Daily Mashriq

مقامات آہ و فغاں

مقامات آہ و فغاں

نشیب و فراز زندگی کا حصہ ہیں کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں! آج سے ہم زندگی کے اس حصے میں داخل ہوچکے ہیں جب روٹی کی قیمت پندرہ روپے ہوگئی ہے اور ایک روٹی پر ہی کیا موقوف مہنگائی کا ستارہ عروج پر ہے اگر کوئی چیز سستی ہے تو وہ انسانی زندگی ہے لوگ ٹرین کے حادثات کی وجہ سے تھوک کے حساب سے مررہے ہیں اس قسم کے حادثات کا تعلق بد انتظامی کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی ذمہ داری کوئی بھی اپنے سر نہیں لیتا سب کچھ قسمت کے کھاتے میں ڈال کر جان چھڑا لی جاتی ہے موت کا رقص جاری ہے کسی تاریک گلی میں کوئی اپنے سیل فون کو بچاتے ہوئے گولی کا نشانہ بن جاتا ہے اسی طرح دن دھاڑے بینک سے نکلنے والے تاجر سے لاکھوں روپے چھین لیے جاتے ہیں اور اگر وہ مزاحمت کرے تو گولی کا نشانہ بن جاتا ہے !محکمہ صحت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق تین ماہ میں ساڑھے 28لاکھ مریض مختلف ہسپتالوں میں داخل کیے گئے ان میں صرف گردوغبار کے باعث بیمارہونے والے آٹھ لاکھ تہتر ہزار مریض شامل تھے اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور دوسری بیماریوں کی وجہ سے لوگ ہسپتالوں میں داخل کیے گئے تین ہزار کے قریب بچے اور ایک سو سات خواتین کی اموات ہوچکی ہیں کتوں نے پندرہ ہزار کے قریب لوگوں کو کاٹا ان کی دیکھا دیکھی سانپ کیوں پیچھے رہتے انہوں نے 202افراد کو ڈس لیا! اتنے خوفناک اعدادوشمار کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ حضرت انسان کے چاروں طرف موت کا کھیل جاری ہے اور یہ بیچارہ زندگی بچانے کے لیے چومکھی لڑنے پر مجبور ہے ہمارا پرانا دوست ڈینگی بھی آہستہ آہستہ باہر نکل رہا ہے پشاور کے نواحی علاقے سربند میںپندرہ افراد کے متاثر ہونے اور لاروے کی نشاندہی پر محکمہ صحت نے ضلع بھر کو حساس قرار دے دیا ہے اب ہر سال کی طرح ڈینگی کے خلاف مہم چلائی جائے گی کہتے ہیں کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے پاس بھی سٹاف موجود نہیں ہے اگر سٹاف ہو بھی تو بد انتظامی کی وجہ سے ان سے پوری طرح کام نہیں لیا جارہا پشاور شہر کے گلی کوچوں میں سوئیپر باقاعدگی کے ساتھ صفائی کے لیے نہیں آتے ہم نے ڈبلیو ایس ایس پی کے ایک رکن سے کہا کہ ہماری گلی کا سوئیپر باقاعدگی سے کام پر نہیں آتا ہفتے میں چار چھٹیاں تو ضرور کرتا ہے جس کی وجہ سے گلی میں گند پڑا رہتا ہے اس نے کہا کہ جناب آپ کی گلی میں ایک خاتون سوئیپر کی ڈیوٹی ہے لیکن اس کے حصے کا کام اس کا خاوند کرتا ہے خاوند صاحب کیونکہ باقاعدہ ملازم نہیں ہے اس لیے چھٹیاں زیادہ کرتا ہے ! خاکروب اپنے محکمے کے سامنے جوابدہ ہے لیکن محکمہ یا تو اس کی چھٹیوں سے بے خبر ہے یا پھر کسی ملی بھگت کی وجہ سے چشم پوشی کی جارہی ہے !خاکروب کو سمجھانا تو دور کی بات ہے ہمیں آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہم اپنی ہی گلی میں گند ڈال کر ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا باعث بنتے رہتے ہیںہمیں اتنا احساس بھی نہیں ہے کہ اپنے شہر اپنی گلیوں کی صفائی کا خیال ہم نے خود رکھنا ہے اگر ہم اس کا خیال نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا؟بس اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ کسی پڑوسی کے گھر کے آگے ڈال کر ہم فارغ ہوجاتے ہیںجہاں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوں وہاں مچھروں کی افزائش بھی ہوتی ہے ہر سال ڈینگی مچھر کے ہاتھوں بہت سے افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیںلیکن ہمارے اندر اتنا شعور بھی نہیں ہے کہ ہم اس حوالے سے کوئی احتیاطی تدابیر ہی اختیار کر لیں !یوں کہیے کہ ہم خود اپنے دشمن ہیں ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت ہی نہیں ہے ابھی حال ہی میں کوئٹہ جانے والی ٹرین اور سوات سے لاہور جانے والی بس حادثے کا شکار ہوئی ہیںجس میں چونتیس افراد جاں بحق ہوئے ! اکبر بگٹی ایکسپریس رحیم یار خان کے قریب ولہار سٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکراگئی کہتے ہیں حادثہ سگنل سسٹم کی خرابی سے پیش آیا! ان سارے حالات وواقعات کا بڑی باریک بینی کے ساتھ مشاہدہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ خرابی ہمارے سسٹم میں موجود ہے سسٹم کی نگرانی کرنے والے اسے چلانے والے غفلت کا شکار ہیں کاہلی تن آسانی ان کی رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے کسی کو اپنے فرائض کا احساس تک نہیں ہے!یہ اور اس طرح کے اور بہت سے مقامات آہ و فغاں ہیں لیکن اس حوالے سے کسی کو خیال تک نہیں ہے ہماری ساری ذمہ داری اورحب الوطنی کرکٹ ٹیم کی جیت تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ہم کرکٹ کی ہار جیت کو اپنے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیتے ہیںلیکن جو اصل زندگی اور موت کے مسائل ہیں ہمیں ان کا خیال تک نہیں آتا ! اب آٹا مہنگا ہوگیا، گیس مہنگی ہوگئی ٹیکسز کی بھرمار ہے تو نانبائی کیا کرے ؟ اب روٹی کی قیمت نے تو پندرہ روپے ہونا ہے یہ بھی ذہن میں رہے کہ سادہ روٹی پندرہ روپے کی ، پراٹھااور روغنی بیس روپے کی اور باقر خانی پچیس روپے کی ہوگئی ہے !یہاں ایک اور بد انتظامی کی نشاندہی بھی لگے ہاتھوں کر لی جائے حکومت کے اعلان کے مطابق پندرہ روپے کی روٹی کا وزن 190گرام مقرر کیا گیا ہے لیکن اگر روٹی اپنے مقررہ وزن سے کم ہے تو کس نے پوچھنا ہے ؟گلی محلے کے چھوٹے موٹے دکاندار اس قسم کی بے قاعدگیوں کے ماہر ہوتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ متعلقہ محکموں کی بدانتظامی ہی ہوتی ہے! 

متعلقہ خبریں