Daily Mashriq

مشیر تجارت کا کاروباری طبقے سے شکوہ!

مشیر تجارت کا کاروباری طبقے سے شکوہ!

وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کاروباری طبقے کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانیوں میں عالمی وژن ہے نہ صبر' مشیر تجارت نے کاروباری طبقے سے شکوہ کیا ہے کہ بلاوجہ مہنگائی کی جا رہی ہے' اس سلسلے میں انہوں نے کاروباری طبقے سے اپیل کی کہ ''ہاتھ تھوڑا ہلکا رکھیں'' مشیر تجارت نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے معیشت کو بھاری نقصان کا ذکر کرتے ہوئے برآمدات کے اضافے پر ناقدین کے سوالوں کے جواب بھی دئیے۔ مشیر تجارت کی جانب سے کاروباری طبقے کے سامنے مہنگائی کی شکایت کرنا اور ہاتھ ہلکا رکھنے کی اپیل کرنا سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ مشیر تجارت حکومت کا اہم حصہ ہیں اور حکومت کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی سے بچائے' اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کاروباری طبقہ اپنی مرضی سے مہنگائی میں اضافہ کر رہا ہے؟ اگر مشیر تجارت ایسا کچھ سمجھتے ہیں تو تب بھی حکومت کی ہی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ متعین کردہ نرخ پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور عوام کو کاروباری طبقے کے رحم وکرم پر نہ چھوڑے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مشیر تجارت نے کاروباری طبقے سے مہنگائی بارے ہاتھ ہلکا رکھنے کا مطالبہ کر کے دراصل یہ تسلیم کر لیا ہے کہ حکومت کی رٹ کمزور ہے کیونکہ جب ریاست کی رٹ کمزور ہو جاتی ہے' مافیاز سرگرم ہو جاتے ہیں اور اپنی مرضی کے نرخ سے عوام کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں' اگر مشیر تجارت من مانے نرخ اور بلاوجہ کی مہنگائی کا سرمحفل ذکرکرنے لگیں تو عوام اپنے مسائل اور ہوش ربا مہنگائی کیلئے کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟

سیاحت سے جڑی چترال کی ترقی

صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی کے مطابق چترال سے شندور تک سڑک کیلئے صوبائی حکومت نے 15ارب 75کروڑ روپے اور چترال میں15پولو گراؤنڈز سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے فنڈز کی منظوری دی ہے' چترال اپنی دلکشی اور جغرافیائی حیثیت کے لحاظ سے سیاحت کیلئے خاص اہمیت کا حامل علاقہ ہے' اس لئے چترال کی تعمیر وترقی ناگزیر ہے اور سیاحت کے فروغ کیلئے چترال کیلئے ترقیاتی فنڈز کی فراہی کا اعلان خوش آئند ہے' یاد رہے صوبے میں چترال سمیت جتنے بھی خوبصورت علاقے ہیں' وہاں جانے کیلئے راستے انتہائی مخدوش ہیں' راستے نہ صرف کچے ہیں بلکہ پُرخطر اور مشکل بھی ہیں' ان پُرخطر راستوں پر مقامی لوگوں کے علاوہ دیگر سیاح سفر کرنے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ چترال میں سیاحتی منصوبے کو عملی شکل دینے کیلئے ضروری ہے کہ چترال کی طرف جانے والے راستوںکو کشادہ اور پختہ کیا جائے' اس کیساتھ ساتھ آرام دہ ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے اور سیاحت کیلئے درکار وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے کیونکہ اگر سیاحوں کو وسائل فراہم نہ کئے گئے تو وہ دوبارہ کبھی بھی پلٹ کر نہیں آئیں گے' ہم یقین کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اگر صوبائی حکومت اپنے منصوبے کے مطابق چترال کی سڑکوں اور پولو گراؤنڈز کو کم ترین عرصہ میں مکمل کرتی ہے تو اس اقدام سے نہ صرف چترال ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا بلکہ سیاحت کی مد میں صوبائی خزانے کو بھی فائدہ ہوگا۔ چترال کی ترقی سے متعلق ماضی کی حکومتوں میں متعدد اعلانات کئے گئے لیکن عمل درآمد کم پر ہی ہو سکا' ضرورت اس امر کی ہے کہ چترال کی ترقی کے منصوبے کو عملی شکل دی جائے تاکہ چترال کی محرومیاں دور ہوں اور علاقے کے دیرینہ مسائل حل ہوں۔

تعلیمی ایمرجنسی میں14اضلاع نظرانداز کیوں؟

صحت اور تعلیم دو ایسی بنیادی ضروریات ہیں جو عوام کو بلاتفریق یکساں فراہم کی جانی چاہئے' تعلیم کی ضرورت صحت سے بھی زیادہ قرار دی جا سکتی ہے کیونکہ کسی بھی سماج کے مستقبل کا دار ومدار تعلیم پر ہوتا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے گزشتہ دور حکومت میں تعلیمی ایمرجنسی پروگرام کے تحت تعلیمی اداروں کی تعمیر میں بعض اضلاع کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ2015-16ء میں صوبے کے 27اضلاع میں صرف13اضلاع میں ترجیحی بنیادوں پر 70گرلز سکینڈری سکولوں کی تعمیر کا منصوبہ منظور کرایا گیا جبکہ صوبے کے دیگر14اضلاع جس میں پسماندہ ترین اضلاع بھی شامل ہیںکو نظرانداز کیا گیا۔ پسماندہ اضلاع کی پسماندگی کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہاں تعلیم کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں حالانکہ پسماندہ علاقے تعلیمی توجہ کے زیادہ حقدار اور فنڈز کے حصول کے زیادہ متقاضی ہوتے ہیں' اس کے باوجود پسند اور ناپسند کو سامنے رکھ کر فنڈز جاری کرنے کا سلسلہ ہر دور میں جاری رہتا ہے مگر تحریک انصاف کی حکومت نے تو تعلیمی ایمرجنسی کے نام سے پروگرام شروع کر رکھا تھا' پھر ان کے دورحکومت میں پسماندہ اضلاع کیساتھ تعلیمی میدان میں امتیازی سلوک کیوں روا رکھا گیا؟ جمہوری نظام حکومت میں ہر حلقے اور علاقے کا اپنا فنڈ مختص ہوتا ہے جو اس علاقے کی تعمیر وترقی کے سوا کسی بھی دوسری جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں نام نہاد جمہوریت تو رائج ہے لیکن ہم جمہوری سسٹم کو رائج کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں' ہم جمہوریت میں بھی بادشاہی نظام سے کام چلا رہے ہیں' پسماندہ علاقے کو مزید پسماندہ کرنا اور پہلے سے ترقی یافتہ علاقے کو مزید ترقی یافتہ بنانا ہمارے جمہوری سسٹم کا حصہ بن چکا ہے۔ تحریک انصاف نے مگر اپنے منشور میں اس کی نفی کی تو عوام نے توقعات وابسطہ کر لیں لیکن زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی پروگرام میں جن 14اضلاع کو محروم رکھا گیا ہے ان کے حصے کے فنڈز جاری کر کے ان اضلاع کی محرومیوں کو دور کیا جائے۔

متعلقہ خبریں