Daily Mashriq


ملک کو درپیش خطرات اور ہماری سیاسی قیادت کا رویہ

ملک کو درپیش خطرات اور ہماری سیاسی قیادت کا رویہ

اس وقت پاکستان کو اگر ایک طرف بیرونی جارحیت کا سامنا ہے تو دوسری طرف ملک کے اندر بھی سیاسی صورتحال کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے بیرونی جارحیت اور دبائو کا سامنا کرنے کے لئے اندرونی حالات کا ٹھیک ہونا ازحد ضروری ہے ۔تھوڑا بہت شعور رکھنے والے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ان حالات و واقعات کے جو اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔مشرق کی طرف سے بھارت تیاریوں میں مصروف ہے تو مغرب کی طرف سے امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ را ، موساد اور سی آئی اے کے تربیت یافتہ دہشتگرد پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں بھی انتشار پھیلانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان حالات میں بھی ہمارے سیاستدان حکمرانوں کے پیچھے لگے ہیں اور حکمران اداروں کے پیچھے لگے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے ازلی دشمن بھارتی حکمران پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں دوسری طرف پاکستان کے خلاف امریکہ کے جنونی صدر کی میز پر تمام آپشن پڑے ہیں اور ہمارے سیاستدان سیاسی مفاد کے حصول کے لئے سرگرم ہیں ۔ امریکہ کے خلاف سیاسی بیانات تو سب دے رہے ہیں لیکن ان بیانات کی نہ کوئی حیثیت ہے اور نہ کوئی اہمیت اصل اقدامات اور فیصلے تو حکومت نے کرنے ہیں اور حکومت اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہے بلکہ اندازہ یہ ہو رہا ہے کہ حکومت کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور کیا گیا ہے کیونکہ ایک کمزور حکومت بہت جلد دبائو میں آتی ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ منصوبہ ساز اپنی مرضی کے فیصلے آسانی سے منوا سکتے ہیں اور ظاہری بات ہے کہ ایسے فیصلے ملکی مفاد کے خلاف ہونگے ۔لیکن اس کے مقابلے میں اندرونی طور پر مضبوط حکومت خارجی سطح پر بہتر انداز میں اپنا موقف منوا سکتی ہے ۔ 

ہمارے سیاستدان اتنے کم بصیرت کیوں ہیں کہ ان کو اس وقت مسلمانوں کو درپیش صورت حال نظر نہیں آ رہی ہے اور دشمن کی سازشوں سے بے خبر ہیں یا جان بوجھ کر بے خبر بن چکے ہیں ۔ ایک عام فہم انسان بھی اگر صرف موجودہ صدی کی تاریخ پر غور کرے تو آسانی کے ساتھ حالات کا ادراک کر سکتا ہے اور لیڈر تو قوم کی قیادت کرتا ہے اس کو تو زیادہ دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ۔ نائن الیون کا ڈرامہ اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی ہونے والی نسل کشی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ دشمن آگ اور خون کے اس کھیل کو مزید بھڑکانے کی کوششیں زور و شور سے کر رہا ہے۔ہمارے سیاسی اختلافات کی آڑ میں امریکہ یہاں لیبیا ، شام اور یمن جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جس کے لئے راستہ کافی عرصے سے ہموار کر رہا ہے ۔ ہماری سیاسی قیادت کا لب و لہجہ اور طرز عمل بھی ایک دوسرے سے دوری کا سبب بن رہے ہیں جس سے نفرت اور بغض بڑھتا جا رہا ہے۔موجودہ حالات میںہمارے سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے اور اداروں کی بھی کہ وہ ایسے حالات ملک میں پیدا نہ کریں جن سے دشمن فائدہ اٹھا سکے اس طرح عوام کو بھی اپنے سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر ملکی بقا اور سلامتی کے لئے ایک ہونا ہوگا ۔ اس میں شک نہیں کہ امریکہ اسرائیل اور بھارت کا اصل ٹارگٹ پاکستان ہے کیونکہ پاکستان ایک اسلامی ایٹمی ملک ہے اور ایک ایسی فوج کا حامل ہے جو ہر قسم کے حالات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور اہلیت سے مالا مال ہے پاکستان کی یہ خاصیت دشمنوں کے ناپاک عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ دشمن کو پاکستان پر براہ راست جارحیت کی جرأت نہیں ہو سکتی اور نہ یہ رسک لے سکتے ہیں کیونکہ اس طرح کسی بھی کارروائی کے نتائج ان کو اچھی طرح معلوم ہیں لیکن پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کر کے وہ اپنے ناپاک عزائم پورے کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ ہمارے اندرونی حالات یہ ہیں کہ قادری صاحب نے اپنے کنٹینر کو آراستہ کیا ہے صوفے ہیٹر اور فریج رکھے گئے ہیں ساتھ ساتھ کنٹینر کے ساتھ اضافی سٹیج بھی لگا دیا گیا ہے تاکہ زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہو ۔ قادری صاحب کینیڈین شہری ہیں اور دوہری شہریت کا حامل کوئی بھی شخص پاکستان کی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا اور یہ بھی معلوم ہے کہ قادری صاحب نے ملکہ برطانیہ سے وفاداری نبھانے کا حلف اٹھایا ہے۔ لیکن ہمارے کوتاہ بین سیاسی قیادت صرف اور صرف بغض نواز میں ملکہ برطانیہ کے وفادارکا ساتھ دے کر ملک میں انتشار اور بد امنی پھیلانے کی کوشش میں تعاون کر رہی ہے دوسری طرف میاں نواز شریف بھی اداروں کے خلاف میدان میں نکل چکے ہیں اور اپنے ہی ملک کے اداروں پر حملہ آور ہو رہے ہیں اگر ہم غور کریں تو یہ دشمن کی شدید خواہش ہے کہ جس طرح بھی ہو پاکستان کے عوام کو اپنے اداروں سے بدظن کیا جائے اور ان میں دوریاں پیدا کی جائیں ۔پتہ نہیں چلتا کہ کون کس کی خدمت کر رہا ہے اور کس کے لئے استعمال ہو رہا ہے لیکن پاکستان کو درپیش صورت حال میں یہ نہیں لگ رہا ہے کہ کوئی پاکستان کے مفاد کے لئے استعمال ہو رہا ہے ۔ حالات کا تقاضا ہے کہ موجودہ وقت میں اتحادو اتفاق کا مظاہرہ کیاجائے تاکہ حکومت اندرونی دبائو سے نکل کر اپنی تمام تر توجہ خارجی صورت حال پر مرکوز کرسکے لیکن اگر حکومت اندرونی دبائو کا شکار رہی تو بیرونی قوتیں حکومت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کریں گی ۔

متعلقہ خبریں