Daily Mashriq


اب واضح باتیں کریں

اب واضح باتیں کریں

حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے بات کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی نیتیں درست ہیں اس میں کوئی شک نہیں انہیں حکومت کرنا نہیں آتی اس کا کسی سے پردہ نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سب اچھا ہو جائے لیکن یہ سب کرنے کا طریقہ انہیں معلوم نہیں۔ میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ جب تک موجودہ حکومت اپنے اپوزیشنی خول سے باہر نہ نکلے گی اور اپنے لئے ٹیم نہ بنائے گی اس وقت تک اس حکومت کے لئے اپنے اہداف کا تعین کرنا اور ان تک راستہ تلاش کرنا مشکل ہی نہیں تقریباً ناممکن ہوگا۔ اگرچہ اب اس صورتحال میں آہستہ آہستہ تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ وزراء کو اپنی سمت دکھائی دینے لگی ہے اور وہ اپنے اپنے حلقہ اقتدار' اپنی اپنی وزارتوں میں آسودہ ہو رہے ہیں۔ لیکن اس ساری تبدیلی میں کئی ماہ گزر چکے ہیں۔ تنقید میں تندی بڑھتی جا رہی ہے اور حمایت کرنے والوں کو اس تنقید میں کہیں کہیں حقیقت کی رمق نظر آنے لگی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اس ملک کی وہ واحد حکومت ہوگی جسے عوام کی جانب سے اس قدر حمایت حاصل تھی اور عوام کی ان سے اس قدر امیدیں وابستہ تھیں۔ لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ اگر یہ تبدیلی عوام کے لئے وہ کامیابیاں حاصل نہ کرسکی جس کا اس نے وعدہ کیا تھا تو بھی کچھ کارنامے ایسے ہیں جو اس ملک میں سیاسی آگہی اور بالیدگی کے حوالے سے ہمیشہ اسی جماعت کے سر رہیں گے۔ اسی جماعت کا خصوصاً عمران خان کا یہ کارنامہ ہوگا کہ وہ اس ملک کے عوام میں احتساب کا شعور پیدا کریں گے۔ انہیں یہ احساس دلانا کہ یہ ملک در اصل ان کا ہے اور اس ملک کے وسائل کے بہیمانہ اور بے دریغ استعمال کا کسی حکمران کو کوئی حق نہیں' انہی کے سر ہوگا۔ یہ احتساب اور آزادی کہ ایک ایسا وزیر اعظم ہائوس جہاں جناب وزیر اعظم مقیم بھی نہیں اور جسے کفایت شعاری کے لئے استعمال نہیں کیا جا رہا اس کا بجلی کا بل کئی کروڑ کا ہے۔ اگرچہ جناب عمران خان کی جانب سے اس معاملے کا آڈٹ کروانے کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں۔ لیکن اس معاملے کا میڈیا میں آنا بھی اس حکومت کی ایک کامیابی ہے۔ اگر یہ حکومت چیف جسٹس کی مدد سے ایک بھی ڈیم بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اتنے درخت لگانے میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ اس ملک کا موسم واضح طور پر تبدیل ہوتا دکھائی دے۔ پوری دنیامیں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے تشویش ہے۔ کئی بڑے ممالک اپنے انداز زندگی میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ اپنے شہروں میں ایسی تبدیلیاں کر رہے ہیں جس کے باعث وہ بارش کے پانی کو زیادہ سے زیادہ اور بہتر طریقے سے استعمال کر سکیں گے۔ لیکن پاکستان گلو بل وارمنگ کے اثرات سے متاثر ہونے والے ممالک میں دس شدید متاثر ملکوں کی فہرست میں ہے۔ اگر یہ حکومت اس فہرست میں پاکستان کی پوزیشن تبدیل کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو شاید یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ لیکن اس سب کے باوجود جب تک ایک عام آدمی کی زندگی نہ بدلے گی' گیس کی بلا تعطل سپلائی نہ ہوگی' بجلی کے نرخ نہ کم ہوں گے' پٹرول کی قیمت نہ گھٹے گی' سبزیوں کے دام کم نہ ہوں گے عام آدمی مطمئن نہ ہوگا۔ بے گھروں کے لئے پناہ گاہیں بنانا تو بہت اچھی بات ہے' رفاہ عامہ حکومت کا کام ہے لیکن لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا اور بھی زیادہ اہم ہے۔ حکومت وقت کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستانی دنیا کی سب سے زیادہ چیریٹی دینے والی قوم ہیں۔ زکواة' صدقہ' خیرات ہمارے ہاں چیریٹی کے کئی نام ہیں۔ کئی کاموں کے لئے اگر وزیر اعظم مخیر حضرات سے اپیل کریں تو وہ بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ بیت المال کی جانب بھی توجہ رکھیں' اوقاف کی جانب نظر دوڑائیں' پناہ گاہیں بنانا مشکل نہ ہوگا۔ اگر نظام درست ہوگا تو کئی چیزیں اپنے آپ سنور جائیں گی۔ لیکن اس سب کے لئے ضروری ہے کہ وزیرا عظم عقل مند وزراء کو اپنے ساتھ رکھیں محض عمر کی بنیاد پر ان کی سمجھ بوجھ کے حوالے سے فیصلے کرنا درست نہیں۔

منی بجٹ کی بھی آمد آمد ہے لوگ اس سے خوفزدہ بھی ہوں گے اور یہ بھی محسوس کریں گے کہ مشکلات کا ایک نیا دور ان کا منتظر ہے۔ اس سب کے بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ میاں نواز شریف' شہباز شریف کی سزائوں کے بعد اس سب کا کیا حاصل ہے۔ کونسی برآمدگیاں کی گئیں' کونسے پیسے خزانے میں جمع ہوئے' آصف زرداری ' فریال تالپور بھی اگر جیل میں ہوں' ایم کیو ایم کے رہنما جیل میں ہوں' اے این پی کے رہنمائوں کی پرانی کار گزاریاں نکالیں۔ وہ جیل چلے جائیں ' مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں کی چھان پھٹک کریں' لیکن خزانے میں کچھ نہ آئے۔ ہم پھر بھی خوش رہیں گے کہ انہیں اور لوٹ مار کا موقع نہیں ملا لیکن کوئی وقت کا تعین بھی تو کریں کہ قوم کب تک کسی بات کی امید نہ رکھے' اس کے بعد آہستہ آہستہ حالات ٹھیک ہونا شروع ہوں گے۔ اس کے بعد عمران خان اپنے وزراء کو بھی یہی ٹارگٹ دیں لیکن کچھ تو کہیں۔ کسی پالیسی کا اعلان تو کریں۔ امید و بیم کے درمیان جھولنا بہت ہوچکا۔ اب واضح باتیں ہونی چاہئیں۔

متعلقہ خبریں