Daily Mashriq

فلم 'انسیپشن' کی اینڈنگ کا راز آخرکار سامنے آگیا

فلم 'انسیپشن' کی اینڈنگ کا راز آخرکار سامنے آگیا

سائنس فکشن تو وہی ہوتا ہے جس کا خیال بھی کسی نے بھی نہ کیا ہو مگر کئی بار ایسا کچھ فلموں میں نظر آجاتا ہے جس کو دیکھ کر یقین بھی نہیں آتا اور لگتا ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے یعنی یقینی بے یقینی کی کیفت طاری رہتی ہے۔

ایسی ہی ایک فلم ہولی وڈ ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان کی 'انسیپشن' ہے، جو اکثر افراد بار بار دیکھتے ہیں اور پھر بھی ان کا دل نہیں بھرتا۔

اور ایک اچھی فلم وہ ہوتی ہے جس کی کہانی لوگوں کے ذہن سے محو نہ ہوسکے بلکہ کئی برس بعد بھی اس کے بارے میں سوالات کے جواب ڈھونڈنے پڑے۔

ایسا ہی انسیپشن کے اختتام میں ہوا اور فلم کو اب ریلیز ہوئے 9 سال ہوگئے، مگر ناظرین اب تک اس کی اینڈنگ کے بارے میں وضاحت کے منتظر ہیں۔

خوابوں سے راز چرانے والے باکمال چوروں کی اس فلم میں لیونارڈو ڈی کیپریو نے مرکزی ادا کیا تھا اور اس کا دل بھی ان کا کردار ڈوم کوب تھا جو اداروں کی معلومات چرانے میں مہارت رکھتا ہے، مگر اس کی خاصیت لوگوں کے خوابوں میں گھس کر ان کے لاشعور سے رازوں کو چرانا ہے۔

اس خاصیت نے کارپوریٹ دنیا میں اس کی مانگ بڑھا دی مگر اس کی قیمت بھی اس چور کو ہر اس چیز کی صورت میں چکانا پڑی جس سے اسے محبت تھی، جیسے بیوی نے خودکشی کرلی جبکہ وہ امریکا جاکر اپنے بچوں کو ملنے سے قاصر ہوگیا کیونکہ اس پر ہی بیوی کو مارنے کا الزام تھا۔

مگر پھر اسے دوبارہ سب کچھ پانے کا موقع اس طرح ملتا ہے ،جب اسے بظاہر ایک ناممکن کام کی پیشکش کی جاتی ہے یعنی کس کے ذہن میں ایک آئیڈیا پلانٹ کرنا۔

اگر آپ نے فلم نہیں دیکھی تو آگے پڑھنے سے گریز کریں کیونکہ اختتام نیچے درج ہوگا تاہم اگر دیکھ چکے ہیں تو آپ کو بھی یاد ہوگا کہ فلم کا اختتام کیسے ہوتا ہے۔

جیسا آپ کو یاد ہوگا کہ اپنے مشن میں کامیابی کے بعد ڈوم کوب اپنے بچوں سے ملنے جاتا ہے اور یہ تصدیق کرنے کے لیے لٹو گھماتا ہے کہ وہ خواب میں ہے یا حقیقت میں، مگر اسی وقت بچے آجاتے ہیں اور وہ کمرے سے باہر نکل جاتا ہے۔

فلم کے اختتامی منظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لٹو گھوم رہا ہے جو کہ فلم کی کہانی کے مظابق اس بات کا عندیہ ہوتا ہے کہ یہ منظر خواب کا ہے، مگر ڈائریکٹر نے سین فوری ختم کردیا تو واضح طور پر کہنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ لٹو گھومتا رہتا ہے یا نہیں۔

فلم کے ڈائریکٹر نے کبھی فلم کے اختتام کے بارے میں وضاحت نہیں کی بلکہ یہ معاملہ دیکھنے والوں پر چھوڑ دیا۔

تاہم اس میں فلم میں لیونارڈو ڈی کیپریو کے سسر کا کردار ادا کرنے والے مائیکل کین نے اس کے اختتام کے بارے میں تجسس ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

برطانوی روزنامے انڈپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اداکار نے اس بارے میں بتایا 'جب مجھے انسیپشن کا اسکرپٹ ملا، تو میں کافی الجھن کا شکار ہوگیا اور میں نے نولان سے کہا کہ میں یہ سمھنے سے قاصر ہوں کہ کہاں خواب ہے اور کہاں حقیقت، جس پر ڈائریکٹر نے کہا، جب تم سین میں ہوگے تو وہ حقیقت ہوگی، تو خود سمجھ لیں کہ جہاں اسکرین پر میں نظر آیا وہ حقیقی زندگی کا منظر تھا، جہاں میں نہیں تھا، وہ ایک خواب تھا'۔

اور فلم کی اینڈنگ کو دوبارہ ذہن میں دہرائیں تو آپ کو یاد آئے گا کہ اختتامی سین میں مائیکل کین بھی بچوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں تو اگر ان کی بات کو مانا جائے تو سین میں ان کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ خواب نہیں بلکہ حقیقت تھی۔

متعلقہ خبریں