Daily Mashriq


سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری کا مسئلہ

سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری کا مسئلہ

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے سکولوں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کے لئے مختلف اوقات میں مختلف اقدامات ہوتے رہے ہیں۔لیکن بائیو میٹرک نظام ہو یا پھر مانیٹرنگ کے ذریعے سکولوں میں اساتذہ اور عملے کی حاضری و موجودگی یقینی بنانا کوئی بھی اقدام اور تجربہ کار گر اور کامیاب ثابت نہیں ہوپایا۔ ہر جگہ ملی بھگت سے کوئی نہ کوئی پتلی گلی تلاش کی جاتی ہے اور اضافی انتظامات اور اخراجات کے باوجود مطلوبہ مقصد کا حصول ممکن نہیں ہوپاتا۔ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک سرکاری ملازمین خاص طور پر اساتذہ میں من حیث المجموع خوف خدا پیدا نہ ہو اور وہ خوف خدا اور ملک و قوم کی خدمت کے جذبے کے تحت کام نہیں کرنے لگیں گے تب تک ہر سرکاری ادارے میں مسائل کا سامنا ہوگا ۔ وطن عزیز میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ خلاف قانون کام کرنے والے کے ساتھی اور معاونت کرنے والے افراد کی تعداد اصول پسندوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس معاشرے میں اگر کوئی درست راستہ اختیار کرنے کی سعی کرتا ہے تو بجائے اس کے کہ اس کی حوصلہ افزائی کی جائے الٹا ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر کے مایوسی کا شکار بنا دیا جاتا ہے ۔انتظامات میں جدیدیت اس وقت تک ممکن نہیں کہ غیر حاضر عناصر کا مکمل طور پر پتہ لگا یا جا سکے ۔ سکولوں کا دورہ کرکے حاضری چیک کرنے کے نظام کا توڑ بھی با آسانی نکالا جا چکا ہے۔ شاید ہی کوئی سکول ہوگا جہاں سربراہ اور ماتحت ٹیچروں میں ملی بھگت کا تعلق نہ ہو۔ اس ملی بھگت کے باعث دورہ کرنے والی ٹیموں کو پہلے سے لکھی ہوئی درخواست اس روز حفظ ما تقد م کے طور پر اچانک چھٹی کاتاثر دینے والا میسج وغیر ہ دکھانے کا پورا پورا بندوبست موجود ہوتا ہے جس کے باعث متعلقہ افسران اور عملے کے لئے اس امر کا تعین کرنا ممکن نہیں رہتا کہ آیا یہ حقیقی عذر خواہی ہے یا پھر تراشیدہ ۔ محکمہ تعلیم کے مقامی افسران کی غفلت و ملی بھگت اور چشم پوشی کا رویہ بھی اپنی جگہ بڑا مسئلہ ہے ایسے میں مقامی عمائدین اور سکول کے بچوں کے والدین سے مدد اور معلومات لیکر ہی چھٹی کر کے اگلے دن حاضر ی لگانے والوں کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے مگر ایسا کون کرے ۔ ہر طرف مایوسی کے اس عالم میں حکومت کی طرف سے اصلاح احوال کی جو بھی سعی کی جائے اس کے ضمن میں یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی نظام ہو اسے ناکام بنانے کا ماہر سرکاری عملے کے ممکنہ اقدامات کا توڑ بھی تلاش کیا جائے تا کہ اسے ممکنہ طور پر نتیجہ خیز ثابت کیا جا سکے ۔

حیات آباد میں بے تحاشا گرانفروشی

حیات آباد کی مارکیٹوں میں اشیائے صرف کی معمول سے زیادہ مہنگائی اور کئی گنا قیمتوں پر فروخت ایک ایسا سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس پر انتظامیہ اچھی خاصی کوششو ں کے باوجود ناکام رہی ہے ۔ انتظامی اقدامات کے ذریعے ناکامی کے بعد حکومتی اداروں کو یو ٹیلٹی سٹوروں کے ساتھ ساتھ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے زیر انتظام فیئر پرائس شاپس قائم کر کے عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے صرف کی فراہمی کا تجربہ کرنا چاہیئے۔ پی ڈی اے کے اہلکار اور انتظامیہ حیات آباد میں مارکیٹوں سے باہر خالی پلاٹوں پر کھڑے ہو کر مرغ فروشوں اور سبزی فروشوں کے خلاف آئے روز جو کارروائی کرتی ہے از روئے قانون اس میں کوئی کلام نہیں لیکن اس سے مارکیٹ میں سبزی فروشوں اور مرغ فروشوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ اگر پی ڈی اے حکام اور انتظامیہ بعض موزوں مقامات پر چھوٹے چھوٹے سٹال لگانے کی اجازت دیں اور سبزی فروشو ں کو جگہیں فراہم کی جائیں تو صفائی کی صورتحال کی رعایت رکھتے ہوئے شہریوں کو سہولت دینا اور گرانفروشوں کا مقابلہ ممکن ہوگا ۔پی ڈی اے نے ایف 9 میں سستا بازار کے نام پر پینتالیس ہزار فی دکان کرایہ پر دے کر گرانفروشی کی بنیاد خود ہی رکھ دی ہے۔ پرانی مارکیٹوں میں دکانوں کے کرائے ایک لاکھ روپے سے زائد ہیں جو حیات آباد میں گرانفروشی کی بنیادی وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حیات آباد کی تمام مارکیٹوں سے خریداری کرنے والے شہریوں کو معلوم ہے کہ قصابوں ، نانبائیوں تجاوزات کرنے والوں ، اشیائے خوردنی کی کھلے عام حفظان صحت کے اصولوں کے برعکس فروخت کرنے والوںسے کوئی پرسان حال نہیں ۔ جنرل سٹور ز مالکان سرکاری نرخنامے آویزاں تو کر تے دکھائی دیتے ہیں مگر اس کے مطابق نرخ وصول نہیں کئے جاتے۔ شہری آخر شکایت کریں تو کس سے کریں۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کو شکایت کرنے کیلئے ایک ایس ایم ایس سروس کا اجراء کیاگیاتھا ابتداء میں چند نمائشی اقدامات کے بعد اب ان تلوں میں بھی تیل باقی نہیں رہا جس کے بعد عوام بے رحم تاجروں اورمنافع خوروں کے رحم وکرم پر ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو ا س معاملے پر فوری طور پر چیف سیکرٹری اور کمشنر کی سطح پر اقدامات کی ہدایت کرنی چاہیے تاکہ عوام کو لوٹنے والوں کو لگا م دی جاسکے۔

متعلقہ خبریں