Daily Mashriq


درندے

درندے

اقبال حسین آزاد ہمارے فیس بک کے ایک دوست ہیں ۔بالمشافہ کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی ۔انڈیا سے تعلق ہے اور ایک استاد کے علاوہ اچھے افسانہ نگار شاعر نقاد اور مدیربھی ہیں ۔ کل رات قصور کے اندوہناک واقعہ پر ان کی ایک نظم پڑھی تو دکھ میں مذید اضافہ ہوا۔ساتھ یہ احساس بھی ہوا کہ انسانیت کی کوئی باؤنڈری نہیں ہوتی ۔ ظلم ، سفاکی اور درندگی کو کوئی بھی احساس رکھنے والا محسوس کرسکتا ہے اور پاکستان انڈیا کیا یہ درندگیا ں یہ سفاکیاں تو ہر جگہ موجود ہیں ۔اقبال حسین کی نظم ملاحظہ کیجئے ۔

درندے

درندوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی

درندوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا

درندوں کا کوئی مسلک نہیں ہوتا

درندے تو درندے ہیں

نکیلے دانت

خون آشام آنکھیں

حلق سے دم بدم آتی ہیں غرانے کی آوازیں

یہی پہچان ہے ان کی

مگر

درندے جنگلوں میں باس کرتے ہیں

وہ شہروں میں نہیں ملتے

اگر ملتے بھی ہیں تو سرکسوں یا چڑیا خانوں میں

انہیں آزاد تو چھوڑا نہیں جاتا

مگر ہاں کچھ درندے

بھیس میں انساں کے ملتے ہیں

نہ ان کے دانت نوکیلے

نہ آنکھیں خون آشامی

حلق سے غرانے کی آوازیں بھی نہیں آتیں

مگر جب وحشی پن کا کام وہ انجام دیتے ہیں

کسی معصوم کاجب ریپ کرتے ہیں

پھر اس کو قتل کرتے ہیں

تب ان کا اصل چہرہ سامنے آکر

ہمیں حیران کرتا ہے

ہمیں غصہ دلاتا ہے

ہمیں آنسو رلا تا ہے

تو پھر ایسے درندوں کی سزا

بس موت ٹھہرے گی۔۔۔۔

بیٹی زینب اس دنیا میں تو نہیں رہی لیکن اس نے جاتے جاتے پورے سسٹم کو ہلا کر رکھ دیاکہ ہمارا سسٹم کتنا کھوکلا ہے اور ہمارے اخلاقی نظام میں کتنا کام رفو کا موجود ہے ۔اس واقعے سے ہر باپ ہر ماں اس وقت عدم تحفظ کا شکار ہے ۔ اس سانحے نے ایک الارمنگ صورتحال ضرور بنادی ہے ،یہ الگ بات کہ صاحب اقتدار اب بھی اس واقعے کو روٹین کی ایک مجرمانہ سرگرمی سمجھ کر سٹے ٹسکوکو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور ان کی جانب سے ایسی صورتحال کی کوئی پیش بندی سامنے نہ لا سکنا ان کا وہ عجز ہے جو انہیں حکمرانی کرنے کی نااہلیت کے لیے نہایت اہل ثابت کررہا ہے ۔ وجہ صرف اتنی سی ہے کہ حکمرانی بس ایک پیشہ ہی بن کر رہ گیا ہے اور پیشہ وروں کا پہلامقصد کمائی ہوتا ہے سو جو بھی ہے کما ہی رہا ہے ۔ ورنہ اس کے لیے کوئی قانون سازی ہوچکی ہوتی ۔ علاج تم نہیںدیتے ، روزگار تم نہیں دیتے ، امن تم نہیں دیتے تو پھر حکمرانی کا حق کیوں دیا جائے تمہیں ۔ افسو س کہ ہم ان ظالموں کی زد میں ہیں اوریہ لوگ ہمیں ایک مسلسل نائٹ میئر کا شکار کیے ہوئے ہیں ۔ بی بی سی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2017 کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 768 واقعات پیش آئے جن میں سے 68 ضلع قصور سے رپورٹ ہوئے۔یہ رپورٹ ایک پرائیویٹ اور خودمختار ادارے ’’ساحل‘‘ کے مندرجات پر مبنی ہے ۔ساحل کی رپورٹ بھی اخباری خبروں سے مرتب کی گئی ہے کیونکہ انتہائی حساس نوعیت کے اس مسئلہ پر کوئی سرکاری ادارہ ایسے اعداد و شمار جمع نہیں کرتا۔ عوامی نمائندے اور سرکاری حکام یا تو اس بھیانک حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں یا اس سے انکار کرتے ہیں۔ جبکہ وفاق اور صوبائی سطح پر اس قسم کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں جس میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مستند معلومات اور اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں۔نہ ہی اس قسم کی کوئی تفصیل کسی سرکاری ادارے کے پاس موجود ہے کہ ان جرائم کے ملزموں کوکوئی سزا ملی ہو۔رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب ان واقعات میں پہلے نمبر پر براجمان ہے ۔ یہ رپورٹ پڑھ کر اپنی حالت پر ترس ضرور آیا کہ ہم کس جانب جا رہے ہیں ۔یہ رپورٹ خدا کی قسم چشم کشا ہے عوام کے لیے کہ ہمارے ساتھ کیا ہورہاہے ۔یہ ظالم اپنی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کے لیے بلااختلاف ایک ہی سیشن میں بل منظور کروالیتے ہیں لیکن میری بیٹی زینب کو تحفظ دینے کاکوئی قانون پاس کرنے میں مصلحتوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ جب ادارے ان کی لونڈیاں بن جائیں تووہی ادارے دو درجن گاڑیوں کا پروٹوکول انہیں فراہم کرکے مبرا ہوجاتے ہیں کہ زینب کو کوئی اٹھائے اس کو درندوں کی طرح نوچے اور گندگی کے ڈھیر پر پھینک دے ۔تف ہے ایسے سسٹم پر جو معصوم کو تحفظ نہ دے سکے ۔جو احتجاج کرنے والوں پر نوے ڈگری پر گولی چلا دے ۔ ہم پھر بھی زندہ باد اور مردہ باد کرتے رہیں گے ، کیڑے مکوڑے کی سطح کے عوام ۔ ہم بس ہنگامی انداز کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ چند جذباتی الفاظ ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے کے میسر ہوتے ہیں اور باقی کچھ نہیں ۔ اللہ ہمارے بچوں پر رحم کرے کہ حکمران تو آقا ہیں اور آقا عوام کو رعایا سمجھتے ہیں ۔ فیس بک پر ایک صارف محسن علی نے کسی کا شعر لکھا ہے اسی شعر پر بات ختم کرتے ہیں ۔

امیر شہر تیرے بچے رہیں سلامت

میری زینب تو کچرے میں پڑی ہے