Daily Mashriq


یہودوہنود گٹھ جوڑاور سعودی عرب

یہودوہنود گٹھ جوڑاور سعودی عرب

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کیا ہے' اس سے قبل وہ امریکہ اور سعودی عرب کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ خطے میں امریکہ' بھارت اور اسرائیل کے تعلقات اب راز نہیں رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ ' بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو سعودی عرب کا سب سے بڑا ایوارڈ دینا اور ٹرمپ کا اقتدار حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے سعودی عرب کے دورے کا انتخاب کرنا اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ یہود و ہنود گٹھ جوڑ میں سعودی عرب بھی دانستہ یا غیر دانستہ طورپرسر تا پا شامل ہو چکا ہے۔ متذکرہ ممالک کے گٹھ جوڑ کے خطے پر بالخصوص مسلم ممالک پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اسے سمجھنے کے لیے ان ممالک کے آپس کے تعلقات پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ بھارت نے 1950ء میں اسرائیل کو تسلیم کیا تاہم دونوں ممالک کے تعلقات کی ابتدائی نوعیت بہت مختلف تھی۔ ہندوستان نے پچھلی صدی میں اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ تعلقات میں توازن کی ظاہری کوشش کی۔ ہندوستان کی اس پالیسی کو عرب نواز پالیسی بھی کہا جاتا رہا۔ لیکن عرب نواز پالیسی دکھاوے کی تھی۔ہندوستان اسرائیل دفاعی معاہدہ 1960ء کی دہائی میں ہونے والی جنگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ 1998ء میں ایٹمی دھماکوںکے بعد پابندیاں عائد ہوئیں تب بھی اسرائیل ہندوستان کو دفاعی سامان مہیا کرتا رہا۔ کارگل جنگ میں بھی اسرائیل نے پاک فوج کی پوزیشنز کی سیٹلائٹ تصاویر ہندوستان کو مہیا کیں، آج ہندوستان اسرائیل تعلقات اس قدر گہرے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا سالانہ حجم پچھلے 5سال سے 4ارب 60کروڑ ڈالر ہے۔ 2007ء سے دونوں ملک آزاد تجارت کے معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے وزیر تجارت نے 2013ء میں کہا تھا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 10ارب ڈالر تک پہنچ جا ئیگا۔ 2012ء میں ہندوستان اور اسرائیل دفاعی تعاون کا تخمینہ 9ارب ڈالر لگایا گیا تھا ۔ اسرائیل سالانہ ایک ارب ڈالر کا فوجی ساز و سامان ہندوستان کو فروخت کر رہا تھا۔ لائن آف کنٹرول پر بھارت نے جو باڑ لگائی ہے وہ ٹیکنالوجی بھی بھارت نے اسرائیل سے لی ہے ۔دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر 3کھرب 50ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں سے 10ارب ڈالر کے فوجی آلات اور ہتھیاروں کی خریداری کے حوالے سے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دورۂ سعودی عرب کے موقع پر سعودی حکومت کی طرف سے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ''عبدالعزیز اسعود'' سے بھی نوازا گیا۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے نارمل سے دوستی کی جانب بڑھتے ہوئے تعلقات نے اسرائیل کو دو اور ایسے مواقع فراہم کیے ہیں جسے وہ خطے میں بدلتی اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق اسرائیل نے کچھ عرصہ قبل سعودی عرب سے اونچی اُڑان اُڑنے والے طیاروں کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے کی بات کی تھی جو اسرائیلی بن گورین ایئرپورٹ سے اُڑتے ہیں اگرچہ اسرائیلی اخبار ''معاریف'' کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اپنی عدم تیاری کا کہہ کر اس موضوع کو مؤخر کر دیا لیکن اس کے باوجود بہت سے طیارے سعودی عرب کی فضائی حدود کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل میں داخل ہوتے ہیں اور اسرائیل سے سعودی فضائی حدود کے توسط سے آگے بڑھتے ہیں اور ان ملکوں میں ایک ہندوستان ہے کہ جس کے طیارے اسرائیلی بن گورین ایئرپورٹ آنے جانے کے لیے سعودی فضائی حدود کو استعمال کرتے ہیں۔دوسری جانب اسرائیل عرب ممالک کے تعاون سے ایک ایسی ٹرین پٹڑی بچھانے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے جو اسرائیلی شہر حیفہ سے لے کر اردن کے ملک حسین پل تک رسائی حاصل کرے، یوں اردن اور سعودی عرب سمیت امارات میں اسرائیل کے لیے حالات سازگار ہو جاتے ہیں تو وہ شام سے ترکی اور عراق تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح اسرائیل یہ بھی جانتا ہے کہ العفولہ شہر سے لے کر جنین کی الجملہ گزرگاہ تک ایک شاہراہ بنائی جائے جو ٹرین کی پٹڑی کے ساتھ متصل ہو، یوں فلسطینی اتھارٹی کو بھی اس میںحصہ مل سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل حیفہ پورٹ سے تجارتی سامان ٹرکوں اور کنٹینروں کی مدد سے آگے پہنچاتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں اسرائیل عربوں خاص کر اردن کے ساتھ گزشتہ تین سال سے بات چیت کر رہا ہے لیکن اب جا کر جب سے سعودی عرب میں شاہ عبداللہ کے بعد شاہ سلمان کی بادشاہت شروع ہوئی ہے تو اس کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔اسرائیل فلسطین پر قابض ہے اور ایک عرصہ سے نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے ،یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کی اکثریت نے آج تک اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی اسرائیل کے ساتھ روابط کے حق میں ہیں ۔ مذکورہ بالا سطور اور چشم کشا حقائق کی روشنی میں ایک بات انتہائی خطرناک دکھائی دیتی ہے اور وہ یہ کہ امریکہ' اسرائیل اور ہندوستان تو ازل سے مسلم دشمنی میں مشہور تھے ، سعودی عرب کن راہوں کا راہی ہے؟ یمن جنگ کے بعد آج کل قطر بحران بھی کہیں اسی پالیسی کا شاخسانہ تو نہیں؟۔

متعلقہ خبریں