Daily Mashriq


ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

وہ درخت کی جس شاخ پر بیٹھا ہوا تھا اسی کو آری سے کاٹ رہا تھا ، اور یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ جو شاخ کٹتی ہے اس پر بیٹھا ہوا شیخ چلی دھڑام سے نیچے آ گرتا ہے۔ ہم نے اپنی گنہگار آنکھوں سے ایسے بہت سارے شیخ چلی کٹی شاخوں سے گرتے دیکھے ہیں جو اس شاخ کو کاٹنے میں کوئی تامل نہیں کرتے تھے جس پر وہ بیٹھے زندگی کے جھولے جھولتے ر ہے۔ ایسے لوگ دریا کے اس پار اترنے کے لئے جس کشتی میں سوار ہوتے ہیں اسی کو چھید نے لگتے ہیں۔ جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں تھوکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن شیخ چلی اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے نہ صرف اچھے لفظوں سے یاد کیا جانے لگا بلکہ اس کی زعفرانی شخصیت کے چرچے رہتی دنیا تک باقی رہ گئے سو ہم اپنے ارد گرد پھیلے درختوں کی شاخوں پر بیٹھ کر ان کو بے دردی سے کاٹنے والے ان شیخ چلیوں کو دیکھ کر گزرے زمانے کے اس بھولے باچھا کو یاد کرنے لگتے ہیں جس کی اس احمقانہ حرکت کو دیکھ کر کسی بھلے مانس نے اس سے کہا تھا۔ ارے ارے یہ تو کیا کر رہا ہے بے وقوف آدمی۔ بے وقوف ہوگا تو یا تیر کوئی اگلا پچھلا۔ تمہاری آنکھیں ہیں یا آلو۔ دیکھتے بھالتے پوچھ رہے ہو کہ میں کیا کررہا ہوں۔ اگر نظر نہیں آتا تو بتائے دیتا ہوں کہ میں لکڑیاں کاٹ رہا ہوں۔ کیا جواب دیتا بھلے مانس اس کی لمبی چوڑی مگر گستاخ لہجے والی تقریر کا۔ وہ خاموش رہا اور دل ہی دل میں یہ سوچتا آگے بڑھ گیا کہ

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے

انجام گلستاں کیا ہوگا

مگر اس شاخ پر الو ہی نہیں الو کا پٹھا بیٹھا ہوا تھا جس کو سمجھانا نہ سمجھانا ایک جیسا ہی نہیں پچانوے کے گھاٹے جیسا تھا۔اگر وہ یہ بات دل ہی دل میں نہ سوچتا تو اسے مزید لمبی تقریر سننی پڑتی۔ اور یہ بھی ممکن ہوتا کہ وہ صرف تقریر ہی نہ سنتا اسے گالیاں بھی سننی پڑتیں اور نوبت گالم گلوچ سے بڑھ کر ہاتھا پائی یا سر پھٹول تک جا پہنچتی۔ جبھی تو کسی نے کہا ہے کہ

اس بھگیا کے بھید نہ کھولو

سیر کرو خاموش رہو

وہ جو کسی نے کہا ہے کہ خاموشی عقل مندی کی علامت ہے جبھی خاموش رہنے والوں کو عقل مند سمجھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک جگہ بڑا شور شرابا ہورہاتھا۔ تالیاں پیٹنے اور سیٹیاں بجانے کی آوازوں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اس شور شرابا اور ہنگامے کی وجہ پوچھی گئی تو بتایا گیا کہ خاموشی کے موضوع پر دھواں دار تقاریر ہورہی ہیں۔ اور ان کی باتیں سننے والے تالیاں پیٹ پیٹ کر اور سیٹیاں بجا کر عش عش کررہے ہیں۔ ان کو داد دے رہے ہیں ان کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں جس کے جواب میں تقریر کرنے والے کے لب و لہجہ میں جوش اور جذبے کے علاوہ چیختے چنگھاڑتے الفاظ شامل ہورہے ہیں۔ خاموش رہنا اتنا آسان نہیں بعض موقعوں پر تو خاموش رہا ہی نہیں جاسکتا۔ بات چیخ چیخ کر کہتی ہے تم مجھے منہ سے نکالو میں تمہیں شہر سے نکال باہر کروں گی۔ لیکن

بول کے لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

کے نظریات کے قائل فیض احمد فیض کی روح کو خوش کرنے کی خاطر نہ سہی اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے ہی بول پڑتے ہیں ۔ وہ اپنے اس عمل کو جرات اور بہادری سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور خاموش رہ کر عقل مند بنے رہنے کا شوق پالنے کا مظاہرہ کرنا کسر شان سمجھتے ہیں۔ ان کی نظر میں خاموش رہنے والا آدمی اپنے آپ کو لاکھ عقل مندکہتا پھرے بزدل ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ہر بندے کی عزت اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ برائی کو برا کہنے کی بجائے اسے دیکھتے بھالتے خاموش ہو رہتا ہے کہ اسی میں اس کو عافیت نظر آتی ہے۔ چونکہ وہ چپ رہتا ہے اس لئے ہر ظلم سہنا اور ٹھنڈی آہیں بھر بھر کر جینا اس کے مقدر میں لکھ دیا جاتا ہے۔ جب کہ بولنے والا مرنے کے بعد بھی کفن پھاڑ کر بولنے لگتا ہے ۔ بھلے مانس نے جب محسوس کیا کہ شیخ چلی اس کی کسی بات کو خاطر میں نہیں لا رہا بلکہ اس کے پندو نصوح کے جواب میں الٹی سیدھی ہانکنے لگا ہے تو وہ دل ہی دل میں لاحول ولاقوة کا ورد کر تا آگے بڑھ گیا۔ ایسے میں اسے دھڑام کی آواز آئی وہ سمجھ گیا کہ شیخ چلی نامی بھولے باچھا نے میری بات نہیں مانی اور وہ درخت کی کٹی ہوئی شاخ کے ساتھ دھڑام سے زمین پر آگرا۔ ہمارے ملک میں عنان اقتدار کی لاتعداد کرسیاں ہیں، شاخیں ہیں اس سایہ دار درخت کی جسے ہم مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان شاخوں پر بیٹھے یا ان شاخوں سے لٹکے اقتدارکی پینگیں جھولنے والوں میں کتنے ہیں جو درخت کی ان ہی شاخوں کو کاٹ رہے ہیں جن کے دم سے ان کا منصب ان کی پہچان کا سبب بنا ہوا ہے۔ کرسی چاہے وزارت عظمیٰ کی ہو چیف جسٹس کی یا کسی بہت بڑے عہدے دار یا متوسط درجے کے آفیسر اس کے کلرک کی کسی نے اسے بددیانتی کی چھری سے ادھیڑنے یا کاٹنے کی کوشش کی تو وقت کسی بھلے مانس راہگیر کی طرح اسے صرف اتنا کہہ کر گزر جائے گا کہ یہ تم کیا کررہے ہو، جس شاخ پر بیٹھے ہو اسی کو کاٹ دینے سے دھڑام کرکے نیچے آن گرو گے ، ان بہت سارے عبرت ناک کرداروں کی طرح جو کٹی ہوئی شاخ کے ساتھ نیچے گر کر بیتے زمانے کو کوس کوس کر پچھتا رہے ہیں ،اور بقول کسے

اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

متعلقہ خبریں