Daily Mashriq

پٹڑی سے اترنے کی عادت

پٹڑی سے اترنے کی عادت

پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ ہم ہر وقت مقابلے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں اسلحہ اور جہازوں کے گرانے کو فخر سے بیان کیا جاتا ہے کھیل کے میدان میں ہارنے اور جیتنے پر دل کھول کر بددعائیں اور داد دی جاتی ہے لیکن مجال ہے کہ ہم نے ان کی جمہوریت کے تسلسل سے کچھ سیکھا ہو کہ آزادی سے لے کر آج تک ان کی جمہوریت ایک دن بھی ڈی ریل نہیں ہوئی اور یہی حال ان کی ریل کا بھی ہے بھار ت میں تو ریلوے کے محکمہ نے خوب ترقی کی ہے لیکن ہمارے یہاں ریلوے تو کیا سیاست بھی ابھی اپنے ٹریک پر نہیں آئی وطن عزیز کی بہت ساری چیزوںمیں مماثلت ہے۔ لیکن ان دونوں کی بہت سی چیزیں مشترک ہیں دونوں پر شب خون مارا جاتا ہے‘ دونوں پر نااہل لوگ مسلط رہتے ہیں ہر دو میں قیادت کی کمی ہر وقت رہتی ہے۔ دونوں کے حالات خراب ہیں ان خراب حالات پر ڈھیروں بحث ہوتی رہتی ہے لیکن برسوں گزرنے کے بعد بھی ان کی حالت ویسی کی ویسی ہے ایک ہماری سیاست ہے اور دوسری ہمارا ریلوے دونوںاکثر اوقات پٹڑی( ٹریک )سے اتر جاتے ہیں اور ان کے ٹریک سے اترنے سے ہر دفعہ نقصان غریب عوام کا ہوتاہے ریل ٹریک سے اتر جائے یا ڈبے گرجائیں تو غریب کا بچہ مر جاتا ہے اور سیاست کے ٹریک سے اترنے سے پوری قوم کو نقصان ہوتا ہے۔ جب سیاست دان ٹریک سے اتر کر جمہوریت کو کسی آمر کی گود میں دے دیں تو پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے اوپر سے ایک اور انوکھی بات کہ کسی کو بھی کبھی بھی کوئی بھی وزارت دے دی جاتی ہے وہ صاحب اپنے آپ کو اپنی سیاسی پارٹی کو تو سنبھال پا نہیں رہے قومی اداروں کو کیونکر سنبھالہ دیں گے۔ ایک وزارت میں نااہلی ثابت کرنے کے بعد دوسری وزارت لے لیتے ہیں لیکن کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ کا تو دور کا بھی اس وزارت سے واسطہ نہیں ۔

آج میرا دیس کئی طرح کے مسائل اور آفات میں گھرا ہوا ہے یہ مسائل ہمارے ذاتی پیدا کردہ ہیں جیسے کہ سٹیل مل ، پی آئی اے کے بعد ریلوے کو خسارے کا ادارہ بنانا۔آج پھر وطن عزیز میں سیاسی پنڈت ریلوے کو بھی بیچ کر کھانے کے درپے ہے۔ ریلوے کے وزیر کی زبان تو دیکھ چکے ہیں کہ بہت چلتی ہے اور بر وقت بھی چلتی ہے لیکن یہ بھی بارہا دیکھ چکے ہیں کہ ان کے محکمہ کی ریل کبھی بھی بر وقت نہیں۔اوپر سے ٹرینوں کے حادثے پر صحافیوں کے سوال پر برہم بھی ہوجاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وزیر موصوف صرف گرجتے ہیں برستے نہیں یعنی کسی کے ساتھ زاتی رنجش رکھ کر نقصان نہیں پہنچاتے۔ لیکن محترم پطرس بخاری نے انگریزیوں کے محاورہ کو تروڑ مروڑ کر ہمارے ڈر کو دوچند کر دیا ہے کہ ’’کب یہ بھونکنا بند کردیں اور کاٹنا شروع کردیں‘‘ کے مصداق کب ہمارے یہ وزیر محترم ماضی کی طرح ریلوے کی وزارت سے بدل کر اطلاعات و نشریات کے وزیر بن جائیں اور نہ صرف ہمارے کالم کو بند کروادیں بلکہ سارے اخبارات کو حکم صادر کردیں کہ ان کے کالم کسی اخبار میں چھپے تو اشتہارات بند یا پھر یوں بھی ہوسکتا ہے کہ وہ وزیر داخلہ بن جائیں تو پھر ہماری سرپھری پولیس اگلہ پچھلا حساب برابر کردے گی۔

