Daily Mashriq


پی آئی اے حادثے کی رپورٹ' کارروائی کسی کیخلاف بھی نہیں

پی آئی اے حادثے کی رپورٹ' کارروائی کسی کیخلاف بھی نہیں

سات دسمبر2016کو پی آئی اے کے جہاز اے ٹی آر 500-42)661-پی کے(جو چترال سے اسلام آباد آرہا تھا کے ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں کے نزدیک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہونے کی تحقیقاتی رپورٹ بالآخر دو سال کی تحقیقات کے بعد سامنے تو آئی ہے لیکن حسب دستور نہ تو کسی قسم کی ذمہ داری کا تعین کیاگیا ہے نہ ہی ذمہ دار افراد کا بتایاگیا ہے اور نہ ہی کوئی سزا تجویز کی گئی ہے۔ چونکہ یہ بہر حال ایک وجہ جاننے بارے تحقیقاتی رپورٹ تھی شاید اس کے بعد اگلے مرحلے میں مزید دو تین سال بعد ذمہ داران کا تعین ہونے کی نوبت آئے لیکن وطن عزیز میں کسی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ تکلف نہ کرنے اور معاملہ دبانے کی جو روایت ہے اس کا اعادہ ہی عین متوقع ہے۔پی آئی اے کی مذکورہ پرواز کے حادثے میں 47افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔یہ رپورٹ بھی فی الحال حتمی نہیں بلکہ ایس آئی بی کی جانب سے جاری کردہ ایک صفحے پر مشتمل ابتدائی رپورٹ کے مطابق تحقیقات حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہیں تاہم تکنیکی نوعیت کی کچھ معلومات کی جانب فوری توجہ دیے جانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بائیں ہاتھ پر نصب انجن نمبر1کے اسٹیج1کی پاور ٹربائن سے ایک بلیڈ نکال دینے کی وجہ سے حادثے کے محرکات کا آغاز ہوا، اس بلیڈ کو نکالنے کے باعث فلائٹ کے دوران ایک انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس نے پروپیلر نمبر1کے غیر معمولی طرز عمل میں اہم کردار ادا کیا۔پروازوں کی سروس دستاویز کے مطابق ان ٹربائن بلیڈز کو10ہزار گھنٹے کے استعمال کے بعد فوری طور پر تبدیل کیا جانا ضروری ہے، چنانچہ جب11 نومبر 2016کو انجن کی مرمت ہوئی تو یہ بلیڈ10ہزار 4گھنٹے تک استعمال ہوچکی تھی اور انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت تھی لیکن تبدیل نہیں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار جہاز مرمت کے بعد93گھنٹے تک پرواز کرچکا تھا، اس قسم کی کوتاہی پی آئی اے کی غفلت کی جانب اشارہ کررہی ہے جس کا کام مرمت اور کوالٹی کو یقینی بنانا ہے اور اس میں ممکنہ طور پر سی اے اے کی جانب سے نگرانی میں کوتاہی بھی شامل ہے۔رپورٹ کے حوالے سے تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں اگر ساری تفصیل سامنے آتی بھی ہے تو بھی ان تفصیلات میں کسی کے ذمہ دار ٹھہرائے جانے اور قومی فضائی کمپنی کے کسی عہدیدار یا پھر بطور کمپنی اس کے خلاف کارروائی کی امید نہ ہونے کے برابر ہے ۔ جو تفصیل دو سال کی عرق ریزی کے بعد سامنے لائی گی ہے یہ ایک میکنک کی سطح کی رپورٹ اور صورتحال کی توجیہہ ہے جو اس وقت بھی ممکن تھی بلکہ عین حادثے کے روز ہی چترال ائیر پورٹ پر موجود افراد اور چترال کی جن جن وادیوں سے یہ طیارہ ٹیک آف کے بعد بلندی کی طرف اٹھتے اٹھتے گزرا ہے ان وادیوں کے مکینوں نے اس طیارے کی خرابی کا پول کھول دیا تھا۔ چونکہ یہ عام لوگ تھے اس لئے ان کی کس نے سننا تھی۔ حادثے کے وقت اس وقت کے پی آئی اے کے چیئرمین اعظم سہگل کا کہنا تھا کہ طیارے کا اکتوبر میں چیک اپ ہوا تھا اور وہ مکمل طور پر ٹھیک تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ طیارہ2007 ء میں بنا اور اسی سال پی آئی اے میں شامل ہوا ۔جہازوں میں خرابیاں ہوتی رہتی ہیں اور انہیں دور بھی کیا جاتا ہے مگر پی آئی اے سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ خراب طیاروں کو استعمال کیا جائے گا۔ائیرلائن سیفٹی کے صفِ اول کے ماہر پروفیسر آرنلڈ بارنیٹ اس موقع پر ہی کہہ چکے تھے کہ پاکستان کی نجی ائیرلائنز بین الاقوامی ائیر لائن سیفٹی رینکنگ کا حصہ بننے کے لیے بہت چھوٹی ہیں، مگر پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے اکثر اس لسٹ میں رہتی ہے، ہر غلط وجہ کے لیے۔ یہ اپنے خراب سیفٹی ریکارڈ کی وجہ سے دوسری ائیرلائنز سے ممتاز ہے۔ماہرین کے مطابق حکومت، خاص طور پر سول ایوی ایشن اتھارٹی میں موجود ریگولیٹری حکام پاکستان میں موجود ائیر لائنز کے خراب سیفٹی ریکارڈز پر غفلت کی حد تک خاموش رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم پاکستان میںائیرلائن سیفٹی کی حالتِ زار پر سنجیدگی سے غور کریں۔حادثے کے وقت پی آئی کے چیئر مین نے جن امکانات کی سراسر نفی کی تھی تحقیقات میں وہ طشت از بام ہو کر سامنے آچکے ہیں۔ چیئر مین پی آئی اے کا وہ دعویٰ ہی جھوٹ نکلا جس میں انہوں نے اکتوبر میں طیارے کے چیک اپ کا دعویٰ کیا تھا۔ پی آئی اے کے چیئر مین کا موقف ایس آئی بی کی تحقیقات کی رپورٹ میں سراسر غلط ثابت ہونے کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ کیا موقف اختیار کریگی اس کا اندازہ چنداں مشکل نہیں۔ یہ معاملہ سینتالیس افراد کی زندگیوں کا تھا لیکن ہمارے ہاں انسانی زندگی کی کوئی قیمت اور کوئی وقعت کم ہی جانی جاتی ہے۔ اس لئے اس ضمن میں کسی قسم کی بھی تادیبی کارروائی اور ذمہ داری قبول کرنے کی توقع عبث ہوگی سوائے اس کے کہ مرحومین کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر افسوس کا اظہار کیا جائے ان کی مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی جائے۔

متعلقہ خبریں