Daily Mashriq

انصاف کا ہوتے ہوئے نظر آنا…(٢)

انصاف کا ہوتے ہوئے نظر آنا…(٢)

اس طرح عمران خان یہ کوشش کر رہے تھے کہ عوام مقدمے کی کارروائی کو ان کی توقعات کی عینک سے دیکھیں۔ جے آئی ٹی نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین ظفر حجازی پر ریکارڈ کی ٹمپرنگ کا الزام عائد کیا ۔ اس الزام کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی بھی شروع ہو گئی جس کا فیصلہ ابھی آنا ہے۔ لیکن عمران خان نے کہہ دیا کہ ظفر حجازی نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے کہنے پر ریکارڈ ٹمپرنگ کی ، وزیر خزانہ پر سراسر الزام ہے۔ یہ اس صورت ہی میں کہا جا سکتا ہے جب یا تو ظفر حجازی کوئی ایسا بیان دیں یا کوئی ایسا الزام ان پر کسی عدالت میںلگے اور ثابت ہو۔ وزیر اعظم نواز شریف ن لیگ کے مقبول سیاسی لیڈر ہیں۔ مسلم لیگ ن کے نہ صرف سربراہ ہیں بلکہ پارٹی کے نام کے ساتھ ن کا لاحقہ ان کے نام کی وجہ سے لگتا ہے۔ لیکن یہ مقدمہ پاناما لیکس میں اہل خانہ کا نام آ جانے کی وجہ سے ان کے اور ان کے اہل خانہ پر چل رہا ہے' مسلم لیگ ن یا حکومت پر نہیں ۔ لیکن مقدمہ کی کارروائی کے دوران ایسا لگا گویا مسلم لیگ ن بطور سیاسی جماعت مقدمہ کی کارروائی پر متوجہ ہے ۔ کسی ذمہ دار وزیر نے کہا کہ حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے ۔ کسی نے کہا کہ جمہوریت کو پٹڑی سے اُتارنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کسی نے کہا ہم مخالفین کے بچوں کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کر دیں گے۔ اس طرح وہ عدالتی کارروائی جس کی پیش کش وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی الزامات سے بریت اور سرخروئی کے لیے کی تھی اس مقدمہ کو مسلم لیگ ن کے وزراء اور عہدیداروں نے ایک طرح سے انتخابی مہم کے لیے بنیاد بنا لیا ہے۔ اس انتخابی نعرے بازی اور الزام تراشی کے چلن نے عدالتی کارروائی پر عوام کی آگاہی کے سامنے تعصبات کے پردے حائل کیے اور جس طرح انصاف ہوتا ہوا نظر آنے کی شرط پوری ہو رہی ہے اس کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کی۔ جے آئی ٹی کو داد دینی چاہیے کہ اس نے مقررہ مدت کے دوران اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کر دی ہے اور تمام تر مشکلات کے باوجود جو معمولی شمار نہیں کی جا سکتیں اپنا کام مکمل کیا ہے۔ اب یہ سپریم کورٹ کی صوابدید ہے کہ وہ اس رپورٹ پر مزید کیا کارروائی کرتی ہے ، اسے قبول کرتی ہے یا مسترد کرتی ہے۔ یہ کہنا کہ عدالت یہ رویہ اختیار کرے گی تو قبول کریں گے، کوئی اور طرز عمل اختیار کرے گی تو قبول نہیں کیا جائے گا مناسب نہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ آئندہ عدالت جو کارروائی کرتی ہے اس پر عوام کی آگاہی کے سامنے تبصروں کے پردے حائل نہیں کیے جائیں گے۔ جے آئی ٹی پر طرح طرح کے اعتراضات اُٹھائے گئے۔ کسی نے کہا کہ ایک رکن کی وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ دشمنی ہے۔ ایک رکن کی بیوی لندن میں تحریک انصاف کے لیے چندے جمع کرتی رہی ہے جس کے چیئرمین عمران خان فریق مقدمہ ہیں۔ اس لیے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ ان ارکان کی تحقیقات وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف تعصب سے پاک ہوں گی۔ تحقیقات کی رپورٹ تحریری طور پر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جانی تھی اور کی گئی۔ اس میں اگر تحقیقاتی کمیٹی کا کوئی رکن اپنے فرائض سے پہلو تہی کرے گا تو یہ حرکت صاف نظر آ جائے گی۔

