امریکی سربراہی میںقائم اتحادی فورسز اور افغان سیکورٹی فورسز کی جانب سے ڈرون حملوں میں خاطر خواہ اضافے کے باوجود طالبان اور داعش جیسے گروپ ملک میں کھلے عام دہشت گردی کرنے اور مزید علاقوں میںاپنا اثرورسوخ قائم کرنے میں مصروف ہیں۔پچھلے ہفتے کابل میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں 20 پولیس والے اور سویلین ہلاک ہوئے تھے جبکہ 27 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ داعش افغانستان میں کتنی آزادی سے دہشت گرد کارروائیاں کررہی ہے۔ پاکستان کی سیکورٹی امداد معطل کرکے امریکہ پاکستان کو کابل کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کررہا ہے لیکن ایسا کرنے سے امریکہ افغانستان میں استحکام لانے کے لئے پاکستان کی قربانیوں کو فراموش کررہا ہے۔امریکہ کا دھمکی آمیز رویہ اور سیکورٹی امداد کی معطلی نہ صرف افغانستان میں کشیدگی اور بے چینی میں اضافے کا باعث بنے گی بلکہ اس سے قیامِ امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ پچھلے 17 سالوں میں کئے جانے والے ایسے اقدامات سے دونوں ممالک کو کچھ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی پاکستان کے خلاف حالیہ اقدامات اور دھمکیوں کو امریکہ اور افغانستان کو کچھ حاصل ہونے والا ہے۔ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان پر پابندیاں لگانے سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی ساری توجہ افغان حکومت کی عمل داری میں بہتری اور خطے سے دہشت گردی کے خاتمے پر مرکوز کرنی چاہیے۔ امریکی اقدامات کے جواب میں اگرپاکستان نیٹو سپلائی بند کردیتا ہے اور امریکہ کو پاکستان کی فضااستعمال کرنے کی اجازت بھی واپس لے لی جاتی ہے تو افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کی لاگت میں بے تحاشہ اضافہ ہوجائے گا۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کی ٹویٹ اور سیکورٹی امداد کی معطلی کے بعد امریکہ پاکستان کے ساتھ تھوڑی سی لچک دکھانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مکمل طور پر ختم نہ ہوجائیںکیونکہ افغانستان میںتعینات 14000 امریکی فوجیوں کو خوراک اور دیگر سامان کی ترسیل کے لئے آج بھی پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگست 2017ء میں آنے والی نئی افغانستان پالیسی بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری حالیہ کشیدہ صورت حال کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے حالانکہ مذکورہ پالیسی کے اعلان کے بعد سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن اور امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس کے اسلام آباد کے دوروں کے ذریعے افغانستان میں تعینات افغان افواج کے لئے پاکستان کی معاونت کی کوششیں ناکام رہی تھیں۔پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کے امریکی دعوئوں میں کچھ حقیقت ہے تو پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کے لئے ان عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے۔ اس لئے امریکہ کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہے جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنیں اور امریکہ کو خطے میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے۔ اگر ٹرمپ نے حقیقت کو سمجھنا ہے تو اسے گلوبل ٹیررازم انڈیکس رپورٹ کو دیکھنا چاہیے جس کے مطابق پاکستان میں 2014ء کے بعد دہشت گردی میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے کئے جانے والے آپریشن ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کو یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ افغان جنگ ہار رہا ہے اور ان حالات میں ٹرمپ کا ایران اور شمالی کوریا سے پنگا کسی بھی حوالے سے امریکہ کے لئے سود مند ثابت نہیں ہوگا۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں