Daily Mashriq

بھارت کی آزاد کشمیر پر قبضے کی دھمکی

بھارت کی آزاد کشمیر پر قبضے کی دھمکی

مودی کے دوسرے دورحکومت میں پورے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں'5اگست کو کرفیو لگا کر کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کی گئی' پھر متنازعہ شہریت بل سے ہندوستان میں بسنے والی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کیلئے مشکلات کھڑی کر دی گئیں اور اب بھارتی حکومت کے ان اقدامات کیخلاف کشمیر سمیت پورے بھارت میں جلاؤ گھیراؤ اور مظاہرے ہو رہے ہیں' ان مظاہروں میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بشمول ہندو تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں، یوں بھارت کے اندرونی حالات انتہائی دگرگوں ہیں' ان نامساعد حالات کا تقاضا تو یہ تھا کہ بھارت اپنی اقلیتوں کے زخموں پر مرہم رکھ کر ان کے تمام گلے شکوے دور کرنے کی کوشش کرتا تاکہ اس کے اندرونی حالات سنبھل سکتے' لیکن بھارت کی سول وعسکری قیادت ہوش کے ناخن لینے کی بجائے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر رہی ہے' بھارتی آرمی چیف کا حالیہ بیان کشیدگی میں اضافے کا منہ بولتا ثبوت ہے، بھارت کے آرمی چیف جنرل منوج نے آزاد کشمیر پر قبضے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کہے تو پاکستان سے آزاد کشمیر لینے کیلئے فوجی کارروائی کریں گے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف کی ہرزہ سرائی کے ردعمل میں کہا ہے کہ پاک فوج بھارت کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار ہے۔27فروری2019ء کو بھارت کو مزہ چکھا چکے ہیں آئندہ جواب27فروری سے زیادہ سخت ہوگا۔ پاکستان کی سول وعسکری قیادت سمجھتی ہے کہ بھارت اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کیخلاف کسی قسم کی مہم جوئی کر سکتا ہے کیونکہ بھارت کو اپنے شہریوںکی جانب سے حالیہ احتجاج اور ہنگامہ خیزی سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے لیکن دوسری طرف پاکستان کی سول وعسکری قیادت مسلسل صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتی دکھائی دے رہی ہے جس کی بنیادی وجہ کمزوری نہیں بلکہ خطے کو ایٹمی جنگ کے خطرات سے بچانا ہے، کشمیر پر بھارتی قبضے کو 157دن بیت جانے کے باوجود پاکستان کی جانب سے ایسا کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا جو کشیدگی کا سبب بنتا ہو' پاکستان کی کوشش ہے کہ عالمی برادری بھارتی جارحیت کا نوٹس لے اور افہام وتفہیم سے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نکالنے کی سعی کی جائے' لیکن بھارت پاکستان کی امن کی کوشش کو کمزوری سمجھ رہا ہے اور مقبوضہ وادی کے بعد آزاد کشمیر میں مہم جوئی کیلئے پر تول رہا ہے' پاک فوج کے ترجمان نے اگرچہ دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ افواج پاکستان دفاع وطن سے قطعی طور پر غافل نہیں ہے لیکن بھارتی جارحیت کے مقابلے میں وزیراعظم عمران خان اب بھی مسلسل امن کیلئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں تاکہ خطے کو نقصان سے بچایا جا سکے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آر ایس ایس نظرئیے کی بنیاد مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کیخلاف نفرت اورنسلی بالادستی پر ہے' نسلی تعصب کا یہ جن جب بھی بوتل سے باہر آیا خونریزی کا باعث بنا ہے۔ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بھارت میں اقلیتوں کیساتھ ناروا سلوک سے عالمی برادری باخبر ہونے کے باوجود بھارت کیساتھ معاشی مفادات کی وجہ سے خاموش ہے' آر ایس ایس کا تو فلسفہ ہی یہ ہے کہ ہندوستان صرف ہندوؤںکا ہے' کیا عالمی دنیا میں آر ایس ایس کے اس نظرئیے کی کوئی مثال پیش کی جا سکتی ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت نے گزشتہ دو سالوں کے دوران عجلت بازی اور مسلم دشمنی میں جو اقدامات اُٹھائے ہیں ان کی وجہ سے بھارت گہری کھائی میں گر سکتا ہے اور بھارت اپنے تعصب پسندانہ اقدامات کی وجہ سے معاشی ترقی سے دور ہوتا جا رہا ہے' دریں حالات بھارت کی کوشش ہوگی کہ اپنی ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہو جائے' اسلئے ضروری ہے کہ بھارت کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور آزاد کشمیر کے عوام کو حالات سے آگاہ کرنے کیساتھ ساتھ انہیں چوکس رہنے کی تلقین کی جائے' پاک فوج اگرچہ ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن حالات کی سنگینی کے پیش نظر ضروری ہے کہ مشرقی سرحد پر اضافی نفری تعینات کی جائے تاکہ بزدل دشمن اپنے مذموم ارادے کو عملی شکل دینے کی کوشش نہ کر سکے۔

متعلقہ خبریں