Daily Mashriq


جس کا کام اسی کو ساجھے

جس کا کام اسی کو ساجھے

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا دیامر اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے چندہ مہم کی طرح24 ہزار ارب روپے سے زائد کے ملکی قرضے کی ادائیگی کیلئے مہم چلانے کا عندیہ خوش آئند امر ضرور ہے لیکن اس سے انصاف کے عمل کی طرف ان کی توجہ میں کمی نہیں آنی چاہئے۔ نجی بینکوں کی جانب سے دونوں ڈیمز کے فنڈز کیلئے اشتہاری مہم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا کہ ملکی قرضہ اتارنے کے بارے میں مہم شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ چیف جسٹس کی نیک نیتی اور ملک وقوم کے مستقبل کی فکر کے جذبے بارے کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں لیکن اس کے باوجود جس کا کام اسی کو ساجھے کا مشورہ بے موقع اس لئے نہ ہوگا کہ چیف جسٹس کا اولین فریضہ انصاف کی فراہمی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنے ہی دائرہ اختیار میں ملک وقوم کی فلاح اور مسائل کے حل کیلئے کچھ نہیں کرسکتے۔ ہمارے تئیں چیف جسٹس کی جانب سے فنڈز کے قیام سے زیادہ بہتر اور موزوں کام یہ ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس اور ماتحت تمام ادارے بدعنوان اور راشی عناصر کیخلاف بدعنوانی کے قائم مقدمات کے فیصلوں پر اپنی تمام تر توجہ مبذول رکھیں اور وطن عزیز کے خزانے کو کروڑوں اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والوں سے ہڑپ شدہ رقم وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز کی لوٹی ہوئی دولت وصول کی جائے تو پاکستان باآسانی اپنے غیر ملکی قرضے بے باق کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا۔ معیشت خودبخود مستحکم ہوگی اور قومی خزانے میں اہم اور بڑے بڑے منصوبوں کیلئے رقم موجود ہوگی۔ وطن عزیز میں وسائل کی کمی نہیں، مواقع اور امکانات بھی موجود ہیں مگر بدعنوانی کا ناسور اس قدر پنجے گاڑ چکا ہے کہ اس سے کوئی ادارہ بھی محفوظ نہیں جس کے باعث ملکی ادارے تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ ہمارے تئیں بدعنوانی کے خاتمے اور لوٹی ہوئی دولت کی وصولی اور واپسی سے بہتر کوئی فارمولہ نہیں جس کی سرپرستی کیلئے چیف جسٹس کے منصب سے زیادہ موزوں اور موثر کوئی اور منصب نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جن جن معاملات بارے فنڈز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اس میں خاطر خواہ رقم کا جمع ہونا ضروری نہیں، مستزاد چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد ضروری نہیں کہ ان کا پیشرو بھی ان معاملات کو آگے بڑھائے۔ یہ مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کا مناسب فورم متعلقہ وزارتیں اور محکمے ہیں جن کو پابند بنایا جانا چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری طرح سے ادا کرکے ملک وقوم کو درپیش مشکلات سے نکالیں۔

افغان مسئلے کے حل کی طرف مثبت پیشرفت

سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والی علما کانفرنس کے اختتام پر مکہ اعلامیہ میں افغانستان میں فریقین سے جنگ بندی کر کے براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کی اپیل افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے امید کی کرن ہے ۔ اعلامیے میں افغانستان میں موجود گروہوں سے جنگ بندی کر کے تشدد، تفرقے اور بغاوت کے خاتمے کے لیے اسلامی اقدار پر مبنی براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کو کہا گیا ہے۔ایک ایسے وقت میں جبکہ افغان طالبان کے لیے جہاں میدان جنگ میں دولتِ اسلامیہ جیسی مشکل میدان سیاست میں علما کے فتوئوں اور اعلانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بظاہر طالبان کے ساتھی اپنی اپنی مصلحتوں کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔اعلان مکہ اس واضح لائحہ عمل کا عندیہ ہے جو ماضی میں ان عناصر کی سرپرستی کرنے والے ایک ملک کی طرف سے دیا گیا ہے ۔ افغانستان میں روس کے خلاف جنگ امریکہ ، سعودی عرب پاکستان اور دیگر ممالک کی مدد اورایما ہی پر لڑی گئی بعد میں مجاہدین طالبان کی صورت اختیار کر گئے علاوہ ازیں بھی کئی دھڑے بن گئے مگر فی الوقت طالبان ہی ایک ایسی قوت ہیں جو افغان حکومت کیلئے مسائل کا باعث ہیں گو کہ ماضی میں بھی سعودی عرب جا کر آپس میں نہ لڑنے کاعہد کرنے والے گروہ اپنے عہد سے پھر گئے تھے لیکن اس مرتبہ ایک گروپ کا سرپرست ملک سے معاملہ ہے جبکہ امریکہ اور پاکستان کی بھی سعی ہے کہ افغانستان کی حکومت اور داخلی قوتوں کے درمیان معاملات طے پا جائیں تناظر میں یہ بڑی کامیابی ہے جس سے توقع وابستہ کی جا سکتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن پر اس کے دوررس نتائج مرتب ہوں گے اور افغانستان کے مسئلے کے فریقوں کے حل کیلئے درمیان مفاہمت کا راستہ کھلے گا ۔

متعلقہ خبریں