لیکن ہم یہاںقارئین کی سہولت کے لئے یہ بتاتے چلیں کہ نہ تو تب ہم کسی وزیر سے ڈرتے تھے اور نہ آج ڈرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ ایسا کچھ کرنے والے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی باتیں تو پٹڑی سے اتر جاتی ر ہیں ان کی حکومت ایک طرف جارہی ہوتی ہے تو وہ دوسری طرف اپنی ہانک رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے جنرل مشرف کے دور کی وزارت اطلاعات و نشریات کا کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کو حقیقی آزادی دی ان کے دور میں کئی نجی ٹیلی وژن چینلز کھلے اور نہ صر ف کھلے بلکہ کھل کر سب کچھ بتا بھی رہے ہیں عوام کو ہر پل اور ہر لمحہ کی تبدیلی کی خبر دے رہے ہیں تفریح کے معاملے میں بھی بہت کھل گئے ہیں (تاہم کم از کم ہم اس کے حق میں نہیں) محترم جب اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر تھے یہ پہلی دفعہ نہیں کہ ان کو یہ وزارت ملی بلکہ وہ اس سے پہلے بھی اس وزارت پر فائز رہے اور دو تہائی والی حکومت میں اس وزارت میں اپنے فرض کو خوب نبھایا یہاں بولتے رہنا ہی ان کا کام ا اور انکی وزارت کا فرض تھا جو انہوں نے بہترین انداز میں ادا کیا۔ ان کی بے مثال کارکردگی اور وزارت سے بے پناہ لگائو کی وجہ سے ہی انہیں گندی ترین وزارت سونپی گئی جس پر پڑوسی ملک کے لالو پرشاد نے ہمارے پیارے اور وزیر با تدبیرصاحب کو باقاعدہ مبارکباد بھیجی اور کہا کہ تیرے اور میرے نصیب میں یہی وزارت بچی تھی۔ لالو پرساد نے تو بھارت کی ریلوے کو منافع بخش محکمہ بناکر دم لیا اور ثابت کیا کہ وزارت کیسے کی جاتی ہے لیکن ہمارے یہاں نہ تو شیخ نے پہلے کچھ کیا اور نہ ہی آج بحیثیت وزیر ریلوے کچھ کر پائے ہیں وہ تو صبح شام یہی کہتے ہیں کہ فنڈز نہیں اسی گردان میںکافی عرصہ گزارتے ہیں انہیں وزارت کے یا ریلوے کے کسی کام کا کچھ پتہ ہی نہیں ابھی پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ ریلوے ٹریک پر کھڑی مال گاڑی کے ساتھ مسافر ٹرین ٹکراگئی ڈرائیور اور معاون ڈرائیور جاں بحق ہوگئے وزیر ریلوے نے موقع کو غنیمت جانا اور مرنے والوں کو ہی قصور وار ٹھہراکر جان چھڑالی۔کل پھر اسی طرح کا حادثہ ہوگیا پوری قوم افسردہ ہے لیکن وزیر موصوف پھر کسی چھوٹے اہلکار کو قصوروار ٹھہراکر نہ صرف خود بچ جائیں گے بلکہ محکمہ کی کالی بھیڑوں کو بھی بچائیں گے۔

متعلقہ خبریں