Daily Mashriq

وزیراعلیٰ کی سوات میں بڑھتی ماحولیاتی تنزلی کنٹرول کیلئے اقدامات کی ہدایت

وزیراعلیٰ کی سوات میں بڑھتی ماحولیاتی تنزلی کنٹرول کیلئے اقدامات کی ہدایت

پشاور(مشرق نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سوات میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تنزلی کو کنٹرول کرنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ مقصد کے حصول کیلئے ماحول کی باضابطہ سائنٹیفیک سٹڈی کااہتمام کیاجائے۔ تیز رفتار ماحولیاتی بگاڑ نہایت تشویشناک ہے، اب وقت ہے کہ اس سلسلے کو روکا جائے کیونکہ اب مزید کسی غفلت یا تاخیر کی گنجائش موجود نہیں ۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سوات کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی تنزلی کے منفی اثرات کے حوالے سے لوگوں کے لئے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم کااجراء کیا جائے ۔ الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا سمیت مساجد ، حجروں اور تمام متعلقہ فورمز اور سٹیک ہولڈرز کو اس مہم میں شامل کیا جائے تاکہ لوگوں میں ماحولیاتی بگاڑ کے اثرات کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جاسکے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیرخان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، کمشنر ملاکنڈ ، ڈپٹی کمشنر سوات،متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو ماحولیاتی تنزلی کی اقسام ، اسباب اور اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں اور تجویز کئے گئے لائحہ عمل پر عملدرآمد یقینی بنانے اور اس مقصد کے لئے ایک اچھی کمپنی کے ذریعے ماحول کی سائنٹیفک سٹڈی کی ہدایت کی ہے، اور کہا ہے کہ ہمیں اہداف کے حصول کے لئے درست ڈیٹا کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ضلع سوات کے لئے ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے ۔ انہوں نے جنگلات کی باقاعدہ سائنٹیفک منیجمنٹ یقینی بنانے کے لئے قومی فارسٹ پالیسی 2015کے نفاذ کی بھی ہدایت کی ، اور واضح کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ محمود خان نے دریائے سوات کو آلودگی سے محفوظ بنانے کے لئے باضابطہ قانون سازی کی ضرورت سے اتفاق کیا ، اور ہدایت کی کہ کارخانو ں اور ہوٹلوں کے تلف شدہ اشیاء کی فلٹریشن کے لئے بھی قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے ضلعی سطح پر تازہ پانی کے وسائل کو آلودگی سے بچانے کے لئے جاری اقدامات تیز تر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ سائنسی بنیادوں پر کوڑا کرکٹ کی تلفی پورے صوبے کا مسئلہ ہے ، متعلقہ حکام اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ خبریں