Daily Mashriq

کیا کروں میں یقیں نہیں آتا

کیا کروں میں یقیں نہیں آتا

بیانات کا سیاست سے گہرا تعلق ہوتا ہے' بھانت بھانت کی بولیاں پھر سنائی دے رہی ہیں جو اپنے اپنے حوالوں سے الگ الگ بھی ہیں اور کہیں کہیں ان کے ڈانڈے ایک دوسرے میں پیوست نظر آجاتے ہیں۔ ان دنوں جس طرح سرکاری سطح پر شیلٹر ہومز کے چرچے ہیں ان پر مخدوم جاوید ہاشمی کا تازہ بیان بڑا دلچسپ ہے' کہتے ہیں لوگ تنخواہیں بلو میں دیکر خیراتی کھانا کھائیں اور پناہ گاہوں میں سوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے نیا پاکستان کے لوگ مہینے بھر کی تنخواہ پیٹرول' بجلی اور گیس کے بلوں میں ادا کرکے خیراتی کھانا کھائیں اور پناہ گاہ میں جا کر سو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے تاکہ یہ لوگ اچھی طرح بے نقاب ہوں' ان کے پاس نہ کوئی وژن ہے' نہ کوئی پالیسی نہ ہی قومی خدمت کا جذبہ ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی بڑے سینئر اور زیرک سیاستدان ہیں' گرم وسرد چشیدہ سیاسی رہنماؤں میں ان کا شمار کیا جاتا ہے تاہم آج جس طرح وہ تحریک انصاف میں خرابیاں تلاش کر رہے ہیں اگر وہ جماعت میں شامل ہونے سے پہلے اس بات کا ادراک کر لیتے تو انہیں یوں بے نیل ومرام ہوکر پارٹی کو خیرباد نہ کہنا پڑتا۔ اتنی بات البتہ ضرور ہے کہ سرکار نے یہ جو شیلٹرہومز اور مفت کھانا فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ممکن ہے کل خان کا کوئی حواری اُٹھ کر انہیں شیرشاہ سوری ثانی کا خطاب دیدے کہ برصغیر میں کابل سے کلکتہ تک ہر 20کوس کے فاصلے پر عوام الناس یعنی مسافروں کیلئے شیرشاہ سوری نے سرائے تعمیر کرکے ان کے آرام کا خیال رکھا تھا' انہی سراؤں کے ذریعے ڈاک کا نظام رائج کیا تھا تاہم تاریخ اس بات کی کوئی گواہی دینے سے قاصر ہے کہ ان سراؤں میں مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا تھا یا نہیں چونکہ اس دور میں گیس' پیٹرول اور بجلی کا کوئی نظام رائج نہیں تھا اس لئے ممکن ہے ان سراؤں کے قریب ہی کے گاؤں اور دیہات سے لوگ سستا کھانا لا کر مسافروں کو بہم پہنچا کر خود بھی روزی روٹی کا بندوبست کرتے ہوں' لیکن اب جو یہ سرکاری سطح پر کھانے پینے اور رات بسر کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ کوئی پارٹی ورکر خان صاحب کو شیرشاہ سوری سے بھی اعلیٰ مقام دینے کی بات کرے' تاہم یہ دیکھنا پڑے گا کہ جس طرح ملک میں مہنگائی کا طوفان بلکہ ''سونامی'' سب کچھ بہا کر لے جانے پر تلی ہوئی ہے اس کے بعد واقعی مخدوم صاحب کی بات درست لگتی ہے کہ عنقریب لوگ اپنی تنخواہیں یوٹیلٹی بلز کے حوالے کرکے خود سر چھپانے کیلئے کسی شیلٹر ہوم میں اپنے نام کا اندراج کرتے ہوئے اپنے اہل خاندان کے ناموں کا اندراج کرنے پر بھی مجبور ہوں گے' تاہم کچھ شرمیلے لوگ جو بے چارے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے پر مجبور ہو کر ان سرکاری شیلٹر ہومز کا رخ کرنے کی بجائے ممکن ہے کہ خود دوسروں کو ملازمتوں کی پیشکش صرف دو وقت کے کھانے کے عوض کریں اور ملازمت کے حصول کیلئے آنے والوں کو اپنی اپنی ضرورت کے مطابق چھوٹے بڑے برتن تھما کر شہر کی کسی خانقاہ' دربار عالیہ' کسی بزرگ کے مزار پر بھیج کر وہاں سے لنگر کا کھانا لانے پر لگا دیں' ساتھ ہی تاکید کریں گے کہ خود اپنا پیٹ وہیں بھر کر ہمارے لئے انواع واقسام کے کھانے اُٹھا لانا' یوں دونوں کے پو بارہ ہوں گے۔ آخر کو ریاست مدینہ میں یہی تو ہوسکتا ہے' یہ الگ بات ہے کہ جس ریاست مدینہ کا ان دنوں بہت زیادہ تذکرہ ہو رہا ہے اس ریاست مدینہ میں ایسا کوئی انتظام نہیں تھا' بعض ضرورت مندوں کیلئے وظائف ضرور مقرر تھے لیکن عوام پر ٹیکسوں کا کوئی بوجھ اس طرح نہیں ڈالا جاتا تھا بلکہ سود سے پاک معیشت کی وجہ سے اقتصادیات اس طرح ترقی کے زینے طے کر رہی تھیں کہ زکوٰة لینے والوں کا خاتمہ ہوگیا تھا اور پھر بیت المال حقیقی طور پر مالامال ہونے کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ بقول شہباز شریف لاکھوں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں' وزیراعظم نے معیشت تباہ کردی' عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے' تاہم اس کا کیا علاج کہ اس صورتحال کی ذمہ داری جہاں خود لیگ ن کے اہم رہنما رانا ثناء اللہ نے یہ کہہ کر قبول کی ہے کہ آرمی ایکٹ پر جلدبازی میں نقصان اُٹھانا پڑا' ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹے' جس پر اعتزاز احسن بھی پیچھے نہیں ہٹے اور بہت بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف نے 80ایم این ایز کے ووٹوں سے این آر او کیا'

ادھر مولانا فضل ا لرحمن بھی بالآخر شکوہ سنجی پر اُتر آئے اور کہا کہ ناجائز حکمرانوں کا سفینہ ڈبونے کے بجائے اپوزیشن نے اپنی کشتی ڈبو دی۔ انہوں نے ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کا عندیہ دیا ہے تاہم ابھی اس میں ڈیڑھ دو ماہ کا عرصہ پڑا ہوا ہے جس پر پشتو زبان کا یہ مقولہ فٹ بیٹھتا دکھائی دیتا ہے کہ ''جس بلا کا سامنا کرنے میں ابھی رات پڑی ہو اس سے کیا ڈرنا''۔ ویسے سیاسی حالات جس نہج پر جارہے تھے اور دو بڑی پارٹیوں پر اُفتاد کی جو خبریں سامنے آرہی تھیں ان کا تقاضا (متعلقہ پارٹیوں کے نقطہ نظر سے) یہی تھا کہ ''جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اُتارا کرتے ہیں' اسلئے دونوں نے ملکر مولانا صاحب کیساتھ ہاتھ کرنے کا زہر پی لیا تھا۔ یہ نہ کرتی تو دونوں جماعتوں کے ''مزار'' ماضی کے ان مزاروں میں شامل ہو جاتے جن کا تذکرہ ہندوستان کی ملکہ نورجہان نے خود اپنے مزار کے حوالے سے بطور پیشگوئی یوں کیا تھا

برمزار ماغریباں نے چراغے نے گلے

نے پر پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے

تو اب دوماہ انتظار کی گھڑیاں گزارتے ہوئے دیکھیں گے کہ مولانا صاحب اپنی سیاسی زنبیل سے کونسا نسخہ نکال کر سیاسی تالاب میں ہلچل مچاتے ہیں مگر اس سے پہلے جو چوہدری شجاعت حسین نے پارلیمنٹ میں غیرملکی آلہ کاروں کی موجودگی کا الزام لگایا ہے تو یہ ذرا تشویشناک ضرور ہے اور اصولی طور پر انہیں ایسے ناپسندیدہ افراد کی نشاندہی کرکے قوم پر احسان بھی کرنا چاہئے تاکہ ایسے لوگوں سے جان چھڑائی جاسکے۔ ورنہ پھر شاعر نے تو کہا ہے کہ

کیا کروں میں یقیں نہیں آتا

تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے

متعلقہ خبریں