Daily Mashriq

جمہوریت کا عملی مفہوم

جمہوریت کا عملی مفہوم

اگرچہ دنیا میں انسان کے قدر و احترام اور اسی تناظر میں بشری حقوق (Human Rights) کا بنیادی اور پکا وجامع تصور اسلام ہی کے طفیل عام ہوا لیکن خلفائے راشدہ کے مبارک ادوار کے بعد بنی امیہ' بنی عباس' عثمانیوں اور مغلوں وغیرہ کی طول طویل ادوار میں مسلمان بادشاہوں' آمروں اور ملوکوں کی حکومتوں میں ہر لحاظ سے ترقی ہوئی۔ لیکن انسانی حقوق اور انسان کے عزت و احترام اور بالخصوص فکری آزادی کو زوال آیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمان فلاسفر' علماء اور سائنسدانوں پر بتدریج جمود طاری ہونے لگا۔ عباسی دور میں ایسے بادشاہ بھی بر سر اقتدار ہوئے جن کی یہ خواہش رہی کہ وہ سینکڑوں سال عمر پائیں اور جوان رہیں۔ ان کی تجوریاں سیم و زر سے بھر گئی تھیں اور دنیا جہاں کی نعمتیں ان کے قدموں میں ڈھیر ہوتی تھیں۔ ایسے میں حقیقی معنوں میں علماء و ساسائنسدان ان کے درباروں سے آہستہ آہستہ کنارہ کش ہونے لگے۔ یوں عبقری لوگ یا تو زمانے کی دست برد اور بے قدری کے ہاتھوں ضائع ہوئے یا انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے اپنی تحقیق و تخلیق کو تحریری صورت میں محفوظ کیا کہ شاید آنے والی نسلوں میں کوئی اس کا قدردان نکلے۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ امت مسلمہ کی غنودگی بہت طویل ہوگئی۔ ظاہری طور پر عباسی' عثمانی اور مغلیہ ادوار میں انتظامی طور پر شاندار حکومتیں بھی رہیں لیکن اموی و عباسی ادوار کے ابتدائی سنہری برسوں کے بعد کوئی ایسا محقق' موجد اورعالم سامنے نہ آسکا جو امت مسلمہ کے فکری و تہذیبی جمود میں ارتعاش پیدا کرتا۔ اورپھر اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جو قوم اپنی حالت خود بدلنا نہیں چاہتی اور اپنی کمزوریوں کو رفع کرنا نہیں چاہتی اس کی جگہ دوسری قوم آجاتی ہے۔ وسیع و عریض ہندوستان پر مسلمانوں کے ہزار سالہ دور اقتدار کو اچانک زوال نہیں آیا بلکہ بادشاہوں اور نوابوں کی عیاشیوں اور خانہ جنگیوں نے ان کو پارہ پارہ کردیا۔تب اندلس اور ہندوستان میں مسلمانوں کی عظیم حکومتیں ختم ہوئیں اور لاکھوں کروڑوں مسلمان ان اقوام کے غلام بن گئے جنہوں نے علم و تہذیب اور حکومت و اقتدار کا درس اسلام اور مسلمانوں سے سیکھا۔اگر مسلمان امت یونان' روما اور ہندوستان کے علمی شہ پاروں کو عربی زبان میں منتقل نہ کرتے اور ان پر حاشیے اور شروح نہ لکھتے تو مغرب اور دیگر اقوام کو لا طینی اور یورپی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لئے علم کے یہ انمول موتی کبھی ہاتھ نہ آتے۔ اور مغرب کو سب سے بڑا علم کا خزانہ بلکہ شاہ کلید قرآن کریم کے لا طینی اور انگریزی ترجمے کی صورت میں میسر آیا۔قرآن کریم کے علوم کے ذریعے مغرب کے فلاسفر کو اکرام و احترام انسانیت کے علاوہ حریت فکر اور غور و تدبر کا وہ درس ملا جس کے ذریعے انہوں نے اپنے اجتماعی معاملات کے سنوارنے کے لئے آخر کار جمہوریت کے نام سے وہ نظام حکومت رائج کیا جس نے ایک طرف ایک آدمی ایک ووٹ کے ذریعے مساوات کا سبق دیا اور دوسری طرف اپنے حکمرانوں اور انتظامیہ بالخصوص بیورو کریسی (جو ہمارے ہاں براکریسی بن کر سامنے آئی ہے) کو سول سروس کا نام دے کر عوام کی خدمت اور ان کی مشکلات حل کرنے پر مامور کیا۔

آج امریکہ اور یورپ میں کوئی سول سرونٹ( بیورو کریٹ) ان حقوق و مراعات اور بالخصوص تحکم (Authority) کا مالک نہیں جو پاکستان یا دیگر اسلامی ملکوں میں بیورو کریسی کو حاصل ہے۔ انگریز نے ہندوستان میں اپنی بیورو کریسی کو جو تربیت دی وہ ہندوستانیوں کو غلام رکھنے اور حریت فکر سے محروم رکھنے کے لئے تھی۔ اور یہی برطانوی بیورو کریٹس جب آزادی ہند وپاک کے بعد واپس انگلستان چلے گئے تو ان کو گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعے فارغ کردیا۔ ان کو بتایا گیا کہ آپ لوگوں کے سر میں ہندوستانیوں پر حاکمانہ انداز میں کام کرتے ہوئے جو خناس پیدا ہوچکا ہے وہ برطانیہ کے آزادی پسند اور با وقار عوام کے مزاج کے خلاف ہے۔ لہٰذا حکومت کے لئے آپ لوگوں کے رویے سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

ہندوستان پر حکومت کے دوران انگریز کی بیورو کریسی نے یہ سارے کروفر ہندوستان کے نوابوں کے درباروں سے اخذ کئے تھے اور خود کو بڑے نوابوں کا متبادل بنا کر حکمرانی کا نظام چلایا جو برطانیہ میں ممکن نہیں تھا۔یہی چیز ہمارے معاشرے میں آج تک رائج ہے۔ انگریز چلا گیا لیکن ہماری فکر آزاد نہ ہوسکی اور ہماری بیورو کریسی کے ذہن سے حکمرانی کانشہ نہ نکلا۔

بابائے قوم نے ان کی اسی جبلت کے پیش نظر ان سے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ '' تم لوگ ملک و قوم کے خادم ہو'' لیکن وہ نشہ ہی کیا جو ترشی سے اتر جائے۔

ہماری بیورو کریسی آج اسی حال پہ پہنچی ہے کہ وزیر اعظم اور وزراء ان کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ کسی حکمران کا کوئی پروگرام یا منصوبہ تب کامیابی سے ہم کنار ہوسکتا ہے جب بیورو کریٹس کو اپنی من مانیاں کرنے کی پوری آزادی ہو۔ عوام بے شک ان کے اور گردش زمانہ کے غلام ہی رہیں انسانی عظمت کا راز آزادی اور حریت فکر میں ہے۔ اختراع و ایجاد' تخلیق و تحقیق' تہذیب و ترقی تب ممکن ہوتی ہے جب عوام کو انسانی وقار حاصل ہو۔ عمران خان کوشش میں ہیں کہ پاکستانی عوام کو حقیقی معنوں میں جمہوری اقدار سے روشناس کرائیں لیکن کیا دو بڑی سیاسی جماعتوں کی پروردہ بیورو کریسی ان کو ایسا کرنے دے گی؟ یہ وقت بتائے گا۔ اگر کامیابی ہوئی تو عوام جمہوریت کے عملی مفہوم کو دیکھ سکیں گے۔

متعلقہ خبریں