Daily Mashriq


پاک بھارت کشیدگی کے رنگ اور رُخ

پاک بھارت کشیدگی کے رنگ اور رُخ

پاکستان اور بھارت تعلقات ایک ایسی بند گلی میں جا پھنسے ہیں جہاں سے مستقبل قریب میں باہر نکلنے کی کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی ۔ماضی میں جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی در آتی اور مسائل لاینحل دکھائی دیتے تو امریکہ سے دہلی اور اسلام آباد کے لئے یا تو دو الگ ٹیلی فون کالیں آتیں یا ایک وفد آکر دونوں کے تعلقات کی گاڑی کو دوبارہ پٹڑی پرڈال دیتا۔اب امریکہ نے خود کو بھارت کے ساتھ مکمل طور پر بریکٹ کر کے پاکستان پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت محدود تر کردی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ علاج کی غرض سے بھارت آنے والوں کو صرف اسی صورت میں ویزہ دیا جائے گا جب ان کا نام پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کی طرف سے تجویز کیا جائے گا ۔ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کے تحت کلبھوشن یادیو کی ماں کو ویزہ جاری کرنے کے لئے سرتاج عزیز کو ذاتی خط لکھا مگر سرتاج عزیز نے اس خط کا جواب بلکہ اس کی وصولی کی رسید تک دینا گوارا نہیں کیا ۔

سشما سوراج کا کہنا تھا اب پاکستان کو اپنے شہریوں کے مفاد میں بھارت آنے کے خواہش مندوں کے نام تجویز کرنا چاہئے۔یوں لگتا ہے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے بھارتیوں کے اوسان خطا ہو گئے ہیں وہ پاکستان کے ساتھ ہر معاملے اور تعلق کو کلبھوشن یادیو کے ساتھ جوڑ رہا ہے ۔عمومی تاثر یہی تھا کہ بھارت نے یہ قدم کلبھوشن یادیو کے مسئلے پر اپنی سودے بازی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی خاطر اُٹھایاتھا مگر اس میں بھی اب بھارت کو ناکامی ہوئی ۔اب بھارت سے علاج کرانے کے خواہش مند پاکستانیوں کے ویزے کے معاملے پر ایک بار پھر بھارت نے کلبھوشن کلبھوشن کھیلنا شروع کر دیا ہے ۔یہ خالص ایک انسانی مسئلہ ہے جس پر ویزہ اس وقت تک معمول کا معاملہ ہے جب تک دونوں ملکو ں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہیں ۔کلبھوشن یادیو کو ئی عام فرد نہیں ۔اگر وہ عام جاسوس ہوتا تو بھی شاید معاملہ اس قدر حساس نہ ہوتا ۔وہ ایک ایسے نیٹ ورک کا نگران اور سرپرست تھا جو پاکستان میں دہشت گردی کے لاتعداد واقعات میں ملوث ہے۔اس طرح یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے ۔کلبھوشن کے ساتھ وہی ہونا چاہئے جو دہشت گردی میں ملوث لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اب جاں بہ لب مریض اور خطرناک دہشت گردایک ہی ترازو میں تُلنے لگے ہیں یہ کشیدہ تعلقات کی آخری حد ہے ۔اس کشیدگی کا ایک پہلو اس وقت سامنے آیا جب تاجکستان میں پاکستان ،تاجکستان ،افغانستان پر مشتمل سہ ملکی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان سے بھارت کو افغانستان تک زمینی اور تجارتی راہداری دینے کا مطالبہ کیا ۔جس کے جواب میں وزیر اعظم میاں نوازشریف نے اشرف غنی کا ٹکا سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل تک بھارت کو یہ سہولت نہیں دے سکتے۔ بھارت کشمیری بھائیوں پر ظلم کرے اور ہم اسے تجارتی راہداری دیں ایسا ممکن نہیں۔اشرف غنی کا بھارت کو تجارتی راہداری دینے کا مطالبہ درحقیقت بھارت اور را کی زبان بولنے کے مترادف ہے ۔پاکستان نے افغانستان کو اپنا مال بھارت پہنچانے کی خصوصی اجازت اور سہولت دے رکھی ہے مگر بھارت کو جوابی طور پر یہ سہولت حاصل نہیں ۔افغان حکمران اپنے لئے نہیں بلکہ بھارت کے غم میں گھل رہے ہیں ۔ یوں لگ رہا ہے کہ افغانستان کا اپنا کوئی نفع ونقصان ہی نہیں بلکہ وہ خطے کے تمام مسائل اور معاملات کو بھارت کی عینک سے دیکھنے پر مجبور ہے۔۔ اس دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مختصر عرصے میں دوسری بار کشمیر اور وہاں ہونے والے ظلم ستم کی بات کی ہے۔ایرانی راہبر نے جب عید الفطر کے موقع پر کشمیر میں مظالم کی بات کی تھی تو سر ی نگر سے اس آواز کا زبردست خیرمقدم کیا گیا تھا اور حریت لیڈروں نے پاکستان پر ایران سے اپنے تعلقات میں بہتری لانے پر زور دیا تھا ۔کئی دن کے وقفے کے بعد ہی سہی مگر پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایران کے سپریم لیڈر کے کشمیر کے حوالے سے بیان کا خیرمقدم کیا ۔ایران ایک مدت تک کشمیریوں کی تحریک آزادی کا کھلا موید اور حامی رہا ہے ۔ ایران عالمی اور علاقائی سیاست میں پاکستان سے دور اور بھارت کے قریب ہوتا چلا گیا ۔ پاکستان اور ایران میں دوریاں بڑھ گئیں ۔کم وبیش دو عشرے اسی ماحول میں گزر گئے ۔اب ایک بار علاقائی اور عالمی منظر تبدیل ہو رہا ہے ۔ایران ،پاکستان اور سعودی عرب کا مخمصہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ ایران بھارت کے قریب ہے مگر بھارت امریکہ کی گود میں بیٹھ چکا ہے ایران امریکہ کے نشانے پر آچکا ہے ۔ بھارت کے مقاصد کو تقویت دینا امریکہ کے مقاصد کی ہی تکمیل ہے ۔پاکستان سعودی عرب کے قریب ہے اور سعودی عرب امریکہ کا اتحادی ہے اور بھارت امریکہ کا سٹریٹجک شراکت دار۔اسی طرح سعودی عرب پاکستان کو اپنے ساتھ چلانا چاہتا ہے مگر پاکستان امریکی کیمپ کو چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کر چکا ہے۔اس عجیب اور مخمصوں بھری صورت حال میںہر ملک کچھ نئی پالیسیاں تشکیل دینے پر مجبور ہے ۔ اس لئے طویل خاموشی کے بعد ایران سے سپریم لیڈر جیسی طاقتور شخصیت کی طرف سے کشمیر کا تذکرہ اس اہم اسلامی ملک کی کشمیر پالیسی کی تشکیل نو اور ترتیب نو کا پتا دے رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں