Daily Mashriq


ن لیگی حکومت۔۔جامع رپورٹ کی ضرورت

ن لیگی حکومت۔۔جامع رپورٹ کی ضرورت

وزیراعظم ناصرا لملک نے فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا ہے اور کہا ہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کا کام تیز تر کیا جائے، ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہوں نے مختلف محکموں کے سیکرٹریوں سے اس حوالے سے بریفنگ بھی لی ہے۔ مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت نے فاٹا اصلاحات کے تحت قانون سازی میں اتنی تاخیر سے کام لیا کہ ان علاقوں کے خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا بل کئی ماہ تک مؤخر ہوتا گیا اور عین اس وقت یہ قانون منظور ہوا جب مسلم لیگ ن کی حکومت کی آئینی مدت ختم ہو رہی تھی یعنی فاٹا اصلاحات کا حقیقی کام مختصر مدت کی نگران حکومت پر چھوڑ دیا گیا۔ اصولی طور پر نگران حکومت کے فرائض میں روزمرہ کے کام نمٹانا ہے لیکن فاٹا اصلاحات کے نفاذ میں اتنی تاخیر کے بعد وہاں کے عوام میں بے چینی پھیلنا یقینی ہے۔ جس کے آثار نمایاں بھی ہو رہے ہیں۔ اسلئے فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد فوری نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ اس صورتحال میں نگران وزیراعظم کا فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کے کام پر متوجہ ہونا لازمی تھا اور انہوں نے بجا طور پر سابق فاٹا کے علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے کام میں تیزی لانے پر زور دیا ہے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ انہوں نے پولیٹیکل ایجنٹس اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹس کے عہدوں کو ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے طور پر تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے ذمے یہی کام تھا جو انہوں نے انجام دیدیا ہے۔ فیڈرل بیورو آف ریونیوکے نمائندے نے بتایا کہ سابق فاٹا کے علاقے میں جو راہداری ٹیکس وغیرہ ختم کرنے کی ہدایات تھیں ان پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے لیکن فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذمے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے محض یہی نہیں تھا۔ اصلاحات کے پروگرام میں فاٹا کے عوام کو اور بھی کئی قسم کے ریلیف دینا شامل تھا۔ فیڈرل ریونیو اور چیف سیکرٹری پختونخوا اور اجلاس میں موجود دیگر شرکاء سے عوام ایسی رپورٹ کی توقع کرتے ہیں جس میں بتایا جائے کہ ان کے ذمے جو ذمہ داریاں لگائی گئی تھیں وہ کس حد تک پوری ہو چکی ہے اور کب تک پوری ہو جائیں گی۔ امید کی جانی چاہئے کہ اجلاس کے شرکاء نے وزیراعظم کو سیر حاصل بریفنگ دی ہوگی تاہم شفافیت کا تقاضا ہے کہ عوام خاص طور پر فاٹا کے عوام کو فاٹا اصلاحات میں پیشرفت اور اس کام کی رفتار سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام یہ جان سکیں کہ نگران حکومت اس کام کو جلد ازجلد مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اور حکومت کے مختلف محکمے نگران حکومت کو متوقع تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

ن لیگ کی سابقہ حکومت نے اپنی آئینی مدت کی تکمیل کے دنوں میں بڑے طمطراق سے اعلان کیا تھا کہ ملک کی معیشت تیزی کی طرف گامزن کر دی گئی ہے اور قرضوں کی ادائیگی کیلئے حکومت کو آئی ایم ایف کا دروازہ نہیں کھٹکھٹانا پڑے گا لیکن یہ وعدے بہت جلد کھوکھلے نظر آنے لگے ہیں۔ ایک طرف ڈالر کی قیمت میں اضافے نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ روپے کی قدر میں 3.48فیصد کمی آئی ہے۔ روپے کی قدر میں یہ کمی ایک سال کے دوران چوتھی بار واقع ہوئی ہے۔ سابقہ حکومت کی پالیسی قرضوں کے ذریعے معیشت کو سنبھالا دینے کی رہی ہے۔ اب بھی شنید ہے کہ حکومت چین سے قرضہ کیلئے مذاکرات کر رہی ہے تاکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو سکے لیکن اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں کمی صاف بتا رہی ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ برقرار ہے جن کا ایک حصہ بنکوں سے لئے گئے مختصر مدت کے قرضوں پر مشتمل ہے۔ اس طرح سابق حکومت کا یہ دعویٰ باطل ہو جاتا ہے کہ اس نے معیشت کو مضبوط کیا ہے اور معیشت کو اچھی حالت میں چھوڑ کر جا رہی ہے۔ ایک نامور ماہر معیشت اشفاق خان کا معیشت کی صورتحال کے بارے میں کہنا ہے کہ نگران حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ اسلئے حکومت کو چاہئے کہ درآمدات کی حوصلہ شکنی کرے، برآمدات کی حوصلہ افزائی کرے، حالات کہہ رہے ہیں کہ نگران حکومت کو پالیسی فیصلے کرنے ہوں گے۔ دوسری طرف پیٹرول‘ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہے کہ مہنگائی کا ایک اور ریلا عوام کو برداشت کرنا ہوگا۔ سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے بھی بلند وبانگ دعوے کئے ہیں لیکن بجلی کی لوڈشیڈنگ حسب سابق جاری ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین نے گزشتہ روز مطالبہ کیا تھا کہ بجلی کی پیداوار اور سپلائی کے بارے میں ایک جامع رپورٹ مرتب کی جائے۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ درست سہی لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ نگران حکومت تمام شعبوں کے بارے میں مکمل رپورٹ حاصل کرے کہ وہ یکم جون کو کہاں کھڑے تھے‘ ان کی کامیابیاں کیا تھیں‘ ان کے وسائل کتنے تھے اور مسائل کون سے تھے۔ تمام شعبوں کے سیکرٹریوں سے حاصل ہونے والی اس رپورٹ کو عوام کیلئے شائع کر دیا جائے تاکہ عوام کو صحیح صورتحال معلوم ہو سکے اور اس صورتحال کے حوالے سے نگران حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ یہ اسلئے بھی ضروری ہے کہ نگران حکومت اگر کوئی بڑے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جائے تو عوام کو معلوم ہو کہ یہ فیصلے لینا کیوں ضروری تھا۔ ورنہ ہر معاملے میں کہا جائے گا کہ سابقہ حکومت نے تو کامیابیاں حاصل کی تھیں جنہیں نگران حکومت نے ضائع کر دیا۔ ملک پر کتنا قرضہ ہے، دہشتگردی کی صورتحال کیا ہے، معیشت کتنی مضبوط ہے، خارجہ تعلقات کس نہج پر ہیں، زراعت‘ صنعت‘ تعلیم‘ صحت کا کیا حال ہے۔ پانی کا بحران کتنا شدید ہے۔ الغرض تمام شعبوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جانی چاہئے تاکہ عوام نگران حکومت کے مسائل اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں