Daily Mashriq


اے شام غم بتا کہ سحر کتنی دور ہے

اے شام غم بتا کہ سحر کتنی دور ہے

ایسے واقعات پر مجھے چپ سی لگ جاتی ہے۔ ذہن و دل میں ایک طوفان سا برپا ہوتا ہے مگر اظہار کی قوت جیسے سلب ہوجاتی ہے۔ ایسے موقعوں پر فارغ بخاری کا یہ شعر میرے اندر کی کیفیت کا ترجمان بن جاتا ہے۔

ضبط کرتا ہوں تو درد اور سوا ہوتا ہے

میرے اندر کوئی بچوں کی طرح روتا ہے

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جس سے پورا معاشرہ دکھ اور کرب کی کیفیت سے دوچار ہے۔ میڈیا والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ لگ بھگ اسی قسم کے گیارہ واقعات اسی سال رونما ہوچکے ہیں۔ مگر میں تو چند برس پہلے کا قصور ہی کا ایک واقعہ یاد دلانا چاہتا ہوں جب اسی شہر میں جہاںچند روز پہلے زینب جیسی پھول کی مانند بچی کو بہیمانہ طریقے سے مسل دیاگیا چند سال پہلے سماویہ نام کی ایک معصوم سی کلی کو اسی قسم کے حالات کا شکار کیاگیا تھا۔ اس کی عمر صرف چھ سال تھی۔ اس واقعے پر میں نے ایک نظم رقم کی تھی پہلے وہ برداشت کیجئے۔ اس کے بعد بات کو آگے بڑھائیں گے۔ نظم کا عنوان تھا ’’ سماویہ کے قتل پر!‘‘

چلو ماتم کریں مل کر

کہ جب تک فاطمہ کے قاتلوں کو

کیفر کردار تک پہنچا نہ دیں

ماتم کریں ہم سب

یہ کیا اندھیرہے کہ

اک فرشتے کو

بہیمانہ طریقے سے

کسی بد بخت نے یوں روند ڈالا

جیسے کوئی پھول کو مٹھی میں لے کر

پھر مسل ڈالے

وہ میری فاطمہ

تیری زلیخا

یا کسی کی ماریا ہوگی

وہ کوئی بھی رہی ہو

نام میں رکھا ہی کیا ہے

پھول کو جس نام سے بھی تم پکارو گے

وہ اک مسکان کے سائے تلے

خوشبو سے سب ماحول کو

گل رنگ کردیتا ہے

تو پھر آئو ہم ماتم کریں

اپنی بہیمت پر!!

خواہ وہ چند سال پہلے ظلم و بربریت کا شکار ہونے والی سماویہ تھی یا پھر چند روز پہلے ہماری قومی بے حسی پر سوال اٹھانے والی زینب۔ یا پھر اسی نوع کے دوسرے واقعات میں حوا کی مظلوم بیٹیوں کو اسی معاشرے کے افراد کے ہاتھوں تذلیل کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ صورتحال ہمیں قوموں کی صف میں کس مقام پر کھڑا کر رہی ہے یہ سوال معاملات کا صرف ایک رخ ہے جبکہ دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ شرمندگی کا باعث ہے اور وہ ہے بحیثیت ایک قوم ہماری حد درجہ منافقت اور خود غرضی۔ ان واقعات کی ذمہ داری حکومتوں پر یقینا عائد ہوتی ہے جن کے روئیے اور (غلط) پالیسیاں ایسے واقعات کی روک تھام میں بری طرح ناکامی سے دو چار ہیں۔ ا س لئے اصولی اور اخلاقی طور پر حکمرانوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے اور اگر اس حوالے سے سماجی اور سیاسی سطح پر احتجاج کیا جا رہا ہے تو اسے جائز قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے۔ مگر افسوس اس بات پر ہے کہ احتجاج کے اندر سے ذاتی مفادات‘ خود غرضی اور منافقت کی چنگاریاں پھوٹتی دکھائی دے رہی ہیں۔ قصور کی زینب کے ساتھ کسی بد بخت کے بہیمانہ اور سفلی جذبات پر مبنی اس گھنائونے جرم پر قصور کے عام شہریوں کا احتجاج تو یقینا کوئی معنی ضرور رکھتا ہے اور یہ ان کا حق ہے مگر جس طرح ہمارے سیاسی رہنما منہ سے کف اڑاتے ہوئے اس سانحے کو اچھال رہے ہیں اس کے پیچھے متاثرہ خاندان کے ساتھ ہمدردی سے زیادہ صرف اور صرف سیاسی فائدہ اٹھا کر حکومت کو ہراساں کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ وگرنہ ابھی حالیہ مہینوں میں ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گائوں میں جس طرح حوا کی ایک بیٹی کو سر بازار برہنہ کرکے گلیوں میں گھمایاگیا اور پولیس کی بے حسی کا یہ عالم تھا کہ بجائے متاثرہ خاندان کی جانب سے اس شرمناک سانحے پر ایف آئی آر کاٹی جاتی الٹا اس خاندان پر دبائو ڈالا گیا۔ کیونکہ اس میں مبینہ طور پر ایک صوبائی وزیر ملوث تھا۔ اس سانحے پر نہ تو طاہر القادری کی زبان کھلی‘ نہ شیخ رشید نے کوئی تبصرہ کیا اور تو اور سراج الحق اور عمران خان کی زبانیں بھی گنگ ہوگئی تھیں جبکہ اپوزیشن کی دوسری جماعتوں نے بھی اس پر کوئی ہنگامہ کھڑا کیا نہ ہی جلوس نکالا۔ کیا وہ خاتون جسے یوں سر بازار رسوائی اور عبرت کا نشان بنایاگیا کیا وہ کسی کی بیٹی نہیں تھی۔ ان واقعات کے علاوہ روز کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی خبر ایسی آجاتی ہے جس میں حوا کی کسی بے بس بیٹی کو پنچائیت‘ جرگے کے حکم پر یا تو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ اس سے پہلے ہونے والے واقعات کے کرداروں کی بے حرمتی کا بدلہ چکایا جائے۔ یا پھر سات آٹھ ‘ دس بارہ سال کی کسی بچی کو ونی کردیا جاتا ہے یا سورہ بنا کر ساری ندگی سسرال کے طعنے سننے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ مگر جس پنچائیت یا جرگے نے یہ فیصلے صادر کئے ہوتے ہیں ان میں سے آج تک کسی کو بھی نشان عبرت بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہ اور اس قسم کے کئی سوال ہم سے جواب چاہتے ہیں تو ذرا سوچئے!!! بقول حبیب جالبؔ

اے شام غم بتا کہ سحر کتنی دور ہے

آنسو نہیں جہاں وہ نگر کتنی دور ہے

متعلقہ خبریں