Daily Mashriq


لاچار پاکستانی عوام

لاچار پاکستانی عوام

ایک مفکر ایڈورڈ آر میرو کہتے ہیں۔

A nation of Sheep will soon have a Governament of Wolvesبھیڑ بکریوں جیسی قوم پر ہمیشہ بھیڑیوں کی حکومت ہوتی ہے۔ اگر ہم غور کریں اور پاکستانی سیاست پر نظر ڈالیں تو ایڈورڈ میرو کا قول بالکل پاکستانی قوم اور سیاست پر پوارا صا دق آتا ہے۔ پاکستان کے 22کروڑ عوام 6یا 7 ہزار کارخانہ دار، جاگیردار اور سرمایہ دار سیاست دانوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں جونسل در نسل پاکستان کے 22 کروڑ عوام پر بھیڑیوں کی طرح باری باری حکومت کرتے ہیں اور پاکستان کے غُربت ، افلاس اور بے روز گاری میں پھنسے ہوئے عوام بھیڑ بکریوں کی طرح ان کے ہاتھوں میں کھیلتے رہتے ہیں۔اب جبکہ 2018 کے انتخابات میں تقریباً دو ہفتے ہیں ، پاکستان کے یہی سیاست دان گائوں گائوں، گلی گلی ووٹروں کے پیچھے پاگلوں کی طرح گھومتے پھرتے ہیں اور انکے انداز تخاطب اور طرز ملاقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے جیسے ان سے زیادہ عوام کا کوئی اور خیر خواہ نہیں۔ بد قسمتی سے نہ انکے پاس کوئی ایجنڈا ہے اور نہ منشور، نہ کوئی عقل ہے اور نہ شعور اور اگر برائے نام ایجنڈا، اور منشور نامی کوئی چیز ہے بھی تو انتخابات کے بعد یہی سیاست دان اسی ایجنڈاور منشور کو پائوں تلے رو ندتے اور سالوں سال نظر نہیں آتے ۔ ریاست کی ذمہ داریوں میں شہریوں کو مال و جان کا تحفظ فراہم کرنا ، روزگار کا بندوبست کرنا، تعلیم اور صحت مہیا کرنا اور دیگر سہولیات فراہم کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے مگر یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے یہ سیاست دان فوجی اور سول اسٹیبلشمنٹ عوام کو کچھ نہیں دیتے اور پاکستانی عوام ان تمام چیزوں کا از خود انتظام کرتے ہیں اورریاست کاا س میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب یہی حکمران پاکستان کے انہی عوام کے خون پسینے کی کمائی پر عیاشیاں کر تے رہتے ہیں۔اگر کالج، یونیورسٹی ، پُل ، روڈ ، ہسپتال ، ڈسپنسری، گلی کوچے کی تعمیر، ٹرانسفارمریا سوئی گیس کنکشن لگاتے ہیں تو ان پر اپنے نام اور پا رٹی کی تختی لگاتے ہیں جیسے یہ چیزیں انہوں نے اپنی ذاتی جیب سے تعمیر کی ہو۔انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پاکستانی عوام بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کا لگا نا یا تعمیر کرنا ان لیڈروں اور قائدین کے مر ہون منت ہے۔ ابھی ہمارے یہی سیاست دان گلی کو چوں میں گھومتے نظر آتے ہیں اور غریب عوام کے ساتھ وہ وعدے کرتے ہیں جو بعد میں انہوں نے پورے نہیں کرنے لیکن جن کا پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہے کیونکہ ملکی فلاح بہبود اور ملک میں اچھی قانون سازی کے لئے عوام صوبائی، قومی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین کے ووٹ دیتے ہیں۔ پاکستان کے پسے ہوئے مفلوک الحال غریب عوام کوچاہیئے کہ جو کچھ ہمارے حکمران اور سیا ست دان تعمیر کرواتے ہیں تو اپنی کمائی سے نہیں کرواتے بلکہ پاکستانی عوام کے پیسوں سے کرواتے ہیں۔ اور ان سیا ست دانوں سول اور ملٹری افسر شاہی کو پاکستانی عوام کا احسان مند ہونا چاہئے کیونکہ ہمارے خون پسینے کی کمائی سے یہ کھاتے پیتے اور عیاشیاں کرتے ہیں۔اگر ہم غور کریں تو ہمارے یہ سیاست دان مفکر ایڈورڈ آر میرو کے مطابق بھیڑیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں جنہوں نے ہماری بدحالی میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ اور یہی وجہ ہے کہ قوموں کی برادری میں پاکستان 190 ممالک کی فہرست میں 130 ویںنمبر پر ہے۔اس وقت اقتصادی اور مالی لحاظ سے ہمیں جرمنی یا دوسرے کئی ترقی یافتہ ممالک کا ہم پلہ ہونا چاہئے ، یا اگر جرمنی ، ڈنمارک اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کا ہم پلہ نہ ہو سکے تو کم از کم ہمیں کوریا، چین اور بھارت کے برابر ہونا چاہئے مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم جنوبی ایشیاء میں سری لنکا ، بنگلہ دیش، اور دیگر کئی کئی ممالک سے بھی ہر لحاظ سے نیچے ہیں۔ اور ہمارے کئی سماجی اور معاشی اعشاریئے تو افریقہ کے طرح پسماندہ ترین ممالک سے بھی کم ہیں۔ ابھی ہر پا رٹی 2018کے عام انتخابات کے لئے گھر گھر ووٹ کی بھیک مانگ رہی ہے میرے خیال میں یہ پاکستان کا ہمیشہ کی طرح بد عنوانی اور ووٹروں کی خرید و فروخت سے بھر پورمال الیکشن ہوگا۔کیو نکہ جو کچھ انتخابات سے پہلے ہم دیکھ رہے ہیں ، سیاست دان اور پا رٹی ورکرز ایک دوسرے کے خلاف جس طرح زبان استعمال کررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ پا رٹیاں بدلنا، ایک دوسرے کے ووٹروں کو خریدنا ، اُمیدواروں کی آنکھوں میں لالچ ، خود غرضی اور غرور کسی سے پو شیدہ نہیں۔ جب ہمارے سیاست دانوں اوربننے والے قانون سازوں کایہی رویہ ہوگا تو وہ ملک کے نظام کو کیسے بدلیں گے اور عوام کی زندگی میں کیسے تبدیلی لائیں گے۔ ملک لیڈر بناتے ہیں اور وہ عوام کی قسمت بدلتے ہیں۔ مگر جس طرح ہمارے لیڈروں اور قائدین کا رویہ ہے جس طرح اُنکی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیت ہے وہ کیسے عوام کی قسمت بدل سکتے ہیں۔اگر ملکوں کی تا ریخ اورعروج وزوال پر نظرڈالی جائے تو اس میں ملکی قیادت کا بڑا کردار ہوتا ہے جو وطن عزیز میں ناپید ہے۔اب عوکو ہی جاگنا ہوگا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ آئندہ بھی وہ بھیڑ بکریوں کی طرح لاچار زندگی گزارنا پسند کریں گے یا خود دار قوموں کی طرح سر اٹھا کر جینا پسند کریں گے فیصلہ عوام نے کرنا ہے ۔

متعلقہ خبریں