Daily Mashriq

حادثات‘ جدید ریلوے نظام متعارف کرانے کی ضرورت

حادثات‘ جدید ریلوے نظام متعارف کرانے کی ضرورت

ریلوے کے ذریعے محفوظ سمجھے جانے والے سفر کا اب سب سے پر خطر بن جانا پاکستان میں ریلوے نظام کی تباہی بوسیدہ پن اور متروک سمجھے جانے کے لئے کافی ہے۔ ریلوے ریکارڈ کے مطابق جولائی 2018ء سے جولائی 2019ء تک ٹرین کے چھوٹے بڑے 80 حادثات ہوئے جس میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ریلوے کو کروڑوں روپے کانقصان ہوا اور ریلوے کا پورا نظام متاثر ہوا۔ حکومت ہر بار حادثات کی تحقیقات کاحکم دیتی ہے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لئے امداد اور زخمیوں کا علاج معالجہ کرکے اگلے حادثے کاانتظار کرنے لگتی ہے۔ ریلوے حادثات دنیا بھر میں ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں جس بڑے پیمانے پر ریلوے حادثات رونما ہو رہے ہیں ان سے خطرے کی گھنٹی اور ریلوے کا پورا نظام بیٹھ جانے کا عندیہ ملتا ہے۔ پاکستان ریلوے میں انحطاط کا عمل خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے وزیر ریلوے کے دور میں شدت کے ساتھ سامنے آیا موجودہ وزیر ریلوے پہلے بھی اس منصب پر رہ چکے ہیں اور ان کا دعویٰ ریلوے کی بحالی تھا مگر عملی طور پر کچھ نہ ہوا۔ نیب کے زیر تفتیش گرفتار سابق وزیر ریلوے نے ریلوے میں اصلاحات اورریلوے کی نجکاری کی بجائے بحالی کی جدوجہد کی مگر معاملہ جوں کاتوں رہا ۔ چونکہ سابق ادوار میں ریلوے کے حادثات کی شرح اتنی زیادہ نہیں تھی اور خسارہ و بد انتظامی ہی سنگین مسائل تھے موجودہ وزیر ریلوے جن بلند وبانگ دعوئوں کے ساتھ آئے اور ایک تقریب میں وزیر اعظم سے شاباش بھی لی بغیر انتظامات کے نئی ٹرینوں کے افتتاح بھی کئے گئے ایک مصنوعی تاثر قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن تقریباً ہر ہفتہ عشرہ بعد کے حادثات سے ریلوے کاوجود ہی قبر میں پائوں لٹکانے کے تاثرات کا باعث بن رہا ہے ۔ ریلوے میں سیاسی بنیادوں پرتقرریاں‘ تبادلے اور اہم عہدوں پر ناموزوں افراد کی تقرریاں کوئی راز کی بات نہیں کسی وزیر ریلوے نے بھی ریلوے کی بحالی کاکوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی مثال دی جاسکے۔ دوسری جانب اختیارات کے غلط استعمال اور بد عنوانیوں کی داستانیں رقم ہوئیں۔ ریلوے کا ہر ڈویژن جب حکمرانوں کی خوشنودی اور ان کی فرمائشیں پوری کرنے میں لگا رہے تو انجام یہی سامنے آنا تھا اور یہ سب کچھ تقریباً ہر دور میں بلا امتیاز ہوتا رہا ہے۔ ایک حالیہ وزیر ریلوے کے کرپشن میں ملوث نہ ہونے کی شنید ہے لیکن ان کے دور میں ریلوے افسران بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے باز نہیں آئے اس طرح کی صورتحال میں ریلوے کا محکمہ نظر انداز اور تباہی کے کنارے آکھڑا ہوا۔ پاکستان ریلوے کے مختلف اعلی انتظامی عہدوں پر فائز رہنے والے ایک افسر کی معروف اردو ویب سائٹ کے نمائندے سے بات چیت لمحہ فکریہ ہے جس میں انہوں نے بجا طور پر ان معاملات کی نشاندہی کی ہے جو ریلوے کے نظام کی انحطاط کا سبب بنے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس پچیس سال سے ریلوے کو غیر سنجیدہ اور سیاسی انداز سے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہر ریلوے وزیر اپنے منظور نظر افسران کو قابلیت نہ ہونے کے باوجود اعلی عہدوں پر فائز کرکے کام چلانے کی کوشش کرتاہے۔