Daily Mashriq

غریبوں اور عوام کی سیاست

غریبوں اور عوام کی سیاست

پاکستان کے قیام میں جو عوامل اور عناصر بنیادی محرکات بنے اُن میں بلا مبالغہ اسلامی عقائد اور تہذیب و ثقافت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی ۔ لیکن اس کے ساتھ چند دیگر اہم عوامل میں سے معاشی و اقتصادی عوامل کو بھی اہمیت حاصل ہے ۔ نظرئیہ پاکستان اور قائد اعظم ولیاقت علی خان اور ان جیسے دیگر رہنمایان سیاست وملت نے ان وجوہات کی بناء پر مسلمانان ہند کی ایک بڑی اکثریت کو ہندو ساہو کا ر کی سود خوری کے پھندے سے نجات دلانے کیلئے اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر پاکستان حاصل کیا قائد اعظم نے اپنے ترکہ و راثت کو تین حصوں میں تقسیم کر ا کر مسلمانان ہند و پاکستان کے تعلیمی اداروں کے لئے وقف کیا ۔ لیاقت علی خان شہید ملت نے ہندوستان میں اپنی نوابی اور اربوں کی جائیداد اور کوٹھیوں کو پاکستان پر واری نیاری کر دیا ۔ ان دونوں رہنمائوں نے اپنی متروکہ املاک کے بدلے میں پاکستان میں کوئی جائیداد و غیرہ حاصل نہیں کی ۔ یہی وجہ تھی کہ یہ دونوں عظیم قائدین جب اس دنیا سے گئے تو ایک پٹیچر ایمبو لینس کے سبب ، ہسپتال نہ پہنچ سکے اور دوسرے پھٹی بنیان پہنے سید اکبر افغانی کی ظالمانہ گولی کا شکار بنے ۔ میں کبھی کبھی تصور کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اگر ان دو زعماء کو قیام پاکستان کے بعد زیادہ نہیں صرف دس برس کی زندگی ملتی تو شاید آج پاکستان میں غرباء و مساکین کی تعداد اتنی زیادہ نہ ہوتی کہ تقریباً ساٹھ فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہوتے ۔ اور نہ ہی وطن عزیز میں جا گیر دارانہ و سرمایہ دارانہ نظام یوں بے لگا م ہوتا کہ غریب کو انسان ہونا میسر نہیں اور امراء کے پالتو جانور عیش کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ چونکہ الفاظ ادا کرنے پر کوئی خرچہ نہیں آتا لہٰذا سارے ار ب پتی سیاستدان ایک ہی سانس میں پاکستان کے غرباء کے غم والم میںیوں ہلکان دکھائی دیتے ہیں کہ گویا ابھی اُن کی سانس نکل جائیگی ۔ حالانکہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو بار بار حکمرانی کا موقع ملا لیکن غریب عوام کے دکھ میں شریک ہونے کے دعویداروں نے عوام کے ٹیکس کی دولت کو اپنی تجوریوں میں بھر کر بیرونی بنکوں ، جائیدادوں اور کمپنیوں میںمحفوظ کیا ، ان سے تو اتنا نہ ہو سکا کہ دولت پاکستان ، سرمایہ عوام ، عوام کی بنیادی ضروریات کی تکمیل اور مسائل کے حل کرنے نہیں تو کم کرنے کے لئے استعمال کرتے ۔ صاف پینے کا پانی ، تعلیم ، صحت کی فراہمی اور جان مال آبرو کی حفاظت پر کتنا خرچہ آئیگا ۔ کیا ان سیاستدانوں نے اپنی اربوں کی آمدنی میں سے جو اُن کو وطن عزیز کے طفیل حاصل ہوتی ہے اپنے اپنے ضلع اور حلقہ انتخاب میں کوئی ایک ڈھنگ کا ہسپتال ،سکول یا صاف پانی کا کوئی منصوبہ عوام کی سہولت کے لئے پایہ تکمیل تم پہنچا یا ہے ۔ ہاں اس کے لئے بہت مستعد ہیں کہ عوام کے ٹیکسوں سے منصوبے منظور کروا کر کرپشن کے ذریعے اپنا حصہ وصول کرلیں اور منصوبے کولشٹم پشٹم مکمل کروا کر چھوڑ دیتے ہیں جو اُن کے اقتدار کے پانچ برسوں کے اندر اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر عوام کا منہ چڑانے کے لئے ہڑپہ وموہنجو داڑو کے کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ سرکاری فنڈ سے جب کوئی پراجیکٹ مکمل ہوتا ہے تو اُس کو اپنے دست مبارک سے افتتاح کرنے اور اپنے نام سے منسوب کرنے کے لئے بھی مقابلے ہوتے ہیں ۔ دنیا کے دیگر ممالک میں شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہو ۔ قومی اداروں اور منصوبوں پر قومی ہیروز کے نام کندہ ہوں تو عوام پسند بھی کرتے ہیں اور یوں قوم کے ہیروز عوام کے دلوں میں زندہ بھی رہتے ہیں۔ ہمارے یہ امیر سیاستدان جب کبھی کسی مجبوری یا مفاد کے تحت گرمی کے موسم میں کہیں ائیر کنڈیشن کے بغیر کھڑے ہوتے ہیں تو اُن کی حالت دیدنی ہوتی ہے ۔ کاش وہ ایسے مواقع پر غریب عوام کو بھی یاد رکھتے کہ جن کو جون جولائی کے مہینوں میں پنکھے کی عیاشی بھی میسر نہیں ہوتی ۔ا ب ہمارے ان سیاستدانوں کی ایک نئی نسل جو ناز نعم میں پلی ہوئی اور بیرونی ممالک سے تعلیم حاصل کر کے غریب عوام کے ہمدرد بننے جارہے ہیں ، تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ کاش ان سب کو صرف ایک ایک مہینہ غریب عوام کے درمیان جہاں بجلی ، سڑک اور ٹھنڈے پانی کی سہولیات میسر نہیں ، رہنے پر مجبور کیا جائے ۔ اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ غریب کسان ، مزدور اور معزور و مسکین لوگ اپنے شب و روز کس طرح گزارتے ہیں ۔ہماری غریب عوام کی اس طرح کی قسمت و مقدر بننے میں تھوڑا سا ہاتھ اُن کا اپنا بھی ہے یا شاید وہ بھولے لوگ ہیں کہ پھربھی ان ہی سیاستدانوں کو دوبارہ سہ بارہ ووٹ دیتے ہیں اور اُن کو اقتدار کے سنگا سن پر بٹھا ئے رکھتے ہیں ۔ شاید جاگیر داری کی لعنت کے سبب وہ بے چارے مجبور بھی ہوں ، لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ اس کائنات کا عادل خالق باد شاہ زیادہ دیر تک اپنی مخلوق پر ظلم و ستم برداشت نہیں کر تا ۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان ہوش کے ناخن لیتے ہوئے کرپشن سے توبہ تائب ہو کر عوام اور مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنا کر اللہ تعالیٰ کے محبوبین میں شمار ہوجائیں کہ ''قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے '' ورنہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ ''

اداریہ