Daily Mashriq


پر شک اور پر خطر انتخابی ماحول

پر شک اور پر خطر انتخابی ماحول

نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کہ انتخابات صاف و شفاف نہیں ہوں گے۔توجہ طلب معاملہ اس لئے ہے کہ دہشت گرد عناصر انتخابات کو پر خطر تو بنا سکتے ہیں لیکن غیر شفاف نہیں بنا سکتے اور نہ ہی وہ ایسا کرنے کی دھمکی دے رے ہیں اس کے باوجود انتخابات کے پر خطر ہونے کی بجائے عدم شفافیت کا سوال کیوں اٹھایاگیا۔اسفند یار ولی خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔تمام تر خطرات اور ایک امیدوار سمیت درجنوں کارکنوں کی قربانی اور درجنوں سے زائد کے زخمی ہونے کے سنگین واقعے اور مزید خطرات کے باوجود اے این پی سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لے گی اور ان میں کامیابی بھی حاصل کرے گی۔عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ پر ہونے والے حملے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جو بھی یہ سب کررہا ہے کرتا رہے ہم الیکشن لڑیں گے۔تحریک طالبان نے اس حملے سے شاید یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک مرتبہ جو ان کا دشمن بن جائے تو پھر وہ چاہے گزشتہ پانچ سال حکومت میں ہو یا نہ ہو، نظریاتی اختلاف ہی انتہائی اقدام کی وجہ بن سکتا ہے۔عام انتخابات کا انتظار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شدت پسند آسان ہدف کی تلاش میں تھے۔ انتخابات کی گہما گہمی میں سیکورٹی یقینی بنانا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔طالبان کے ترجمان عمر خراسانی نے ایک بیان میں کہا ان کی پشتون قوم کے ساتھ کوئی ضد نہیں ہے لیکن جو بھی ہمارے دشمن کا محافظ بننے کی کوشش کرے گا تو پھر ہم ایسوں کو نشانِ عبرت ضرور بنائیں گے۔اس انتباہ سے کسی طور اے این پی مراد نہیں ہوسکتی کیونکہ اے این پی کی طالبان سے مخالفت اور مخاصمت ضرور ہوگی لیکن وہ ان دشمنوں کو نہ تو پناہ دی ہوئی ہے اور نہ ہی اس قسم کا کبھی دعویٰ کیاگیا ہے۔ بہر حال سوال یہی ہے کہ 2013میں اور اس مرتبہ بھی ایک بڑی پشتون قوم پرست عوامی نیشنل پارٹی ہی پھر نشانے پر کیوںہے؟تحریک طالبان کی جانب سے یکہ توت خود کش حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے اور اے این پی کو نشانہ بنائے جانے کی وجوہات سے قطع نظر یہ امر بھی حیران کن ہے کہ اگر اے این پی سے طالبان کی دیرینہ مخاصمت تھی تو باقی جماعتوں اور اس کے رہنمائوں کو نیکٹا کے جاری کردہ انتباہی خطرات کن کی جانب سے ہے۔ اگر ان کو بھی طالبان ہی سے خطرات ہیں تو پھر طالبان ترجمان نے اے این پی ہی کے جلسوں اور رہنمائوں سے لوگوں کو دور رہنے کا انتباہ کیوں جاری کیا ان جیسے بہت سے شکوک و شبہات کی تفصیلات سے قطع نظر اے این پی کے قائد کا انتخابات کی عدم شفافیت کے واضح امکان کا دعویٰ اور بعض سیاسی جماعتوں کو پرے ہٹا کر دوسرے کے لئے راستہ صاف کرنے کے خدشے کے اظہار کی حقیقت کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شکوک و شبہات اور خدشات کی فضا میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں اقتدار جس بھی سیاسی جماعت کو ملے اس کی حکومت اور حکمرانی دونوں میں کھوکھلے پن کا عنصر نمایاں ہوگا جو جمہوریت کے لئے ہی نہیں ملکی مفاد کے اہم فیصلوں میں اعتماد پر بھی اثر انداز ہوگی۔ مشکل یہ ہے کہ نیکٹا کو پوشیدہ خطرات کا ادراک ہے تو سیاسی رہنمائوں کو انتخابات کی عدم شفافیت کی پوشیدہ خطرات کھٹکتے ہیں۔ یہاں ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے والی صورتحال ہے لیکن بعض ایسے واقعات اور معاملات سامنے ضرور آتے ہیں جن کی بنیاد پر خطرات اور عدم شفافیت دونوں کے امکانات نوشتہ دیوار دکھائی دینے لگتے ہیں مگر اس نوشتہ کو مٹانے اور ان خطرات کے تدارک پر قدرت و استطاعت کی کمی اور ناکامی دکھائی دیتی ہے جس سے بے بسی اور شکوک و شبہات دونوں ہی کی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ اے این پی نے 2013ء کے انتخابات میں اس سے بد تر حالات میں حصہ لیا تھا اور تمام تر دبائو کے باوجود اسمبلی میں ان کی موثر نمائندگی موجود رہی۔ اس مرتبہ بھی وہ اس بارے میں پوری طرح پر عزم ہے ممکن ہے اس بار اے این پی کی اسمبلی میں تعداد کافی بڑھ جائے۔ اس کو ہمدردی کے اضافی ووٹ مل سکتے ہیں۔ بہر حال یہ تو ایک امکان کااظہار تھا جو ضروری نہیں کہ درست ہی ہو البتہ جس عزم کے ساتھ اے این پی کی قیادت انتخابات میں خطرات کے باعث احتیاط سے پوری طرح انتخابی مہم کے لئے سر گرم اور پر عزم ہے اے این پی کی قیادت اور من الحیث الجماعت جن خطرات کا سامنا ہے اس کے پش نظر نگران حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے جہاں سیاسی جلسوں اور رہنمائوں کے تحفظ کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے وہاں اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ اے این پی کی اعلیٰ قیادت اور پارٹی کے جلسوں کی حفاظت کے خصوصی اقدامات کئے جائیں اور اے این پی کو دھمکا کر کنارے لگانے کی کوششوں کاڈٹ کر مقابلہ کرنے کے عزم میں اس کی مدد کی جائے۔ ملک میں شفاف انتخابات ہی کافی نہیں بلکہ اس سے زیادہ ضروری امر پر امن انتخابی ماحول بنانا اور ہر سیاسی جماعت اور کارکنوں کو یکساں طور پر انتخابات میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ شفافیت اور غیر جانبداریت اس کے بعد کا مرحلہ ہے جس کی نگران حکومت اور الیکشن کمیشن برابر کے کی ذمہ دار ہیں۔ گزشتہ روز کے خونریز واقعے کی روک تھام میں ناکامی محولہ ذمہ داری پور ی کرنے میں سراسر ناکامی ہے جس کے بعد نگران حکومت کو سیکورٹی انتظامات پر از سر نو غور کرنے اور حفاظتی اقدامات کو مضبوط و مستحکم اور یقینی بنانے پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں