Daily Mashriq


اندوہ ناک فاجعہ

اندوہ ناک فاجعہ

جی یہ المناک ترین فاجعہ ہے ہارون بلور کا سانحہ ارتحال سیا سی تاریخ کا بدترین اور غمناک ترین ہے ، پشاور جو پھولو ںکا شہر تھا اب وہ ایک اجاڑ ڈیر ہ سا بن کر رہ گیا ہے ، آج تو پشاور نے اتنے ہا تھ پا ؤں پھیلا رکھے ہیںکہ ایک شہر بے ترتیب بن کر رہ گیا ہے مگر وہ شہر جو پھولو ں کا شہر تھا مہکتے مو تیوںکی بہار کا شہر تھا اب سوگ اور ظلمات میں ڈوب کر رہ گیا ہے۔ کیا زمانہ تھا کہ پشاور کی شناخت کن کن شخصیا ت کاحوالہ تھی ، گل محمد مر حوم آج بھی پشاوریوں کے لیے باعث فخر ہیں یہ چند خاند ان ہی تو تھے جو پشاور کی تاریخ کے راقم بھی تھے اور تا ریخ بھی تھے۔ گل محمد کا سیاست میںایک ممتازحوالہ تھا، سید یو سف علی شاہ سابق ڈپٹی اسپیکر کالعدم مغربی پا کستان اسمبلی تھے نستعلیق انسان تھے ، ان کے بھائی سید علی شاہ مرحوم سابق صوبائی وزیر رہے ، پشاور کی تاریخ میں سادات خاندان کا اہم کر دار رہا ہے اور تحریک پاکستان میں اس خاندان نے بہت مثالی کر دار بھی ادا کیا ، ان سادات خاندانو ں میں ممتا ز ترین خاندان سید ظفر علی شاہ مرحوم کابھی ہے۔ موصوف کے خاندان کی سیاست ، تجا رت اورصنعت، مذہب اور زیست کے کئی شعبو ں میں ترقی اور ترویج میںکا وشیںاپنی مثالیں آپ ہیں۔ اسی خاند ان کے ایک سپو ت تاج میر شاہ مرحوم مشرق اخبار کے عہدجدید کے بانی ہیں آپ نے سیاست سے ہٹ کر پشاورکے لیے لاجو اب خدما ت انجا م دیں ،اور مر حوم کی وجہ سے پشاور عالمی سطح پر روشنا س ہوا ،ترکی ، ایران اور پاکستان پر مشتمل ایک علاقائی ترقی تنظیم ایوب خان کے دور میں قائم ہوئی تھی مرحوم تاج میر شاہ نے اس تنظیم میں اہم کر دا رادا کیا ان کی خدما ت کے اعتراف میںانہیں اس تنظیم جو اختصار میںآر سی ڈی کہلا تی تھی صنعت وتجارت کے چمبرز کا صدر منتخب کیا گیا اور انہوںنے تینو ں ممالک کے لیے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ پشاور کے ان اعلیٰ درجے کے معزز خاندانوں میں ایک خاندان بلو ر فیملی کے نا م سے ممتا ز ہوا ، بلو ر خاندان کے سربراہ بلو ر دین مر حوم تھے ۔سرخ وسفید چہر ہ ، ستوان ناک نشیلی آنکھ کیا قد کاٹھ تھا ، بلو ر دین کے یو ں تو شہر میںکافی سارے دوست احباب تھے کیو ں کہ وہ مہما ن نو از تھے لیکن ان کے خصوصی دوستو ں میںسابق صدر پاکستان سکند ر مر زا ، سابق وزیر اعلیٰ کالعدم مغربی پاکستان ڈاکٹر خان صاحب جو باچا خان کے برادر اکبر تھے جگر ی تھے ، جب سکندر مر زا پشاور میںڈپٹی کمشنر تعینا ت تھے تب بھی بلا نا غہ ان دوست احباب کی بیٹھک ہر روز ہوا کرتی تھی۔ یہاں یہ کہنا مقصود ہے کہ اپنے دور کے ارباب اختیار افراد سے نا تا ہو نے کے باوجود بلو ر دین نے کسی قسم کا مالی یا دیگر فائدہ ان شخصیات سے نہیں اٹھایا ۔ اور پشاور کو یہ فخر ہے کہ سیا ست میں سادات خاندانو ں سمیت کسی خاندان نے سیاست میں کوئی آلو دگی نہیں پھیلائی ۔