آخر پاکستان میں جو لوگ مختلف محکموں کے ملازم ہوں گے ان کے کوئی عزیز رشتہ دار ہوں گے جو مختلف سیاسی نظریات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ایک واقعہ یاد آ گیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے زمانے کی بات ہے پی ایف یو جے ایک احتجاج کر رہی تھی جس میں آپ کا یہ قلم کیش بھی شامل تھا اورراقم کے مرحوم بڑے بھائی (نام کی ضرورت نہیں) وزارت محنت میں ایک سینئر عہدہ پر مامور تھے۔ بھٹو صاحب نے اس صورت حال پر غور کرنے کے لیے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی جس میں اور لوگوں کے علاوہ بھائی صاحب بھی شریک تھے۔ انہوںنے میٹنگ کے آغاز ہی میں کہا کیونکہ میرا بھائی احتجاج کرنے والوں میں شامل ہے لہٰذا اس اجلاس میں شرکت سے میری معذرت قبول کر لی جائے۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ نہیں! ہم اپنے افسروں پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی بلا کم و کاست انجام دیں گے اور میرے بھائی صاحب اجلاس میں شریک رہے۔ ایسی بہت سی مثالیں ملک میں موجود ہیں ۔ ایک واضح مثال دو سگے بھائیوں کی ہے ۔ اسد عمر تحریک انصاف کے اہم لیڈر ہیں اور ان کے بھائی زبیر عمر مسلم لیگ ن کے وزیر نجکاری رہے اور آج کل سندھ کے گورنر ہیں۔ نہ مسلم لیگ ن کے نزدیک یہ قابلِ اعتراض ہے کہ اس کے اہم لیڈر زبیر عمر پاکستان تحریک انصاف کے اہم لیڈر اسد عمر کے بھائی ہیں اور نہ تحریک انصاف کو اسد عمر کے زبیر عمر کے بھائی ہونے پر اعتراض ہے۔ دونوں اہل خانہ سمیت خاندان کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں اور دونوں ایسی پارٹیوں کی سیاست کرتے ہیں جو ایک دوسرے کی سیاست سے اختلاف پر مبنی ہے۔ اگر مسلم لیگ ن کے حامیوں کو پی ٹی آئی کے لیڈر اسد عمر کا بھائی ہونے کے باوجود زبیر عمر کے مسلم لیگ ن کا گورنر ہونے پر کوئی اعتراض نہیں تو جے آئی ٹی کے کسی رکن کی اہل خانہ کے لندن میں پی ٹی آئی کے لیے چندہ جمع کرنے پراعتراض کیا معنی؟ یہ ایک مثال ہے اور بہت سی مثالیں ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ نے اعتماد کے لائق سمجھا اور اسے ایک ذمہ داری سونپی اس جے آئی ٹی کو متنازع بنا کرپیش کیا جائے۔ مسلم لیگ ن کے اتحادی مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برملا جے آئی ٹی کو متنازع قرار دے دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ تنازع کیا ہے اور اس کے فریق کون ہیں۔ اس تنازع کی اصطلاح کا مطلب بھی غیر واضح رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا تنازع کے معنی یہ ہیں کہ اس کی رپورٹ قابلِ اعتماد نہیں ہو گی یہ قبل از وقت تھا۔ رپورٹ آنے کے بعد اس سے کسی کا متفق ہونا اور اس سے کسی کا اختلاف ہونا فطری بات ہے۔
(جاری ہے )

اداریہ