ریلوے ٹریک مکمل طور پر بوسیدہ ہوچکا ہے، سگنلنگ سسٹم بھی مکمل کام نہیں کر پا رہا۔انہوں نے کہا عالمی سطح پر ریلوے کو ایک مکمل نظام کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور اس پر ریسرچ کی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان ریلوے میں ہر بار حادثہ ہونے پر نظام میں تحقیقات کے بعد نشاندہی کر کے خامیاں دور کرنے کی بجائے کسی چھوٹے ملازم کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیکر اگلے حادثے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ریلوے حادثات کی تحقیقات کے لئے تعینات فیڈرل انسپکٹر جنرل فار ریلوے گزشتہ بیس سال سے سول انجئینرنگ کے شعبے سے لگایا جاتا ہے جو مکینیکل اور سگنل کا ماہر نہیں ہوتا لہذا ہر بار سول ڈھانچے کی خامیوں کو نظر انداز کر کے روایتی طور پر تحقیقات کی جاتی ہے۔ اگر ٹریک اور سگنلنگ کا نظام بوسیدہ ہے تو اسکی بہتری کے لئے فنڈز جاری کس نے کرنا تھے؟ اگر جاری ہوئے تو رکاوٹ کون بنا؟ یہ مسائل کبھی بیان نہیں ہوئے۔ کام چلا طریقہ اس محکمہ کی بربادی کا موجب ہے۔ ریلوے کے مطابق ٹرین ڈرائیور، گینگ مین، کانٹا بدلنے والے اورلائن پر کام کرنے والے چھوٹے ملازمین کی محکمے میں شدید کمی ہے۔ آٹھ کی بجائے بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی کرنے والے ملازم سے دبائو میں غلطی فطری ہے۔ محکمہ میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ کونسا افسر کس شعبے کا ماہر ہے اور اسکا تجربہ کس کام کا ہے۔ اہم ترین آپریشنل اور مکینیکل سیٹوں پر اعلی حکام نے اپنے چہیتے ناتجربہ کار لوگ تعینات کر رکھے ہیں۔ انہوں نے صورتحال کی بہتری کے حوالے سے بجاطور پر اس امر کا اعادہ کیا کہ ذمہ داروں کو سزا دینے کی بجائے نظام بہتر کرنے تک حادثات پر قابو پانا ناممکن ہے۔ریلوے حادثات کو ہر دور میں برائے سیاست ہی استعمال کیاگیا کجا کہ اس کو سنگین مسئلہ سمجھ کر اس کی وجوہات کا جائزہ لے کر اصلاح احوال کی سعی کی جاتی۔ موجودہ وزیر اعظم جب حزب اختلاف میں تھے تو ہر حادثے کے بعد وزیر ریلوے کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے رہے مگر آج جب خود ان کے دور حکومت میں ریلوے حادثات کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں ان کی جانب سے وزیر ریلوے کو استعفے دینے کی کوئی بات نہیں ہوتی ان کا کردار و عمل بھی سابقون الاولون کی طرح ہی کا ہے حزب اختلاف کاکردار بھی سیاسی اور روایتی ہے۔ ریلوے کے نظام کی بحالی کے لئے اس قسم کے روئیے ترک کرنے اور صورتحال سے نکلنے کی ضرورت ہے اور حادثات کی اصل و حقیقی وجوہات کا جائزہ لے کر بلا امتیاز کارروائی کرنے اور وجوہات دور کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ صحیح منوں میں دیکھا جائے تو ملک میں موجودہ فرسودہ اور پوری دنیا میں متروک نظام کی جگہ جدید ریلویز کا نظام متعارف کرانا ہی مسئلے کا حل ہے۔

متعلقہ خبریں