Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت انس بن حلیس کہتے ہیں فارس والے ہم سے شکست کھا کر بہر سیر قلعہ کے اندر چلے گئے تھے اور ہم نے بہر سیر کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو بادشاہ کے قاصد نے قلعہ کے اوپر سے جھانک کر ہمیں کہابادشاہ آپ لوگوں سے یہ کہہ رہا ہے کیا آپ لوگ اس شر ط پر صلح کرنے کے لئے تیار ہیں کہ دریائے دجلہ کا جو کنارہ ہماری طرف ہے وہاں سے لے کر ہمارے پہاڑ تک کی جگہ ہماری ہو اور دوسرے کنارے سے لے کر تمہارے پہاڑ تک کی جگہ تمہاری ہو ؟ کیا ابھی تک تمہارا پیٹ نہیں بھرا؟ تو حضرت ابو مفزر اسود بن قطبہ لوگوں سے آگے بڑھے اور اللہ نے ان سے ایسی بات کہلوادی جس کا نہ انہیں پتہ چلا کہ انہوں نے کیا کہا ہے اور نہ ہمیں۔ وہ قاصدواپس چلا گیا اور ہم نے دیکھا کہ وہ ٹکڑیاں بن کر بہر سیر سے مدائن شہر جارہے ہیں۔ ہم نے کہا اے ابولمفزر!آپ نے اسے کیا کہا تھا ؟ انہوں نے کہا اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد ۖ کو حق دے کر بھیجا ہے مجھے کچھ پتہ نہیں میںنے کیا کہا تھا مجھے تو بس اتنا پتہ ہے کہ اس وقت مجھ پر خاص قسم کا سکینہ نازل ہوا تھا اور مجھے امید ہے کہ مجھ سے خیر کی بات کہلوائی گئی ہے۔ لوگ باری باری آکر ان سے یہ بات پو چھتے رہے یہاں تک کہ حضرت سعد نے اس بارے میں سنا وہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے ابو مفزر!تم نے کیا کہا تھا ؟ اللہ کی قسم وہ تو سارے بھاگ رہے ہیں حضرت ابو مفزرنے انہیں بھی وہی جواب دیا جو ہمیں دیا تھا۔ پھر حضرت سعد نے لوگوں میں (قلعہ پر حملہ کرنے کا ) اعلان کرایا اور ان کو لے کر صف آرا ہوگئے اور منجنیقیں قلعہ پر مسلسل پتھر پھینکنے لگیں۔ اس پر قلعہ کی دیوار پر کوئی آدمی ظاہر نہ ہو ا۔ور نہ ہی شہر میں سے نکل کر کوئی باہر آیا۔ بس ایک آدمی امان پکارتا ہوا باہر آیا ہم نے اسے امان دی اس نے کہا اب اس شہر میں کوئی نہیں رہا تو تم کیوں رکے ہوئے ہو ؟ اس پر لشکر والے دیوار پھاند کر اندر چلے گئے اور ہم نے اسے فتح کر لیا۔ ہمیں اس میں نہ کوئی چیز ملی اور نہ کوئی انسان بس شہر سے باہر چند آدمی ملے جنہیں ہم نے قید کر لیا۔
ہم نے ان لوگوں سے اورامن لینے والے آدمی سے پوچھا کہ یہ سب لوگ کیوں بھاگ گئے ؟ انہوں نے کہا بادشاہ نے قاصد بھیجا تھا جس نے آپ لوگوں کو صلح کی پیش کش کی۔ آپ لوگوں نے اسے یہ جواب دیاکہ ہماری اور تمہاری صلح تب ہوگی جب ہم افریذین شہر کے شہد کو کوثیٰ شہر کے ترنج کے ساتھ ملا کر کھا لیں گے۔ اس پر بادشاہ نے کہا ہائے ہماری بربادی ! غور سے سنو ! فرشتے ان کی زبانوں پر بولتے ہیں اور عربوں کی طرف سے ہمیں جواب دیتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! اگر فرشتہ اس آدمی کی زبان پر نہیں بھی بولا تو بھی یہ جواب ایسا ہے جو اللہ کی طرف سے اس کی زبان پر جاری کیا گیا ہے تاکہ ہم ان کے مقابلے سے باز آجائیں۔ اس پر سارے شہر والے دور والے شہر مدائن چلے گئے ۔
(حیاة الصحابہ جلد ،سوم)

اداریہ