Daily Mashriq

مٹھی بھر چاول

مٹھی بھر چاول

کھانا پینا ایک اہم ضرورت ہے لیکن جب یہ شوق میں تبدیل ہوجائے تو بڑے دلچسپ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ آج کل جگہ جگہ چٹخارا ہاؤس کھل رہے ہیں اور یہ انہی لوگوں کے دم قدم سے آباد ہیں جو کھانے پینے کے شوقین ہیں۔ ہم انہیں بسیارخور تو نہیں کہتے البتہ انہیں خوش خوراک ضرور کہا جاسکتا ہے، جب بھی حکومت کی طرف سے شادی بیاہ کی تقریبات میں سنگل ڈش کو لازمی قرار دینے کا اعلان ہوتا ہے یہ کھانے پینے کے مجنوں پریشان ہو جاتے ہیں، اگرچہ یہ صرف اعلانات ہی ہوتے ہیں ان پر کبھی عمل نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ایک خوش خوراک مہربان کا کہنا ہے کہ اللہ کریم کی نعمتوں کی ناقدری نہیں کرنی چاہئے، یہ سب کچھ حضرت انسان ہی کیلئے پیدا کیا گیا ہے اور پھر بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست! سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں ون ڈش والی تقریب تو ایک آنکھ نہیں بھاتی جب بھی کبھی اس قسم کی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا ہے خالی پیٹ ہی گھر لوٹا ہوں، چاولوں کیساتھ صرف چکن قورمہ ہوتا ہے، چاول تو پہلے ہی حملے میں اس جہان فانی سے کوچ کرجاتے ہیں۔ رہی بات چکن قورمہ کی تو ہمارے دل میں یہی خیال ہوتا ہے کہ چاولوں کو اپنے پیٹ کا ایندھن بنانے کے بعد چکن قورمہ سے بھی نبٹ لیں گے، یوں کہئے روٹی کی مدد سے اس کے بھی پرخچے اُڑائیں گے لیکن یہاں ہمارے ساتھ ہاتھ ہوجاتا ہے بقول غالب:

تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

ہمارے ساتھ خوانچے پر موجود تین شیر جوان چکن قورمہ کو پلک جھپکتے ہی اس طرح چٹ کرگئے کہ ہم دیکھتے ہی رہ گئے! پھر ہماری طرف گھورتے ہوئے کہنے لگے یار اس ظالمانہ قانون کیخلاف ضرور لکھنا اگر یہ سچی مچی لاگو ہوگیا تو ہماری شادیوں کی رونقیں ہی اُجڑ جائیں گی کہاں قورمے کے پیالوں کا بار بار مانگنا، گوشت کی پلیٹوں کے تقاضے، چاولوں میں چھپے ہوئے مرغ مسلم کی ران کو بھنبھوڑنے کا لطف اور کہاں یہ ون ڈش کا بدذوق قانون! ہم نے ان سے جان کی امان چاہتے ہوئے انہیں ایک سادہ سی شادی کی تقریب کا احوال سنایا، نکاح ایک مسجد میں پڑھا گیا اس کے بعد حاضرین میں مٹھائی تقسیم کی گئی دوسرے دن پچاس ساٹھ لوگوں پر مشتمل ولیمہ کھیل ختم پیسہ ہضم! پتہ نہیں ہمارے خوش خوراک مہربان پر اس واقعے کا کیا اثر ہوا لیکن ہم سوچ رہے تھے کہ ہمارے یہاں بارات کے کھانے اور ولیمے کی دعوت پر لاکھوں روپے برباد کرکے بھی تو ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آتا؟ معروف ادیب رشید احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ میں کسی آدمی کی سیرت وشخصیت کا اندازہ اس سے بھی لگاتا ہوں کہ وہ میزبان یا مہمان کی ذمہ داریوں سے کس طرح عہدہ برآ ہوتا ہے۔ غور کیجئے صدیقی صاحب نے بڑے پتے کی بات کی ہے! ہم سب کا عام مشاہدہ ہے کہ بہت کم لوگ دسترخوان کے آداب سے شناسائی رکھتے ہیں، اس بے قاعدگی میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ کی کوئی قید نہیں ہے، اس حمام میں سب ننگے ہیں، یہ پل صراط کا سفر ہے کھانے کے دوران سب عیب وہنر کھل جاتے ہیں، کھانے کے دوران جو آداب ملحوظ خاطر رکھے جاتے ہیں انہیں جاننے کیلئے آدمی کا تہذیب یافتہ ہونا ضروری ہے۔ بے جا تکلف اور بے تکلفی دونوں کا اس کوچے میں گزر نہیں! کھانے پینے کا معاملہ تعلیم سے زیادہ تہذیب سے متعلق رکھتا ہے۔ کوئی جہاں سے بھی اُٹھ آئے چند کتابیں پڑھ کر تعلیم یافتہ تو کہلا سکتا ہے لیکن تہذیب برتنے کا عمل تو صدیوں کا متقاضی ہے! یہی وہ مقام ہے جہاں خاندانی اور نودولتیے کا فرق سمجھ میںآتا ہے! بیاہ شادی کی تقریبات میں کھانے کے دوران بڑے عجیب وغریب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں اور پھر بوفے میں تو عزت سادات بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے، اسے ہم فری سٹائل دنگل کا نام دیتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سب رشتے ناطے تھوڑی دیر کیلئے مکمل طور پر بھلا دئیے جاتے ہیں، ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ پلک جھپکتے ہی کھانے کی میز تک پہنچ جائے جو اس میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں وہ پہلے ہی حملے میں گوشت چکن کباب سے اپنی پلیٹ کو سجا لیتے ہیں، ان میں ایسے مہربان بھی ہوتے ہیں جو میز کیساتھ چپک کر کھڑے ہوجاتے ہیں، اگر کوئی ہماری طرح اناڑی ہانپتے کانپتے میز تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوجائے تو پھر اس کیلئے ان عشاق کو وہاں سے ہٹانا ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے، مجبوراً بیچارے کو مٹھی بھر چالوں پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے! اگر ون ڈش کے قانون پر صحیح معنوں میں عمل کیا جائے تو شریف لوگوں کو بہت بڑی پریشانی سے نجات مل سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں جہاں ضروری اخراجات نے لوگوں کی کمر توڑ رکھی ہے وہاں اس قسم کے غیر ضروری اور بے مقصد اخراجات نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں