Daily Mashriq


بلوچستان کا مسئلہ

بلوچستان کا مسئلہ

بلوچستان کے مسائل کا حل تلاش کرتے ، اس حل کی بات کرتے ہماری ایک نسل ختم ہوگئی اور دوسری ختم ہو رہی ہے ۔ لیکن ہم بحیثیت قوم کسی مسئلے کا حل تلاش نہیں کر سکے ۔ یہ بات بلوچستان کی حد تک محدود نہیں ۔ پاکستان میں ایک بار ایک مسئلہ جنم لے لے تو اس کا ختم ہونا تو درکنار ، اس کا کسی حل کی جانب اپنے سفر کا آغاز کرنا ، اس راستے پر گامزن دکھائی دینا یا کسی حل کے دروازے تک پہنچ جانا مشکل ہی نہیں تقربیاً نا ممکن دکھائی دیتا ہے ۔ اس رویے کی وجوہات صرف داخلی ہی نہیں بیرونی بھی ہیں ۔ کچھ ہمارے رویے ہیں ، کچھ ہمارے حکمرانوں کی مہربانیاں ہیں ، کچھ پڑوس کی دلچسپی ہے کہ بات شروع تو ہو جاتی ہے پھر ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ۔ کوئی معاملہ جنم لے اور اسکی بنیاد داخلی مسائل کے میدان میں دکھائی بھی دیتی ہو اس کی خبر جب فضا میں دھول کی طرح اٹھتی ہے توچار جانب سے ہمارے ہمسائے اس کی سن گن کے لئے اس دھول پر ہی پل پڑتے ہیں ۔ بلوچستان کا مسئلہ بھی ہمارے دیگر مسائل کی طرح کچھ ہماری بے حسی کا شکار ہے ، کچھ ہمارے حکمرانوں کی بد عملی اور کچھ ہمارے ہمسائیوں کی محبت بھی اسے سکون نہیں لینے دیتی ۔ یہ ملک جن لوگوں نے بنایا تھا ، جن لوگوں نے اس ملک کی جانب ہجرت کی تھی ، انہوں نے تو کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ یہاں کبھی ایسی نفرتیں بھی جنم لیں گی جن کے گرداب سے نکلنا ہی ممکن دکھائی نہ دے گا ۔ ہم میں سے آج تک کسی نے یہ سوچنے سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ ہمارے یہ مسائل جنم ہی کیو ں لیتے ہیں ۔ ایک واقعہ جو تاریخ کی گود میں آنکھیں موندے خاموش پڑا ہے ۔ اس نے اک عجب سوچ کو دل میں جنم دیا ہے ۔ خان آف قلات پاکستان سے وابستگی نہیں چاہتے تھے اور آل انڈیا ریڈیو سننے کے شوقین تھے ۔ وہ پاکستان سے وابستہ ہو جانے کے خلاف اپنی رائے کا اظہار بھی مسلسل کر رہے تھے ۔ جس روز پاکستان سے وابستگی کا تحریری عندیہ دیا جانا تھا ، اس سے ایک دن پہلے خان آف قلات آل انڈیا ریڈیو سے خبریں سن رہے تھے ۔ پہلی ہی خبر یہ سنائی دی کہ نہرو نے خان آف قلات کی بھارت سے وابستگی کی درخواست رد کردی ۔ اس خبر کا یہ رد عمل تھا کہ اگلے روز خان آف قلات نے بھی پاکستان سے اپنی وابستگی کا اعلان کر دیا اور اس تحریری معاہدے پر بھی دستخط کر دیئے ۔ یہ واقعہ محض ایک واقعہ نہیں ایک رویے کی جانب بھی اشارہ ہے ۔ اور پھر اگر قدرت نے ایک بار یہ مسئلہ حل کر دیا تو پاکستان کے حکمرانوں کی جانب سے کبھی کوئی اقدام نہ ہوا جو اس کیفیت کوجاری و ساری رکھ سکتا ۔ بلوچستان کی وہ پسماندگی جو شاید انگریز کی ضرورت تھی ، اس کو دور کرنے کی کبھی کوششیں ہی نہ کی گئی ۔ انگریز کو تو ایران ، خراسان ، افغانستان اور روس سے بھی خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ شاید وہ افغانستان کی جانب سے بر صغیر میں داخلے کی کوشش کریں ۔ بلو چستان کو بیاباں رکھنے میں انہیں اس جانب سے خطرہ بہت ہی کم تھا لیکن پاکستان کے قیام کے بعد بھی انگریزوں کی پالیسیوں سے ہٹ کر کوئی بات نہ سوچی گئی ۔ بلوچستان کا معاملہ بہت آسانی سے حل کیا جا سکتا تھا ، ان لوگوں کی محبت جیتی جا سکتی تھی ، انہیں پاکستان کی جانب اسی طرح متوجہ کیا جا سکتا تھا جس طرح کہ پاکستان کا حق تھا ۔ اگر بلوچستان میں اس طور ترقی کی سکیمیں شروع کی جاتیں جیسا کہ اس علاقے کی پسماندگی کا حق تھا ۔ اس سب میں ہم امید اور حقیقت کا فرق اکثر بھولتے رہے ، تب بھی بھولتے تھے اور آج تک بھولے ہوئے ہیں ۔پاکستان کی معیشت اس وقت ایک بہت ہی کمزور معیشت تھی ۔ بلوچستان میں کسی قسم کا infrastruethreموجود نہیں تھا ۔یہاں ہر شئے کو بنانے میں کئی گنا وسائل کی ضرورت تھی جبکہ پنجاب میں بنیادی ڈھانچہ موجود تھا ۔ سو اپنا وقت گزارنے کے خواہشمند وں نے اپنی نظر پنجاب پر جمائے رکھی اور چونکہ آزادی کے دن سے کھسکتے کھسکتے ، آزادی کے کئی سال جھولی میں آگرے تو اس ملک سے محبت کا جذبہ کچھ کردکھانے کا جذبہ ، پاکستان کو جنت نظیر بنانے کا جذبہ بھی دھیرے دھیرے کم ہورہا تھا ۔ بلوچستان ہی نہیں ،سندھ ، اور خیبر پختونخوا بھی پنجاب سے دور ہو رہے تھے ۔ لیکن پاکستانیت کا جذبہ ، یہ خیال تو ہم نے کبھی اپنایا ہی نہیں ہمیں بحیثیت قوم یہ احساس ہی نہ ہوا اور یہ جذبہ ہمارے حکمرانوں کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ یہاں تک کہ جب کبھی فوجی حکومتیں بھی ملک میں رہیں انہو ں نے یہ جذبہ عوام کے دلوں پر ثبت کرنے کی کوئی قرار واقعی کوشش نہ کی ۔ ہر بار ، نئی حکومت نے بلوچستان میں ایک امید لگائی اور ہر باراس امید کو ٹھو کر کھانی پڑی سو ہر بار اس خیال کو تقویت ملی ، اس وہم نے اور جان پکڑی کہ بلوچستان کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھا گیا ۔ وقت گزرتا گیا ، اپنی مرضی اور خواہش کے بے لگام گھوڑے پر سوار ہمارے حکمرانوں نے وہ میدان اور بھی بڑا کر دیا جو دشمنوں کو اپنی جانب بلاتا رہا پاکستان کی تباہی کے حوالے سے انکی خواہشات کو مہمیز کرتا رہا ۔ انہیں بہت کوشش کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ نفرتوں کے بیج تو ہم خود بو رہے تھے ۔ پر یشانیوں کو جنم دینے میں خود ہماری جانب سے محنت تھی ۔ دشمن تو اس آگ کو بڑھا وا دینے کے لئے شاید کبھی اس قدر متحرک نہ تھا جس قدر یہ بربادی خو د ہم نے آگے بڑھ کر گود لے لی ۔ اور ہم کبھی راہ میں کہیں رکے ہی نہیں شاید پہلی بار اپنی ہی غلطیوں کا احساس اکبر بگٹی کو نشانہ بنائے جانے سے ہوا ۔ صدر مشرف نے اپنے دور حکومت میں دو ایسی فاش غلطیاں کیں کہ ان کے اثرات فوج کے عوامی تاثر پر دکھائی دینے لگے ۔ اکبر بگٹی اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپر یشن دونوں ہی شاید ملکی مفاد میں انہیں درست دکھائی د یتے ہونگے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے تئیں یہ بہت مشکل فیصلے صرف ملکی مفاد میں کئے ہوں لیکن یہ فیصلے مختلف طریقے سے بھی کیے جا سکتے تھے ۔ حکومت کی رٹ تو بلا شبہ قائم ہوگئی لیکن فوج کے امیج کو بہت نقصان پہنچا ۔

متعلقہ خبریں