Daily Mashriq


اسٹیٹ بینک کا اقدام

اسٹیٹ بینک کا اقدام

پاکستانی بینکوں نے فارن کرنسی اکائونٹ ہولڈرز کو غیرملکی کرنسی میں ادائیگی سے انکار کردیاہے اور ان کو انٹر بینک شرح پر پاکستانی روپے میں رقم وصول کرنے پر مجبور کیاجارہاہے ، بینکنگ حلقوں سے تعلق رکھنے والے ذرائع نے یہ بات بتائی ہے،ماہرین اقتصا د یات کاکہناہے کہ بینکوں کی جانب سے فارن کرنسی اکائونٹ ہولڈرز کو غیرملکی کرنسی میں ادائیگی سے انکارکی وجہ سے غیر ملکی کرنسی اکائونٹ کھولنے والے کھاتے داروں کو کم وبیش30244 ملین روپے کاخسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔اسٹیٹ بینک پاکستان سے حاصل کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال مئی تک مختلف بینکوں میں فارن کرنسی اکائونٹ میں محفوظ رقم کی مالیت7560 ملین ڈالر کے مساوی تھی ،تاہم کمرشل بینک فارن کرنسی اکائونٹ میں موجود رقم کی تفصیلات بتانے سے گریزاں ہیںا وریہ موقف اختیار کررہے ہیں کہ ان کے پاس فارن کرنسی اکائونٹ میں رکھی گئی رقم کے حوالے سے تازہ ترین اعدادوشمار نہیں ہیں۔بینکنگ ذرائع کے مطابق بینکوں نے آئی ٹی کمپنیوں، تاجروں اور غیر ملکی اورآف شور کمپنیوں سے تنخواہیں وصول کرنے والے کھاتیداروں کے کھاتے منجمد کردیئے ہیں ،اور ان کو انٹربینک شرح پر مقامی یعنی پاکستانی کرنسی میں ادائیگیاں کررہے ہیں۔جبکہ فارن اکائونٹس ہولڈرز کاکہناہے کہ ڈالر کی انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کی قیمت میں3ے5روپے فی ڈالر کافرق ہے۔ فارن کرنسی اکائونٹ ہولڈرز نے بینکوں کے اس فیصلے کومسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ بینکوں کا یہ یکطرفہ فیصلہ قطعی غیرقانونی ہے اور اس سے ان کاکاروبار تباہ ہوجائے گا، فارن کرنسی اکائونٹ ہولڈرز نے دھمکی دی ہے کہ اگر مقامی بینکوں نے اپنے اس فیصلے پر عملدرآمد پر اصرار جاری رکھا تو وہ بینکوں کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوں گے۔آئی ٹی ماہرین کاکہناہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں کو خدمات فراہم کرنے والے لوگوں کو آئی ٹی کے حوالے سے کیے گئے معاہدوں کے سبب بھاری نقصان کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔کیونکہ بینک انہیں ڈالر کے بدلے کم شرح پر رقم ادا کرتے ہیں لیکن جب ان کو غیر ملکی کرنسی کی ضرورت ہوتی ہے تو انہیں اوپن مارکیٹ سے ڈالر زیادہ قیمت پر خریدنے پر مجبور ہونا پڑتاہے۔غیر ملکی کمپنیوں کوآئی ٹی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے ماہرین کاکہناہے کہ اگر بینکوں نے فوری طورپر فارن کرنسی اکائونٹ بحال نہ کیے تو وہ اپنی رقم غیر ملکی بینکوں میں منتقل کرنے پر مبجور ہوں گے جس سے مقامی بینکوں کو دھچکا لگ سکتاہے۔ بعض لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بینک ایک ہزار ڈالر سے زیادہ کی ہر لین دین پر 25 ڈالر چارج کررہے ہیں جو بقول ان کے قطعی غیرمنصفانہ ہے۔انہوں نے اسٹیٹ بینک سے اس صورت حال پر فوری کارروائی کرنے اور بینکوں کو یکطرفہ کارروائی سے فوری طورپر روکنے کامطالبہ کیاہے۔دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے فارن کرنسی اکائونٹ منجمد کیے جانے کے الزام کی تردید کی ہے لیکن اسٹیٹ بینک کے ذرائع کا کہناہے کہ خدمات کی فراہمی کی ادائیگی مقامی کرنسی ہی میں کی جاسکتی ہے۔ہم نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک کاروبار کرنے والے تمام کھاتیداروں کومقامی کرنسی میں ادائیگی کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ یہ خدمات کی برآمد کے زمرے میں آتی ہے۔ بینکنگ ذرائع سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ اس فیصلے کو ملک کے بینکنگ کے نظام میں اصلاحات کاپیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے رقوم کی فراہمی پر نظر رکھنے کے ذمہ دار بین الاقوامی نگران ادارے کومطمئن کرنے کے لیے پاکستان کے مالیاتی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جارہی ہیں ، جبکہ بعض دیگر حلقوں کاکہنا ہے کہ بینکنگ سیکٹر ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں بھاری منافع کمانے کی کوشش کررہاہے۔ اطلاعات کے مطابق نئے قوانین کے تحت فارن کرنسی اکائونٹ کھلوانے کے لیے ٹیکس دہندہ ہونا ضروری ہے یعنی صرف ٹیکس ادا کرنے والے ہی فارن کرنسی اکائونٹ کھلواسکتے ہیں لیکن ان کو بھی ادائیگی غیر ملکی نہیں بلکہ مقامی کرنسی میں کی جائے گی۔بینکنگ کے اندرونی ذرائع کا کہناہے کہ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بعد اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مشورے پر فارن کرنسی اکائونٹ منجمد کرنے کافیصلہ کیا گیا تھا جس پر اب بھی عملدرآمد کیاجارہاہے۔جبکہ فارن کرنسی ہولڈرز کاکہناہے کہ وہ بینکوں کے اس یکطرفہ فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔دوسری جانب بینکنگ ذرائع کاکہنا ہے کہ تمام کمرشیل بینک اسٹیٹ بینک کے ماتحت اور اس کی نگرانی میں کام کرتے ہیںاور اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر عمل کرنا ان پرلازم ہے۔ فارن کرنسی اکائونٹ ہولڈرز کو مقامی کرنسی میں ادائیگی کاسلسلہ بھی اسٹیٹ بینک کی ہدایت پر شروع کیاگیاہے اور اگر اسٹیٹ بینک اپنی یہ ہدایت واپس لے، لے تو انہیں اپنے کھاتیداروں کو غیر ملکی کرنسی میں ادائیگی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بینکنگ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ فارن کرنسی اکائونٹ ہولڈرز کو عدالت کادروازہ کھٹکھٹانے کی صورت میں مقامی بینکوں کونہیں بلکہ اسٹیٹ بینک کو فریق بنانا چاہئے کیونکہ تمام کمرشل بینک اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر عمل کے پابند ہیں۔

متعلقہ خبریں