Daily Mashriq

عدالتی فیصلے سے قبل کا فیصلہ ہی قیادت کا فیصلہ ہوگا

عدالتی فیصلے سے قبل کا فیصلہ ہی قیادت کا فیصلہ ہوگا

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ خطرے میں ہے وزیر اعظم مستعفی ہوجائیں۔پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری بھی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے تو استعفوں کی فہرست ہی طویل کردی ہے اور وہ شروع دن سے وزیر اعظم کے استعفے کامطالبہ کر رہے ہیں مگر مسلم لیگ(ن) کی جانب سے ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام نواز شریف پر لازم ہے۔ وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاسوں میں صورتحال پر غور و حوض و مشاورت جاری ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی پی پی سی سے بات چیت ہی بالآخر مسلم لیگ کاموقف اور فیصلہ ثابت ہوگا۔اس سوال پر کہ کیا وزیراعظم مستعفی ہو رہے ہیں یا ہوں گے؟ اس کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نواز شریف اپوزیشن یا جے آئی ٹی کے کہنے پر ہر گز مستعفی نہیں ہوں گے۔ مسلم لیگ اس رپورٹ کے خلاف اپنے اعتراضات پیر کو عدالت میں جمع کروائے گی اور امید ہے کہ ہمیں عدالت سے انصاف ملے گا۔واضح رہے کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے گزشتہ روز اپنی حتمی رپورٹ میں کہا کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے رہن سہن اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے۔اگرچہ مسلم لیگ(ن) آسانی سے اقتدار نہیں چھوڑے گی اور وزیر اعظم نواز شریف کا سابقہ ریکارڈ اس امر پر دال ہے کہ وہ اقتدار کے معاملے میں آخری وقت تک لڑنے اور مخالفین کے عزائم کو آسانی سے کامیاب ہونے دینے والے نہیں۔ لیکن بہر حال اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاناما کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ نے شریف خاندان کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ جہاں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)کے متعدد رہنما رپورٹ کو پی ٹی آئی رپورٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کرچکے ہیں تو وہیں اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے رہنمائوں کی وزیر اعظم سے استعفے کے مطالبے میں شدت آگئی ہے۔جے آئی ٹی کے نقصان دہ الزام نے نواز شریف کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا انکار بحران کو مزید بڑھائے گا اور جیسا کہ ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں، اس سے پورا سیاسی نظام بھی پٹڑی سے اتر سکتا ہے جس کی طرف اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے واضح اشارہ کیاہے مگر یہ کیسے ہوگا اس سوال کا واضح جواب کسی کے پاس نہیں۔ مشکلات کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف کے پاس مختلف راستے کھلے ہیں۔وہ اپنی جگہ کسی اور کو وزیر اعظم مقرر کرکے اب بھی اپنی پارٹی کی حکومت کو بچا سکتے ہیں۔ اس طرح موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرلے گی اور آئندہ سال عام انتخابات میں حصہ لے گی۔اس طرح موجودہ حکومت کے لیے آئندہ انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ ان کی جماعت اب بھی ملک کی سب سے بڑی اور پنجاب کی طاقتور پارٹی ہے اور نئی قیادت کے تحت آئندہ انتخابات میں دوبارہ حکومت میں آنے کا امکان کافی زیادہ ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے آپشنز سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے میں سامنے آئیں گے۔ اگر سپریم کورٹ انہیں نااہل قرار دے دیتی ہے تو انہیں فوری طور پر پارٹی کے اندر سے اپنا جانشین تلاش کرنے کی ضرورت ہوگی اور پھر وہ اپنا کیس عوام کی عدالت میں لے جائیںگے ۔اگر سپریم کورٹ نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیتی ہے توایسا لگتا ہے کہ نواز شریف استعفیٰ نہیں دیں گے اور کیس کو ممکنہ طور پر آئندہ انتخابات تک طول دینے کی کوشش کریں گے۔ فی الوقت یہ تو واضح نظر آ رہا ہے کہ نواز شریف آخر تک مقابلہ کرنے اور اپوزیشن کی جانب سے اقتدار سے دستبردار ہونے کے دبائو کے آگے ہار نہ ماننے کے لیے پرعزم ہیں۔ گزشتہ جے آئی ٹیز کے پیش نظر اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہ بات ان کے لیے سیاسی طور پر مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ ریکارڈ چوتھی بار اقتدار پانے کے خواہاں رہنما کے لیے پاناما گیٹ کے سائے تلے انتخابات لڑنا کوئی آسان کام تو نہ ہوگا لیکن کمزور حافظے اور اندھی تقلید کے حامل معاشرے میں کسی قسم کا امکان رہتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) اتنے دبائو کے باوجود پر عزم ہے کہ اگر کسی ممکنہ عدالتی فیصلے سے متاثر بھی ہونا پڑے تب بھی اس کو عوامی عدالت سے احتساب کی بجائے انتخاب کی کنجی ملے گی اور ایسی کنجی سے وزیر اعظم ہائوس کا دروازہ نہ بھی کھل سکے تب بھی ایک فیصلہ کن قوت کے حامل ضرور ہوں گے۔ معروضی صورتحال میں ان کی خوش گمانی کچھ غلط بھی نہیں۔ اخلاقی اور سیاسی طور پر کمزور وزیر اعظم کے لیے ایک بڑا چیلنج انتہائی مشتعل حزب اختلاف سے نمٹنا ہے۔ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ہی ان کے استعفیٰ کے مطالبے پر متحد نظر آتی ہیں۔ خود کو بہادر سمجھنے کے خیال کے باوجود مسلم لیگ ن کے حامیوں کے درمیان صورتحال کی سنجیدگی کا گہرا احساس موجود ہے۔بلاشبہ، پاناما گیٹ اور عدالتی فیصلے نے ملک کی سیاسی ماحول کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جس نے مرکزی سیاسی میدان پنجاب میں مسلم لیگ ن کی ناقابل تسخیر سمجھی جانے والی حیثیت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔محولہ تمام معاملات سیاست سے متعلق ہیں جو فی الوقت ثانوی ہیں اصل معاملہ بہر حال جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد عدالت کا اختیار کردہ راستہ ہوگا۔ سیاسی میدان کی صورتحال اور اقتدار کا کھیل جس کروٹ سوئے اور جو بھی کروٹ بدلے اس کا دار و مدار پانامہ کیس کے راہ لینے پر ہی سامنے آئے گا۔ پہلے پانچ میں سے دو سینئر ترین جج صاحبان وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے کی رائے دے چکے ہیں جبکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی ان کے حق میں نہیں آئی۔ باقی تین جج بھی اس انتہائی قدم پر متفق بھلے نہ ہوں، مگر جج صاحبان اس بات پر متفق ضرور تھے کہ شریف خاندان لندن میں مہنگی جائیداد خریدنے کے لیے پیسوں کے ذرائع کے حوالے سے ٹھوس شواہد فراہم کرنے میں ناکام ہوا ہے۔ لہٰذا مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔جے آئی ٹی رپورٹ سے موخر الذکر ذہن رکھنے والے جج صاحبان کو مواد ضرور فراہم ہوا ہے۔ملکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا جب ایک وزیر اعظم مالی جرائم کے الزامات پر تحقیقات کرنے والی ایک تحقیقاتی ٹیم کے آگے پیش ہوئے۔تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونا یقینا وزیر اعظم کا مثبت اور قابل تعریف اقدام تھا۔ اس رپورٹ کو چیلنج کرنا بھی ان کا حق ہے لیکن یہ ساری صورتحال بہر حال ان کے اقتدار میں رہنے کے اخلاقی جواز کو بہت کمزور کرنے کے لئے کافی ہے۔ مسلم لیگ(ن) اگر اس سے قبل کوئی فیصلہ کرلے تو یہ قیادت کا فیصلہ قرار پائے گا۔ عدالت عظمیٰ سے جو فیصلہ آئے گا وہ قانونی ہوگا جس پر عملدرآمد نہ ہونے کا کوئی جواز ہی باقی نہیں بچتا۔

اداریہ