Daily Mashriq

بھارت، امریکا کے درمیان ٹیرف پر کشیدگی کے بعد تجارتی مذاکرات بحال

بھارت، امریکا کے درمیان ٹیرف پر کشیدگی کے بعد تجارتی مذاکرات بحال

امریکا اور بھارت کے درمیان ٹیرف کے حوالے سے شدید کشیدگی رواں ہفتے ہی عروج کو پہنچی تھی تاہم اب دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تجارت پر مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جون کے اواخر میں اوساکا میں جی-20 سربراہی اجلاس کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مذاکرات بحال کرنے کے احکامات دیے تھے۔

بھارت کی وزارت تجارت کے ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں وزیر تجارت پیوش گویال سے ملاقات کے بعد امریکا کے تجارتی نمائندے کرسٹوفر ولسن نے بھارت کے تجارت اور صنعت کے عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

قبل ازیں بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا کہ تعلقات کو مثبت رکھنے کے حوالے سے تمام فیصلے کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں اپنے ذہن میں ایک وسیع سوچ رکھنا ہوگی اور اس وسیع سوچ کے تحت ان تمام مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں جو مذاکرات کی میز پر ہیں’۔

امریکا اور بھارت کے درمیان 2018 میں تجارتی حجم 142 اعشاریہ ایک ارب ڈالر تھا جس میں 24 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کا خسارہ تھا جبکہ امریکا-بھارت اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم کی پیش گوئی تھی کہ 2025 تک دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 238 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ٹیرف کے معاملات پر کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی اور رواں ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارت کا ٹیرف ‘کسی صورت قابل قبول نہیں’۔

امریکا نے بھارت کو رواں برس کے اوائل میں ڈیوٹی میں چھوٹ حاصل کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کردیا تھا جس کے تحت بھارت 6 ارب ڈالر سے زائد برآمدات کرتا تھا جس کے بعد بھارت اسٹیل اور ایلومینیم پر امریکی ٹیرف بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

بھارت نے امریکی فیصلے کے ردعمل میں امریکا کے سیب اور دیگر فروٹ سمیت 28 مصنوعات پر ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ کردیا تھا۔

امریکا کے وزیر تجارت ولبر روس نے بھارت کی تجارتی پالیسی اور ٹیرف پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت نے اس فیصلے سے غیرملکی سرمایہ کاری کے راستے میں بڑی رکاوٹ کھڑی کردی ہے۔

امریکی صدر نے 27 جون کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے پر بات کروں گا کہ برسوں سے بھارت، امریکا پر محصولات عائد کر رہا ہے اور حال ہی میں اس ٹیرف میں مزید اضافہ کیا ہے، یہ ناقابلِ قبول ہے اور یہ محصولات لازمی طور پر ختم ہونے چاہئیں‘۔

متعلقہ خبریں