Daily Mashriq

وزیر اعلیٰ کی تاجربرادری کو احسن یقین دہانی

وزیر اعلیٰ کی تاجربرادری کو احسن یقین دہانی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور کی تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کے لئے کمیٹی کے قیام کی ہدایت کرکے تجار کی شکایات کو دور کرنے اور اس کا ممکنہ ازالہ کرنے کی احسن سعی ضروری کی ہے لیکن تاجروں کے مسائل کا تعلق صرف صوبائی حکومت اور اداروں سے نہیں بلکہ مرکزی حکومت کے زیر انتظام اداروں سے بھی ہے۔ بہر حال کمیٹی کا قیام اور تاجروں کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات اور گفت و شنید باہم بیٹھ کر ایک دوسرے کا موقف سننے اور مشکلات کو سمجھنے اور ان کا ممکنہ ازالہ کرنے میں مفاہمانہ انداز قابل اطمینان ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ جملہ کاروباری طبقات کا اپنے اپنے مطالبات کے حوالے سے احتجاج اور حکومت سے مطالبات بالکل برحق اور قانونی طریقہ ہے جسے اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں تاجروں میں ہر سیاسی جماعت کے لوگ موجود ہیںخالصتاً تجارتی و کاروباری مسائل و معاملات میں خود حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے تجار کا احتجاج اور مطالبات سے اتفاق فطری امر ہے۔ عوام اور کاروباری طبقہ حکومت سے مطالبات نہ کرے تو کس سے کرے؟ اس سے خود وزیر اعلیٰ بھی عدم اتفاق نہیں کرسکتے۔ اس احتجاج میں جو بات محسوس کرنے کا باعث ہے وہ یہ کہ تاجروں کے اپنے مطالبات کے حق میں ہونے والے احتجاج کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا جاسکے اور تاجروں کا پلیٹ فارم استعمال نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں نے تاجروں کی ہڑتال کی حمایت اور اس میں شمولیت کا اعلان کرکے اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے تجار کو اولاً وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی اور کمیٹی بنانے کے بعد احتجاج کو موخر کرکے کمیٹی کی سفارشات اور مسائل کے حل کے ضمن میں اقدامات کا انتظار کرنا چاہئے اور حکومت کو موقع دینا چاہئے کہ وہ ممکنہ اقدامات کرپائے۔ اگر بعض تاجر احتجاج ہی پر مصر ہیں تو وہ توڑ پھوڑ ‘ گھیرائو جلائو اور پتھرائو کے ذریعے توجہ حاصل کرنے کی بجائے پرامن طریقے سے احتجاج کریں حکومت کو بھی پولیس کو سختی سے ہدایت کرنی چاہئے کہ وہ ضبط کا مظاہرہ کرے اور تاجروں سے سختی کا رویہ نہ اپنائیں تاکہ پہلے سے متاثرہ تاجر اور شہری خداخواستہ مزید مشکلات کاشکار نہ ہوں۔ کاروبار حیات اور معاشی معاملات میں تعطل نہ آئے۔ بہتر ہوگا کہ صوبائی حکومت جتنا جلد ممکن ہو تاجروں کے مسائل و مطالبات کے حل کے لئے عملی قدم اٹھا کر انہیں مطمئن کرے اور احتجاج کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

سیف حیات آباد پراجیکٹ کا خاتمہ کیوں؟

سیف حیات آبادپراجیکٹ کوختم کرنے کی تجویزکے پس پردہ کیا عوامل ہیں اس کا تو پوری طرح سے علم نہیں البتہ اس پراجیکٹ کے سیکورٹی گارڈ کی چوری کی ایک واردات کی مبینہ ویڈیو اس تجویز کا محرک ضرور ہوسکتی ہے لیکن یہ فارمولہ اگر کسی بھی محکمے اور بڑے سے بڑے نیک نام اور مقتدر اداروں میں سے کسی ایک ادارے پر بھی لاگو کیا جائے تو پھر ملک میں کوئی ادارہ باقی نہیں رہے گا کسی انفرادی حرکت اور عمل پر پوری فورس کا خاتمہ قرین انصاف نہ ہوگا۔ سیف حیات آباد پراجیکٹ کی سب سے زیادہ مخالفت پولیس کی جانب سے روز اول سے رہی ہے حالانکہ اس کے مسلح گارڈز کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر گشت کے بعد پولیس لمبی تان کر سوگئی ہے یا پھر تھانوں تک محدود ہے۔ اس پراجیکٹ کے نقصانات اور اعتراضا ت کے مقابلے میں اس کی افادیت کافی ہے۔ کم از کم اتنا ہی کافی ہے کہ دفتری و کاروباری اوقات میں حیات آباد کی گلیاں سنسان ہوجاتی ہیں تو سیف حیات آباد کا عملہ گشت پر ہونے کے باعث سٹریٹ کرائمز اور چوری کی وارداتیں آسانی سے ممکن نہیں۔ نماز کے اوقات میں مساجد کے باہر سیکورٹی اور راستے سے ٹھیلے اور گاڑیاں ہٹانے کی ذمہ داری بھی یہی عملہ نبھاتا رہا ہے۔ اس پراجیکٹ کے لئے عملہ بھرتی کیاگیا‘ دفاتر بنائے گئے‘ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں خریدی گئیں اور لوگوں کو سیکورٹی کام ایک گو نہ احساس دلایاگیا اب اس کا یکسر خاتمہ مناسب نہیں اس کے خاتمے کی تجویز پر غور کرتے ہوئے ان معاملات کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہئے اور جملہ اسباب و علل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں