Daily Mashriq


امن کی خواہش میں تتلیوں کا قتل

امن کی خواہش میں تتلیوں کا قتل

پشاور ایک بار پھر لہو لہو ہے ، سیاسی اختلافات سے قطع نظر اہل پشاور نے اس نئے سانحے کو من حیث المجموع ذاتی دکھ ، کرب اور تکلیف دہ محسوس کر کے جس یک جہتی کا ثبوت دیا وہ صرف اہل پشاور ہی کا شیوہ ہے ، کونسی آنکھ ہے جو اشکبار نہیں ، کونسی زبان ہے جو فریاد کناں نہیں ہے ، ہمیں اس سے غرض نہیں کہ اہل حکم کیا کہتے ہیں ۔ ذمہ داری کس پر ڈالتے ہیں ، ردالفساد اور ضرب عضب جیسے آپریشنوں کی یادد لائی جاتی ہے ۔ ہمیں اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ ذمہ داری کون قبول کر رہا ہے ۔ ہم تو پشاور کے گھر گھر سے اٹھنے والے جنازوں پر نوحہ کناں ہیں ہمیں تو ایک بار پھر اپنے چند اشعار یاد آرہے ہیں جو ایسے ہی سانحوں سے گزرتے ہوئے نوک قلم پر آگئے تھے اور اپنے وقت کے تناظر میں جو خیالات کاغذ پر امڈ آئے تھے وہ آج بھی اپنی اہمیت کا احساس دلارہے ہیں ۔

اپنے ہی بھائی مقابل ہوں گے

اب تو ہر موڑ پہ قاتل ہوں گے

شہر گل تیری فضائوں کی ہو خیر

دربہ درپھر ترے سائل ہوں گے

طلب امن رہے ارض وطن

ورنہ ویراں ترے ساحل ہوںگے

کھوج بارود بہ کف لوگوں کی جیب

کہیں ڈالر کہیںروبل ہوں گے

باعث فکر ہے لہجے کی چھبن

کہیں قاتل ، کہیں بسمل ہوں گے

سن مرے دور کے قابیل ، ترے

ضائع سب فرض و نوافل ہوں گے

یوں تو ہر لب پہ دعائیں ہیں شباب

پھر بھی لرزیدہ مگر دل ہوں گے

ہارون بلور بھی اپنے بہادر والد کی طرح شہادت کے رتبے پر فائز ہوگئے ، ان کے ساتھ دیگر 21(تادم تحریر) قیمتی انسانوں نے جام شہادت نوش کر لیا ، ان کا قصور کیا تھا ۔ ان سے پہلے جو لوگ اس قسم کے حملوں میں شہادت کے رتبے پر گزشتہ کئی برس کے دوران فائز ہوتے رہے ہیں ، ان سب کا بھی کیا قصور تھا ؟ ۔ اس سوال کا جواب کون دے گا ۔ وہ جنہوں نے ان بے گناہوں کو مارا یا پھر وہ جنہوں نے پرائی آگ اپنے گھر میں لگوانے کیلئے پہلے دوسرے کے خیموں کو بھسم کرنے کی سازش کا دانستہ یا پھر نا دانستہ حصہ بننا قبول کیا اور ڈالر کمائے ۔ اب لاکھ تاویلیں دی جائیں جو آگ ہمارے چاروں جانب بھڑک رہی ہے اس کا انت نہ جانے کیا ہو ، کیا کبھی یہ کسی منطقی انجام تک پہنچے گی یا ہم آنے والی نسلوں کو بھی اس آگ میں جھونک کر یونہی ماتم کناں رہیں گے۔ اس آگ کی تپش تو لگ بھگ ہر شخص محسوس کر سکتا ہے ، تاہم وہ جو پشتو میں کہتے ہیں کہ زمین وہاں گرم ہوتی ہے جہاں آگ بھڑک رہی ہو ، اصل رنج و غم تو صرف وہی لوگ محسوس کرتے ہیں جن کے پیارے ان شعلوں کی نذر ہو چکے ہوں ۔ یعنی جس تن لاگے سو تن جانے ۔

درغنیم جلانے کو جو لگائی تھی

وہ آگ پھیل گئی میرے آشیانے تک

رہوار قلم رکنے ہی میں نہیں آرہا ، میں تو شہید ہارون بلور کے حوالے سے چند ایسی باتیں لکھنا چاہتا تھا جس کا علم میرے علاوہ ایک اور کر مفر ما شین شوکت کو ہے ۔ جب ہارون بلور بلدیہ پشاور کے ناظم تھے اور ان سے بعض عاقبت نا اندیش افراد نے میونسپل لائبریری کے حوالے سے ایک ایسا فیصلہ کروایا جو کتاب سے محبت کرنے والوں کیلئے کسی سانحے سے کم نہیں تھا ، تب ہمدم دیرینہ شین شوکت کی فریاد پر میں نے ایک انتہائی سخت کالم لکھا او رمیونسپل لائبریری کے حوالے سے ان کے ممکنہ فیصلے پر سخت تنقید کی ، مگرجیسے ہی میرا کالم ان کے سامنے آیا اور حقیقت حال کا انہیں علم ہوا تو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر انہوں نے اپنے احکامات واپس لئے ، ہارون بلور سے کئی ملاقاتیں ہوئیں ، خصوصاً جب وہ اے این پی کے دور حکومت میں وزیراعلیٰ کے مشیر کے عہدے پر فائز تھے تو انہی کی کاوشوں سے حیات آباد کی کئی شاہراہیں پشاور کے اہل کمال وفن ، جن میں ادباء و شعراء، کھلاڑی ، فنکار ، اساتذہ کرام وغیرہ شامل تھے ، کے ناموں سے منسوب کی گئیں ، جو ان کی اپنے شہر کے نابغہ لوگوں سے محبت کا بین ثبوت تھا ، بلکہ اس قسم کے کارنامے عموماً اس وقت کئے جاتے ہیں جب نامور لوگ دنیا سے گزرتے ہیں ، مگر اس کے برعکس نہ صرف کئی مرحومین کے نام سے سڑکوں کو منسوب کیا گیا بلکہ زندہ لوگوں کو بھی اس فہرست میں شامل کر کے ان کی زندگی ہی میں انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دل میں اپنے لوگوں کی کس قدر محبت تھی اور وہ ان کی خدمات کے کس قدر معترف تھے ۔ خواہ ان افراد کا تعلق جس بھی طبقے سے ہو ۔

تتلیوں کو قتل کر کے امن کی خواہش میں ہم

ڈھیر اب بارود کا دہلیز پر دھرنے لگے

متعلقہ خبریں