Daily Mashriq

سرکاری و نجی دونوں سکولوں کی کارکردگی قابل اصلاح ہے

سرکاری و نجی دونوں سکولوں کی کارکردگی قابل اصلاح ہے

صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے جہاں میٹرک کے سالانہ امتحان میں خراب کارکردگی کے حامل ایک سو چوہتر سکولوں کے سربراہان کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ سنجیدگی کاحامل ہے وہاں دوسری جانب ان کے اس استدلال میں کوئی وزن نہیں کہ زیادہ طلبہ کا پاس ہونا کوالٹی کا پیمانہ نہیں۔ سرکاری سکولوں میں صرف پاس ہونا ہی معیار کا پیمانہ ٹھہرتا ہے اور اگر ایسا نہیں توصوبائی وزیر تعلیم بتائیں کہ سرکاری سکولوں کے کتنے طالب علموں نے نمایاں پوزیشن حاصل کیں اور اگر سرکاری سکولوں میں معیار صرف پاس ہونا ہی نہیں تو پھر کن بنیادوں پر سکولوں کے سربراہوں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ ایک جانب وزیر تعلیم اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ سرکاری سکولوں کے میٹرک کے نتائج حوصلہ افزا نہیں تو پھر اسی سانس میں تعلیمی معیار میں بہتری کے دعوے کا مطلب کیا ہے۔ جہاں طالب علموں کی مناسب تعداد امتحان پاس ہی نہ کر پائیں وہاں معیار کا دعویٰ سراسر لغو ہے جس سے احتراز اور کمزوری و مسائل کا اعتراف ہی بہتر ہوگا۔ صوبائی وزیر تعلیم جس تقریب میں طالب علموں کو انعامات دے رہے تھے اگر ان طالب علموں کے سکولوں سے آگاہی کرتے تو ان کو اس امر کا اندازہ ہوتا کہ معاشی مشکلات کا شکار طبقہ بھی اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجنے سے کس قدر کتراتا ہے۔ گو کہ نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ مار بھی کم نہیں لیکن اس کے باوجود والدین کوئی اور انتخاب نہ ہونے کے باعث اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو نجی سکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں۔ اگر سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر ہوتا تو متوسط و نیم متوسط طبقے کا سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ اب جبکہ وزیر تعلیم کی جانب سے بلند بانگ دعوئوں کی حقیقت سامنے آگئی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی خراب کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے جہاں محولہ تعداد میں سکولوں کے سربراہوں کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے وہاں آئندہ کے لئے ایک سنجیدہ اور ٹھوس لائحہ عمل بھی مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معاملہ نجی تعلیمی اداروں کے ترجمان کے تبصرے کے مطابق جھاگ کی طرح نہ بیٹھ جائے نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے صوبائی حکومت کو تعاون کی پیشکش کو طنز کے زمرے میں ہی شمار کیا جائے گا وگرنہ ان ٹکسال نما اداروں میں جتنی فیس لی جاتی ہے اس کے نصف کے برابر بھی طلبہ کو تعلیم نہیں دی جاتی۔ نجی تعلیمی اداروں کا سمر کیمپ کے نام سے کلاسوں کا انعقاد از خود اس امر پر دال ہے کہ طالب علموں کو پڑھائے جانے والے اسباق کی درست تدریس نہیں ہوسکی اور مزید فیس کی ادائیگی پراسی سکول کے وہی اساتذہ ان کو دوبارہ مشق پختہ کرائیں گے۔ ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ یہ سکول تعطیلات کی فیس لینے کے بعد سمر کیمپ کی الگ فیس وصول کرتے ہیں۔ اس کا نوٹس لینے والا اور کارروائی کرنے والا کوئی نہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم جہاں سرکاری سکولوں میں احتساب و اصلاحات کے عمل پر توجہ دیں وہاں سمر کیمپ کا انعقاد کرکے دوہری فیس اور ٹرانسپورٹ چارجز وصول کرنے والے سکولوں کے خلاف بھی کارروائی کریں۔ سرکاری سکولوں کے معیار کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ نجی سکولوں کے معیار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے تاکہ صحیح صورتحال سامنے آئے اور ہر دو نوع کے سکولوں کے طالب علموں اور ان کے والدین کی مشکلات میں کمی آئے۔

اداریہ