اے این پی کے سابقہ دور حکومت کا جائزہ

اے این پی کے سابقہ دور حکومت کا جائزہ

2018ء انتخابات کے لئے ہر سیاسی پارٹیوں نے عوام کے ساتھ رابطے شروع کردئیے ہیں اور کو شش کر رہی ہیں کہ عوام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطے میں رہیں۔ آج کل غم و خوشی اور دیگر سماجی محفلوں اور تقریبات میں تقریباً ہر سیاسی پا رٹی کے رہنما نظر آتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اے این پی ،پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی ، جے یو آئی اور دوسری سیاسی جماعتوں نے زور و شور سے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ اے این پی اور جماعت اسلامی لہٰذا سرگرم ہیں۔ اے این پی جو2013ء سے قبل صوبہ پختونخوا میں برسر اقتدار تھی اس کی سابقہ کا ر کر دگی پر نظر ڈالتے ہیں ۔

اے این پی حکومت کی پانچ سالہ کارکر دگی کو دیکھیں تو اپنے 5 سالہ دور حکومت میں اس نے سکول کالجز اور یو نیور سٹیوں کا جال بچھا دیا اور5 سال میں اے این پی نے کے پی کے میں جتنی یو نیور سٹیاں اور کالجز بنائے وہ کے پی کے کے سابقہ کسی دور میں نہیں بنے۔ ان یو نیور سٹیوں میں با چا خان یو نیور سٹی چا ر سدہ، عبدالولی خان یو نیور سٹی مردان، عبدالولی خان یو نیور سٹی جلو زئی کیمپس نو شہرہ، عبدالولی خان یو نیور سٹی چترال کیمپس، خو شحال خان یو نیور سٹی کرک، اسلامیہ کالج یو نیور سٹی پشاور، سوات یو نیور سٹی سوات، صوابی یونیور سٹی صوابی، ہری پو ر یونیور سٹی ہری پو ر، ایس بی بی یونیور سٹی دیر، ایس بی بی یو نیور سٹی چترال، باچاخان میڈیکل کالج مردان، بے نظیر یو نیور سٹی صوابی وغیرہ شامل ہے۔ اسکے علاوہ اے این پی حکومت نے اپنے 5 سالہ دور اقتدار 47 نئے ڈگری کالجز بنائے جو خیبر پختونخوا کی گزشتہ تا ریخ میں اتنی تعداد میں نہیں بنے۔ اسکے علاوہ اے این پی حکومت کے 5 سالہ دور میں بچوں بچیوں کے لئے 510 نئے سکولوں کا قیام، 625 پرائمری سکولوں کا درجہ مڈل تک بڑھانا، 635 مڈل سکولوں کا درجہ سیکنڈری سطح تک بڑھانا، 325سکولوں کا درجہ ہائیر سیکنڈری لیول تک اپ گریڈ کرنا، مختلف سکولوں میں پرائمری مڈل، اور ہائی سکولوں میں 3100 کلاسوں کی تعمیر، 7 ما ڈل سکولوں اور 2 کیڈٹ کالجز کا قیام،251آئی ٹی لیبا رٹریز کا قیام اس کی تعلیم کی مد کارکردگی کا ثبوت ہے۔ علاوہ ازیں اے این پی حکومت نے ملا کنڈ اور مر دان کے درمیان فا صلہ کم کرنے کے لئے ملاکنڈ ٹنل پراجیکٹ مکمل کیا، اسکے علاوہ پختونخوا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری کمپنی کا قیام، 25 ہزار ایکڑ زمین سیراب کر نے کے لئے بائیزئی آب پا شی منصوبے شروع کرنا، ستوری د پختون خوا سکیم، نوے سحر لیپ ٹاپ سکیم، با چاخان خپل روز گار سکیم، پشتو زبان کو سکول سطح پر لا زمی مضمون قرار دینا، صوبے میں پانی سے بجلی بنانے کے منصوبے، تنگی کرم ڈیم منصوبہ، مر دان سپورٹ کمپلیکس، عبدالو لی خان سپورٹس کمپلیکس چا ر سدہ، ارباب سکندر خان فلائی اوور، تو ر غر ضلع کا قیام، بٹا گرام ، کو ہستان، تو ر غر اور اوگئی پر مشتمل اباسین ڈویژن کی منظو ری وغیرہ اس کے نمایاں کام ہیں لیکن ایک طر ف اگر اے این پی حکومت نے اچھے اور تعمیری کام کئے تو دوسری طر ف اے این پی سے کچھ غلطیاں بھی سر زد ہو ئیں جسکی وجہ سے اے این پی حکومت کو 2013 کے عام انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں کے پی کے میں حد سے زیادہ لو ڈ شیڈنگ، امریکہ اور مغرب کی اسلام اور پختون دشمن پالیسیوں کی دبے الفاظ میں بھی مذمت نہ کرنا، تحصیل ، ضلع اور ڈویژن لیول پر مقامی قیادت کا عوام کے ساتھ رابطے نہ ہونا اور بد عنوانی کے الزاما ت شامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی ما ضی میں صوبے میں کرپشن روکنے میں زیادہ کامیابی حا صل نہ کر سکی۔ اے این پی کے دور حکومت میں یہ رائے تھی کہ مختلف سرکاری اداروں میں خالی آسامیاں بیچی گئیں۔اے این پی صوبے میں اور پاکستان پیپلز پارٹی وفاق میں اپنے دور حکومت میں بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ میں ناکام رہیںجسکی وجہ سے عوام کی رائے پاکستان پیپلز پا رٹی اور اے این پی کے خلاف 2013 کے الیکشن میں کافی حد تک بدل گئی۔ بجلی لوڈ شیڈنگ کی بات تو یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ ماہ رمضان میں برف کے حصول کے لئے لڑائیوں کی نوبت آگئی تھی جسکی وجہ سے قتل و غارت کے زیادہ واقعات ہوئے۔ پی پی پی اور اے این پی کے دور حکومت میں بجلی اور گیس کی جتنی لوڈ شیڈنگ ہوئی تھی وہ ماضی اور ماضی قریب میں کسی دور میں نہیں ہوئی۔امن و امان کی صورتحال اتنی دگرگوں تھی کہ دہشت گر دی اور انتہا پسندی کے واقعات میں سب سے زیادہ پا رٹی ورکرز اور رہنماء عوامی نیشنل پارٹی کے ٹار گٹ ہوئے ۔اب جبکہ 2018کے انتخابات قریب ہیں عوام ایک دفعہ پھر ان پا رٹیوں کا ازسر نو جائزہ لے رہے ہیں۔ایک سروے کے مطابق اب تک اے این پی نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے جتنے اُمیدواروں کو پا رٹی ٹکٹ دئیے ہیں،اے این پی کے ورکروں میں انکے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اداریہ