سابق صدر ایو ب خان کے دو ر میںجشن آزادی بڑے جو ش سے منا یا جا تا تھا اور اس روز مقامی حکومت کی جانب سے بہترین دکان سجانے پر انعاما ت دیئے جا تے تھے چنا نچہ ڈھکی دالگراں بازارمیں بلو ر دین کا تجا رتی مستقر ہو ا کر تا تھا وہ اس شان سے سجایا جاتا کہ ہر سال انعام کا مستحق قرار پا یا جا تا۔ لوگ دور دور سے اس کی سجا وٹ دیکھنے کے لیے آیا کر تے تھے ۔بلور دین غیر سیا سی شخصیت تھے مگر ان کا بیوروکریسی اور سیا ست دانو ں وغیرہ میںکا فی اثررسوخ تھا۔ جنرل یحییٰ کے دور میں ان کے صاحبزادے اکبر حاجی غلا م احمد بلور نے سیا ست میں قدم رکھا ، جس کے بعد یہ خاند ان سیا سی ہو گیا اور سیاست میں پشاور کے دیگر خاندانوں کی طر ح اس خاندان کی خدما ت نا قابل فرامو ش ہیں ، حا جی غلا م احمد بلور ویسے خود بھی زاہد مر تا ض شخصیت کے مالک ہیں اسی طر ح انہو ں نے سیا ست کو بھی عبادت ہی سمجھا ۔ اس خاندان نے سیا ست میں کئی عمدہ روایا ت کو جنم دیا اور اس خاند ان نے سیا ست میں کئی مرتبہ صعوبتیں بھی بر داشت کیں مگر کسی بھی آزمائش میں نہ توکسی صلہ کا طمع کیا اور نہ کبھی فکر ی ، نظریا تی سیا ست سے کنا رہ کشی کی ۔ سب سے زیا دہ اس خاند ان کو بھٹومر حوم کے دور میں تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔ اگر ولی خان مر حوم اور ان کے صاحب زادے اسفند یار ولی دونو ں بھٹو کے دور میں پا بند سلا سل کر دئیے گئے تھے تو ادھر حاجی غلا م احمد بلور اوران کے بھائی بشیر احمد بلور کو بھی ساتھ ہی زندان میں ڈال دیا گیا تھا ، بھٹو مر حوم کے دور میں سیا ست دانو ں پر جھوٹے اور بڑے مضحکہ خیز مقدما ت کھڑے کر دیئے جا تے تھے جیسے اے این پی کے لیڈروں پر پاکستان دشمن ہو نے مقدمہ قائم کیا گیا ، یا پھر مسلم لیگ ن کے رہنما ء خواجہ سعد رفیق کی والدہ ما جد ہ مر حومہ ریحانہخواجہ رفیق پر بھینس چور ی کا مقدمہ کھڑاکر دیا گیا تھا اسی طرح بلو ر خاندان کو زیر کر نے کے لیے کئی طرح کے حربے استعمال کیے گئے ، بینکو ں کو کنگالا گیا ایک پیسہ کا قرضہ ان کے نا م نہ نکلا۔ حقیقت یہ ہے کہ بلو ر خاندان کی سیاست اور اہل پشاور کے لیے خدما ت انمول رہی ہیںبلکہ انہو ں نے پارٹی کے لیے بھی بیش بہا قربانیاں دیں۔جنرل ضیا الحق کے دور میں پارٹی کے مر کزی لیڈ روں کے سیا سی اخراجات کے یہ سب سے بڑے فنا نسرتھے۔ پارٹی کی جدوجہد میںضیاء الحق کے دور میںجیلیں بھی کا ٹیں ، اس کے باوجود پا رٹی میں ان کو وہ قدر ومنزلت نہ مل سکی جس کے وہ حق دار تھے بلکہ آزمائشو ںمیںمبتلا کیے جا تے رہے ہیں ، اے این پی جو خود کو ترقی پسند ، جمہوری ، سیکو لر جما عت کا دعویٰ کرتی ہے اس نے باچا خان کے خاندان سے باہر کبھی بھی پارٹی کی قیادت قبول نہیںکی حتیٰ کہ جب اسفند یا ر ولی ایک مرتبہ پارٹی کی قیا دت کر نے سے پارٹی آئین کے مطابق معذور ہو گئے تھے تو پارٹی آئین میں ترمیم کی گئی اور قیا دت باچا خان خاند ان کے سپر د ہی رہی ۔اسی طرح وزارت عظمیٰ کا عہد ہ بھی باچا خان کے خاندان سے باہر جانے نہیں دیا گیا ، اس وقت دیکھاجا ئے تو اس خاندان کی پارٹی کے لیے قربانیا ں سب سے زیا دہ ہیں۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں