Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

محمد بن حسن بن مظفر کہتے ہیں :’’نازوک کے زمانہ خلافت میں بغداد کی مشرقی جانب میں ایک جماعت کا قضیہ پیش کیا گیا ، خلیفہ نے ان کی گردنیں اڑانے کاحکم جاری کر دیا ، ایک نو خیزابھرتا ہوا غلام بھی ان میں تھا ، جس کے چہرے پر معصومیت چھائی ہوئی تھی اور وہ بے حد پر کشش تھا ، جب اسے خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ غلام مسکرایا۔ میں نے اس سے کہا : ’’ تم تو مجھے بڑے بہادر اور مضبوط اعصاب کے مالک لگ رہے ہو کہ رونے کے بجائے تمہیں ہنسی آرہی ہے ۔ کیا تمہیں اپنی کوئی خواہش پوری کرنی ہے ؟‘‘۔ کہنے لگا :’’ میں ایک گرم سری اور ایک باریک روٹی کا خواہش مند ہوں ‘‘۔ میں نے درباروالوں سے کہا :’’اس کے قتل کو کھانا کھالینے تک مئو خر کردو!‘‘محمد بن حسن مظفر کہتے ہیں :’’ میں نے ایک جماعت کو تیزی سے ادھر آنے کا حکم جاری کیا اور اس نوجوان کو میں نے ان کی موجودگی میں بلایا ، مگر وہ بڑی گرم جوشی اور پر سکون انداز میں کھانا کھانے میںمصروف تھا ۔ اس کے چہرے پر کوئی خوف کی پر چھائی بھی نہ تھی ۔ مجھے بے حد حیرانگی ہوئی کہ موت کی ذرا بھی اسے پروا نہیں ہے ، نہ کوئی ڈر ہے ۔ میں نے تنگ آکر اسے کہا : ’’تم اتنا سکون سے کھانا کھارہے ہو ، جب کہ موت تمہیں جھانک رہی ہے ؟‘‘اس نے یہ سنتے ہی زمین پر سے ایک تنکایا گھانس پھونس اٹھایا اور اسے ہوا میں اچھال دیا اور پھر مجھ سے مخاطب ہوا : ’’اس تنکے کے زمین پر گرنے سے بھی پہلے سو کے قریب کشادگی کی راہیں کھل سکتی ہیں ‘‘۔ محمد بن حسن مظفر کہتے ہیں :’’خدا کی قسم !ابھی اس کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ فضا ایک بلند چیخ سے گونج اٹھی اور دوسرے ہی لمحے پتہ چلا کہ ’’نازوک ‘‘ کو قتل کر دیا گیا ہے اور عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے نازوک کی حکومت کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ۔ یہ سنتے ہی ہم جہاں جمع تھے ، وہاں سے سب نے بھاگنے میں ہی عافیت جانی ، چنانچہ سب نے بھاگ کر اپنی جان بچائی ۔ مجھے اپنی جان کے لالے پڑ گئے ۔ اس لئے میں بھی اس نوجوان سے غافل ہو کر تیز رفتاری سے اپنی سواری کو دوڑا کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ راستے میں کسی انسان نے مجھے انتہائی نرمی سے پکڑا ، جب مڑکر دیکھا تو وہی نوجوان کھڑا تھا ۔ اس نے مجھے روک کر کہا : ’’بھائی ! حق تعالیٰ پر مجھے تم سے بھی زیادہ اچھا گمان ہے ، دیکھ لیا رب تعالیٰ کی باریک بینی کی کاریگری کو!‘‘۔ تنگی و تکلیف ہمیشہ نہیں رہتی ۔دنیا میں مشکلات پیش آئیں تو یہ سمجھ لیں کہ ان کے بعد آسانی کا وقت بھی آئے گا ۔ قرآن کریم میں ہے : ترجمہ :

’’یقینا مشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے ‘‘۔

(سورہ الم نشرح : 6)

میں نے اسے جان کی سلامتی پر مبارک باد دی اور اس نے بھی میرا شکریہ ادا کیا کہ میری سفارش ہی سے اس کا قتل مئوخر کیا گیا تھا ۔ اسی دوران لوگوں کا سمندر اس کے اور میرے درمیان حائل ہوگیا اور ہم ایک دوسرے سے جدا ہوگئے ۔ یہ میری اس سے آخری ملاقات تھی ۔ (پریشانی کے بعد راحت)

متعلقہ خبریں