Daily Mashriq


کان کنی کو محفوظ بنایا جائے

کان کنی کو محفوظ بنایا جائے

کان کنی ایک پرخطر پیشہ ہے اور اس پیشے کے اعتبار سے ان کے تحفظ کا بندوبست‘ ان کا ساز وسامان اور ان کی تربیت مناسب معیار کے مطابق ہونی چاہئے اور اس کا بندوبست آجروں کے ذمے ہونا چاہئے۔ دوران کام زخمی ہوجانے یا وفات پا جانیوالے محنت کشوں کو زیادہ معاوضہ دیا جانا چاہئے۔ محنت کشوں کے زخمی ہونے یا وفات پاجانے کے معاوضہ کا قانون کئی عشرے پرانا ہے جبکہ آج مصارف زندگی بہت بڑھ چکے ہیں لہٰذا اس رقم کو آج کے مصارف زندگی کے مطابق ہونا چاہئے۔ پرخطر علاقوں اور پیشوں کے مزدوروں کا مشاہرہ بھی زیادہ ہونا چاہئے، ان کے اوقات کار بھی ان کے حالات کار کے مطابق ہونے چاہئیں اور برطرفی کی صورت میں انہیں تین ماہ کا اضافی مشاہرہ بھی دیا جانا چاہئے۔ اس سلسلے میں فوری طور پر قانون سازی ہونی چاہئے۔ جو کمپنیاں اپنے صوبے سے یا دوسرے صوبوں سے مزدوروں کو ملازم رکھتی ہیں ان کیلئے یہ لازم ہونا چاہئے کہ وہ معاہدہ ملازمت کی ایک نقل صوبائی حکومت اور جس صوبہ سے مزدوروں کولایا جاتا ہے اس کی صوبائی حکومت کو بھی فراہم کریں۔ ملک کی ترقی کیلئے ہر خاص وعام آدمی اور بطور خاص محنت کشوں کیساتھ انصاف بنیادی شرط ہے۔ اس حقیقت کو ملک گیر سطح پر تسلیم کیا جانا چاہئے اور حکومتوں کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھانے کی طرف بطور خاص متوجہ ہونا چاہئے۔ شانگلہ کے مزدوروں کی میتیں ان کے گھروں میں پہنچا دی گئی ہیں۔ اب خیبر پختونخوا کی نگران حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مرحومین کے خاندانوںکو مناسب زر اشک شوئی کی ادائیگی کیلئے سلسلہ جنبانی کرے تاکہ آجر کمپنیوں سے معاوضہ کی رقم جلد سوگوار خاندانوں کو پہنچائی جاسکے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو دیگر معاملات کی طرح اس خالص انسانی مسئلے اور المئے کا بھی نوٹس لینا چاہئے اور اصلاح احوال کی جانی چاہئے۔ درہ آدم خیل میںکوئلہ کان بیٹھ جانے سے شانگلہ کے دو مزدور جاں بحق ہوگئے، یوں شانگلہ کے کوئلہ کان کے مزدوروں کی موت کا سلسلہ تھم نہ سکا، لاشوں کو تاحال نہیں نکالا جا سکا اور اس کام میں مز ید دو دن لگ سکتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کوئلہ کانوں میں بروقت سرکاری ریسکیو اہلکار نہیں پہنچ پاتے جس کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہی بلوچستان میں کوئلہ کان بیٹھ جانے سے 23 مزدور جاں بحق ہوگئے تھے جس کے بعد احتجاج کیا گیا لیکن کسی نے نوٹس نہیں لیا اور اس غفلت ولاپرواہی کی وجہ سے آئے روز کوئلہ مزدوروں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ شانگلہ کے محنت کش ان کانوں پر غیر صحتمند بلکہ غیر انسانی ماحول میںکام جاری رکھنے پر مجبور ہیں اور اکثر وبیشتر حادثے کا شکار ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود کان کنی کو محفوظ بنانے اور مزدوروں کے جانوں کے تحٖظ کیساتھ ان کا معاوضہ بڑھانے پر نہ تو متعلقہ کمپنیاں توجہ دیتی ہیں اور نہ ہی وفاقی وصوبائی حکومتیں اس پر توجہ دیتی ہیں۔ ان لاچار افراد کے حوالے سے قانون سازی اور حادثاتی موت پر معاوضہ کی شرح میں اضافے پر بھی توجہ نہیں دی جاتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کان کنی محفوظ اور جدید آلات کے استعمال کی شرط پر ہی اجازت دی جانی چاہئے اور محنت کشوں کے تحفظ کے حتی المقدور سعی ہونی چاہئے۔

تبادلے جلد کئے جائیں

نگران صوبائی حکومت کو الیکشن سے قبل صوبائی بیوروکریسی میں ردوبدل کرتے ہوئے اہم انتظامی عہدوں پر گزشتہ حکومت میں تعینات رہنے والے افسران کو تبدیل کرنے پر مشاورت جلد مکمل کر کے تبادلے کر دینے چاہئے۔ خیبر پختونخوا میں شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے ایسا کرنا ناگزیر ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے سابق دور حکومت میں انتظامی سیکرٹریز، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے عہدوں پر تعینات افسران کو تبدیل کرنے پر مشاورت شروع کر دی ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز پولیس کو تبدیل کرنے کے بعد نگران صوبائی حکومت کی طرف سے صوبائی بیوروکریسی میں تبادلوں کے احکامات جاری کرنے کا امکان ہے۔ عام انتخابات کو شفاف اور غیرجانبدارانہ بنانے کا تقاضا ہے کہ تبادلوں کا عمل جلد سے جلد مکمل کیا جائے اور بیوروکریسی کے وہ تمام عہدیدار ہٹائے جائیں جو پچھلی حکومت کے مقررکردہ تھے۔ انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے وہ تمام اقدامات اُٹھائے جائیں جو اس ذیل میں ناگزیر ہوں۔ یہ نگران وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کیساتھ ساتھ چیف الیکشن کمشنر اور صوبائی الیکشن کمشنر کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو ہر قسم کے دباؤ اور اثرات سے پاک انتخابی ماحول فراہم کریں اور عوام کو آزادانہ طور پر اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کرنے کا موقع دیں۔

متعلقہ خبریں