مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابو ایوب سخیافیؒ کے سلسلہ سند سے حضرت مجاہدؒ سے مروی ہے کہ ایک روز حضرت علیؓ عمامہ باندھے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے۔ فرمانے لگے: ایک بار میں مدینہ منورہ میں شدید بھوک کا شکار ہوگیا جس کی وجہ سے میں مزدوری کی تلاش میں مدینہ کے اطراف میں نکل گیا۔ وہاں پر کھجور کے عوض ایک خاتون کے ہاں میں نے مزدوری کی۔ ہر ڈول کے عوض ایک کھجور اجرت طے پائی۔ میں نے16ڈول پانی کے کھینچے حتیٰ کہ میرے ہاتھ شل ہوگئے۔ پھر میں عورت کے پاس گیا اور 16کھجوریں لے کر نبی کریمؐ کے پاس پہنچ گیا اور میں نے آپؐ سے عرض کیا: حضور! یہ کھجوریں آج کی میری مزدوری کا عوض ہیں‘ پھر آپؐ نے بھی میرے ساتھ کچھ کھجوریں تناول فرمائیں۔صحابہ رزق حلال کمانے کے لئے محنت مزدوری کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرتے۔
حضرت عبدالعزیز بن ابی روادؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت محمد بن واسعؒ کے ہاتھ میں ایک پھوڑا نکلا ہوا دیکھا‘ وہ مجھے چیں بہ جبیں دیکھ کر فرمانے لگے: کیا تم جانتے ہو کہ اس پھوڑے میں میرے اوپر کیا انعام ہوا؟ حضرت محمد بن واسعؒ پہلے قدرے خاموش ہوئے پھر فرمایا: رب تعالیٰ نے یہ پھوڑا میری آنکھ کی سیاہی پر نہیں نکالا‘ نہ میری زبان پر اور نہ میرے کسی اور عضو پر نکالا بلکہ خدا نے یہ پھوڑا ہاتھ پر نکال کر اس کو میرے لئے ہلکا کردیا۔یہ شکر گاری کا انداز ہے کہ تکلیف کو بھی احسان سمجھ لیا۔
حضرت سعید بن مسیبؒ نے وفات پائی تو انہوں نے دو یا تین ہزار دینار ورثاء کے لئے ترکہ میں چھوڑے اور فرمایا:میں نے ترکہ میں اتنے سارے دینار صرف اس لئے چھوڑے ہیں تاکہ تم ان کے ذریعے اپنے دین اور حسب کو محفوظ رکھ سکو۔
دوسروں کی مدد کرنا اور ان کے وقت پرکام آنا صحابیاتؓ کا عام شیوہ تھا۔ غزوہ احد میں حضرت صفیہؓ اپنے بھائی سید الشہداء حضرت امیر حمزہؓ کے کفن کے لئے دو کپڑے لائیں لیکن ان کی لاش کے پاس ایک انصاری کی لاش بھی برہنہ نظر آئی‘ دل میں شرمندہ ہوئیں کہ حمزہ دو کپڑوں میں کفنائے جائیں اور انصاری کے لئے ایک کپڑا بھی نہ ہو‘ چنانچہ ایک کپڑا انصاری صحابیؓ کے کفنانے کے لئے دے دیا۔ایثار ہو تو ایسا۔ (مسند احمد بن حنبل)
عبدالواحد بن زیدؒ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں بازار گیا۔ راستے میں ایک شخص ملا جس کو جذام کی بیماری تھی اور بدن میں زخم بھی تھے۔ گلی کے لڑکے اس کو پتھروں سے مار رہے تھے جس کی وجہ سے اس کا چہرہ خون آلودہ تھا لیکن اس کے ہونٹ حرکت کر رہے تھے۔ میں اس کے قریب گیا تاکہ بات سن سکوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے: میں نے سنا کہ وہ شخص کہہ رہا ہے‘ اے میرے رب تو خوب جانتا ہے‘ اگر میری ایک ایک بوٹی قینچی سے کاٹ دی جائے اور میری ہڈیاں آرے سے چیر ڈالی جائیں تو بھی میری محبت تیرے ساتھ بڑھتی جائے گی۔ اب تجھ کو اختیار ے جو چاہے کر۔
(صفتہ الصفوۃ ج4صفحہ نمبر11)

اداریہ