Daily Mashriq


ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

سیاسی عمل سے نظریہ اُٹھنے کے بعد خاندان غلاماں والی صورتحال راتوں رات پیدا نہیں ہوئی، نہ سیاسی لیڈروں اور اسٹیبلشمنٹ میں ایک شب کی محبت تھی جو اب نہیں رہی۔ طلب اقتدار کے سینکڑوں بیمار بیٹھے ہیں، چند گزر گئے پھر بھی ڈھیروں طلبگار آنکھیں بچھائے ہیں۔ حرف آخر کیا ہے کچھ نہیں۔ کاشف حسین جیسے پنجابی قوم پرست واحد شخص نہیں جو پیارے کامریڈ نواز شریف کو ان دنوں جمہوریت دیوتا سمجھ لئے ہیں۔ فقیر راحموں کے ماہر تعلیم دوست اُستاد مشتاق احمد تو ہر مرض کی دوا نواز شریف کو سمجھتے ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ بھی کچھ دوست وقارئین شکوہ کرتے ہیں کہ زندگی بھر مظلوموں اور جمہوریت کی حمایت کرنیوالا آج نواز شریف کی جمہوریت پسندی کی تائید کرنے کی بجائے تاریخ کی غلط سمت کھڑا ہے۔ تاریخ کی درست سمت ان کے خیال میں وہی ہے جدھر نواز شریف ہیں۔ طالب علم کو ان سے ادب بھرا اختلاف ہے۔ وجہ ہم نے 1999ء میں ہی نہیں قبل ازیں 1993ء میں بڑھکیں مارتا نواز شریف بھی دیکھا تھا۔ اعتبار جاں کے کچھ تقاضے ہیں وہ کون پورا کر ے گا؟ کیا محض اداروں کے سیاسی کردار اور حق حاکمیت کے زعم اختلاف کی بدولت نواز شریف کو مجاہد جمہوریت مان لیا جائے۔ یوں کہہ لیتے ہیں کہ اپنی اپنی نفرت کا وزن نواز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا جائے، لیکن اعتبار جاں کا سوال ہے وہ کیسے ممکن ہے۔ نواز شریف سیاسی حقیقت ہیں کروڑہا اختلافات اور تحفظات کے باوجود سچ یہی ہے۔ ان کے کریا کرم ہو چکنے کی راگنی سے جس کا جی بہلتا ہے بہلائے مگر خود نواز شریف دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں کے مصداق ہیں؟۔ ایسا نہیں ہے میں ہمیشہ مانتا ہوں کہ کرپشن اجتماعی مسئلہ ہے اور کرپشن کی گنگا میں سب نہائے بھی۔ منظم قوتوں کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے خود کو حب الوطنی کی معراج پر کھڑا کرکے سیاستدانوں کو گندا کروایا۔ یہاں ساعت بھر کیلئے رُک کر غور کیجئے کہ کیا اس جمہوریت دشمن مہم جوئی میں 35سال تک شریف فیملی اداروں کیساتھ نہیں کھڑی رہی۔ آگے بڑھتے ہوئے اس امر پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ پھر مستقبل میں ایسی قانون سازی نہ کرلی جائے کہ ہر شخص کو اپنے گریڈ، طاقت اور اوقات کے مطابق کرپشن کا قانونی حق ہوگا۔ ایک عزیز علی سالار نے سوال کیا۔ عوام کا حق کیا ہوگا؟۔ عرض کیا۔ اجتماعی خودکشی کی قانونی اجازت۔ اس سے سوا کچھ اور ممکن ہی نہیں کیونکہ ہم اپنی اپنی پسند وناپسند کے اسیر ہیں۔ کرپشن اجتماعی مسئلہ ہے لیکن گالیاں اگر سیاستدان کھا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی صفوں میں موجود لوگوں نے ماضی میں ایسی قانون سازی نہیں ہونے دی جو اجتماعی احتساب کے عمل کو آگے بڑھاتی۔ مان لیتے ہیں نواز شریف انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ پانامہ سکینڈل کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی میں دھواں دار تقریر کرتے ہوئے ترقی کے جن ذرائع کا دعویٰ کیا تھا وہ برسر زمین موجود نہیں۔ خود میاں نواز شریف کے دادا میاں محمد رمضان امرتسر میں کیا کاروبار کرتے تھے اور کس کاروبار ی تنازعے کی بدولت وہ 1930ء کے لگ بھگ امرتسر سے لاہور آئے۔ اس کہانی کو لکھنے کا یارا مجھ میں نہیں۔ ہاں میاں نواز شریف کے دادا کی جگہ یہ زرداری یا عمران خان یا پھر کسی اور کے دادا کا قصہ ہوتا تو آپ دیکھتے کیسے نون لیگ کے کمی اور میڈیا منیجر چسکے لے لیکر کہانی سناتے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کرپشن اور طبقاتی جمہوریت کیساتھ مذہبی انتہا پسندی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ مثال کے طور پر مجھ سے طالب علموں کی اولین سیاسی محبت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے نئے چہرے اور وارثوں نے مردان سے حمایت اللہ مایار کو اے این پی کا امیدوار صوبائی اسمبلی نامزد کیا ہے۔ اے این پی کے اس فیصلے پر اعتراض کرنیوالے ایک دو نہیں ہزاروں ہیں مگر کیا اس اعتراض کو پشتون قوم پرستی سے عناد سمجھ لیا جائے؟ جی نہیں اے این پی کو بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہم اپنے اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں، نواز شریف نے بعض ظاہری اور پوشیدہ قوتوں کی وفاداری میں ہر حد کو کراس کیا۔ انہوںنے بینظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک قرار دیا۔ خود مانتے ہیں کہ اپنے پہلے دو ادوار میں انہوں نے بھٹو خاندان سے جو سلوک کیا اس کا حکم اوپر سے آیا تھا۔ سوال یہ ہے تیسرے دور وہ آلہ کار کا کردار کیوں ادا کرتے رہے؟۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان کا دامن سو فیصد صاف ہرگز نہیں خاندانی امارت کی بنیادیں کرپشن پر کھڑی ہیں۔ پھر کیا یہ حقیقت نہیں کہ ان کی جگہ کسی اور کو ایسے مقدمات کا سامنا ہوتا تو وہ جیل سے مقدمہ لڑ رہا ہوتا۔ تو کیا ہم سمجھ لیں کہ انہیں پنجاب کا شہری ہونے کی وجہ سے رعایت مل رہی ہے؟۔ ایک سادہ سا سوال ہے۔ میاں نواز شریف نے موجودہ چیف جسٹس کو پہلے سیکرٹری لاء اور پھر پنجاب ہائیکورٹ کا جج کیوں بنوایا۔ کیا خالد انور ان کے سفارشی نہیں تھے؟۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ غیر نظریاتی بلکہ پیداواری سیاست میں حصوں پر لڑائی ہوتی ہے، نواز شریف کی لڑائی بھی حصے پر ہے عوام اور جمہوریت کیلئے نہیں، جمہوریت بھی طبقاتی۔ ایسا ہی ہے تو پھر عشاقان جمہوریت ان کا ساتھ کیوں دیں۔ آخری بات یہ ہے کہ پارٹی ابھی شروع ہوئی ہے۔ اپنے مشاہدے کی روشنی میں مجھے یہ پارٹی چلتی نہیں اُجڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ دعا کیجئے کہ ایسا نہ ہو لیکن دعاؤں کا وقت گزر چکا، ہم اپنے اجتماعی جرائم کی سزا کی سمت تیزی سے بڑھ رہے ہیں، نجات کی صورت عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم کرنا ہی ہے۔

متعلقہ خبریں