Daily Mashriq

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا

لالو پرشاد یادیو نے تو کئی برس پہلے فیصلہ سنا دیا تھا تب سے وہی کلیہ استعمال ہو رہا ہے۔ ہوا یوں تھا کہ بٹوارے کے کچھ سال بعد بھارت میں ایک ٹرین حادثہ ہوا تو اس وقت کے بھارتی وزیر ریلوے (نام یاد نہیں) نے یہ کہہ کراستعفیٰ دے دیا تھا کہ بھلے سے حادثہ کانٹا بدلنے والے کی غلطی کا نتیجہ تھا‘ وزارت تو میرے پاس ہے اور وزارت کے اندر کسی بھی بے قاعدگی کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ بھارتی وزیر کا یہ اقدام مہذب قوموں کے اندر ایک روشن مثال بن کر قابل تقلید بن گیا تھا مگر پھر یہ ہوا کہ بہت مدت بعد جب (چند برس پہلے) بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نے حالات سے مجبور ہو کر بھارت کے مرکزی انتخابات میں حصہ لیا اور منتخب ہونے کے بعد انہیں وزیر ریلوے کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے ریلوے کو ایک کمائو ادارہ بنا کر پوری قوم سے داد وصول کی لیکن بد قسمتی سے ان کے دور وزارت میں ایک ریلوے حادثہ ہوا‘ ہر طرف سے لالوجی پر مستعفی ہونے کا دبائو بڑھ گیا پہلے تو وہ خاموشی سے یہ ساری جلی کٹی سنتے رہے بالآخر تنگ آکر انہوںنے معترضین کو بڑا تیکھا جواب دیا کہ وہ کوئی ریلوے انجن ڈرائیور تو نہیں ہیں جو مستعفی ہوجائیں یعنی غلطی انجن ڈرائیور کی ہے تو وہ کیوں وزارت چھوڑ دیں ‘ کل تک یہ جو خسارے میں جانے والی ریلوے کو انہوں نے اربوں روپے کی کمائی والے ادارے میں تبدیل کیا تو اس کی شاباش کسی نے دی جو اب ایک حادثے پر استعفیٰ دے دوں اور تب سے ریلوے حادثات کے حوالے سے لالو ڈاکٹرائن ہی سے کام چلایا جارہا ہے‘ یعنی بقول عابد ملک

ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہوگا

یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہوگا

اب بے چارے شیخ رشید کی بد قسمتی کہ جب سے انہوں نے وزارت ریلوے سنبھالی ہے‘ بڑیں تو وہ بہت سی اور بڑی بڑی ہانکتے ہیں اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پر الزامات بھی لگاتے ہوئے ایسے ایسے دعوے کرتے ہیں کہ وہ الٹا موصوف کے لئے بعض اوقات سبکی کا باعث بن جاتے ہیں۔ مستزاد یہ کہ وزارت ان کے لئے خانہ انوری کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے جہاں آسمان سے بلائیں سیدھے ان کی وزارت پر افتاد بن کر اترتی ہیں۔ گزشتہ روز کا ٹرین حادثہ 79واں تھا اور خبروں کے مطابق حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 25ہوگئی ہے جبکہ زخمی ہونے والے الگ ہیں۔ اب یار لوگوں کو اور کیا چاہئے اس اندھے کی طرح جس کی خواہش دو آنکھیں ہوتی ہیں یعنی مخالفین نے اب کی بار نہ صرف شیخ صاحب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ ان کے خلاف انکوائری کرانے اور انہیں گرفتار کرنے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں حالانکہ لالو ڈاکٹرائن کے مطابق تو شیخ صاحب نے بھی کہہ دیا ہے کہ حادثہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہے۔ یعنی اطلاعات تو یہ ہیں کہ کانٹا بدلنے والوں کی غفلت سے حادثہ ہوا تو پھر شیخ صاحب کو کیوں کر ذمہ دار اور قصور وار ٹھہرایا جاسکتاہے اور وہ جو آزادی کے چند برس بعد بھارت کے ایک وزیر ریلوے نے ٹرین حادثے کے بعد مستعفی ہو کر ذمہ داری اپنے سر لینے کی روشن مثال قائم کی تھی اسے خود بھارت ہی کے ایک اور وزیر ریلوے لالو پرشاد یادو نے یوٹرن لے کر نئی مثال قائم کی تو ظاہر ہے اب پرانی مثالوں سے تو کام نہیں چلایا جاسکتا ناں یعنی پرانے دور میں قائم مثال کو انسانی وقار اور اخلاقیات کی بنیاد قرار دیا جائے تو لالو جی کے دور تک آکر اس کی حیثیت ’’حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے‘‘ والی بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے شیخ صاحب کے لئے مخالفین کے طعنے شکار کے ایک کش کے بعد منہ سے اڑنے والے دھوئیں کی نذر کرنا کونسا مشکل کام ہے کہ

ہر فکر کو دھویں میں اڑاتا چلا گیا

ممکن ہے کہ شیخ صاحب 99کے پھیر میں آگئے ہوں یعنی وہ جو ایک نسبتاً مالدار آدمی کی بیوی ہر وقت اس سے شاکی رہتی تھی کہ ان کے ہمسایہ نہایت غریب ہیں‘ ہمسایہ روز مزدوری کرنے جاتا ہے اور جو کما کر لاتا ہے دونوں میاں بیوی اس سے نہایت سکون اور خوشی سے وقت گزارتے ہیں‘ ادھر تم ہوکہ اتنا کماتے ہو مگر مجھے کوئی خوشی تمہارے ہاتھوں نصیب نہیں ہوتی۔ شوہر نے کہا‘ نیک بخت وہ دیہاڑی دار مزدور ہے اس لئے خوش ہے جس روز وہ 99کے پھیر میں پڑ گیا اسے نانی یاد آجائے گی۔ بیوی نے حیرت سے کہا‘ ننانوے کا پھیر کیا چیز ہے؟ شوہر نے کہا اس کاجواب کل تمہیں مل جائے گا۔ شام کے وقت اس نے نناوے روپے ایک تھیلی میں ڈال کر اپنی بیوی سے کہا یہ 99روپے کا تھیلہ جا کر کسی طرح ہمسائے کی بیوی کی نظر بچا کر ایسی جگہ رکھ دو کہ جلد ہی ان کی نظر اس پر پڑ جائے۔ خاتون نے ہمسائے کے گھر جا کر ایسا ہی کیا‘ تھوڑی گپ شپ لگائی اور پانی مانگا‘ خاتون خانہ پانی لینے گئی تو ہمسائی نے روپوں کا تھیلہ وہاں رکھ دیا اور واپس چلی آئی۔ کچھ دیر بعد ہمسائی کاشوہر محنت مزدوری کرکے واپس آیا تو دونوں میاں بیوی کھانا کھانے بیٹھے‘ اچانک شوہر کی نظر چار پائی کے قریب پڑے تھیلے پر پڑی۔ بیوی سے پوچھا یہ کیا ہے‘ بیوی بے چاری لا علم تھی‘ حیرت سے کہا‘ پتہ نہیں‘ دونوں نے مل کر تھیلہ کھولا تو 99 نقد روپے نکلے۔ دونوں خوش ہوئے مگر شوہر نے کہا‘ کاش یہ پورے سو ہوتے اور پھر کہا اگلے روز میں مزدوری کرکے آئوں گا تو ہم ایک روپیہ بچاکر اسے پورے سو کرلیں گے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں