’’قصہ ایک صحت کارڈ کا‘‘

13 جون 2018

حکومتیں عوام کی سہولت اور فلاح وبہبود کے اقدامات اٹھا کر اپنے تئیں یہ فرض کر لیتے ہیںکہ ان میں ٹھوس منصوبہ بندی کے باعث عوام کو بیٹھے بٹھائے سب کچھ میسر ہوگا لیکن عملی طور پر عوام پر کیا گزرتی ہے اس کی ایک تصویر ہمارے ایک بزرگ قاری نے پیش کی ہے جسے پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان پر اور ان جیسے دیگر لوگوں پر کیا بیتی اورکیا بیت رہی ہے۔میں آپ کی خدمت میں اپنا ایک مسئلہ اپنی پبتا بیان کر رہا ہوں جس سے پچھلے دنوں مجھے دوچار ہونا پڑا۔ میں 63سال کا بوڑھا آدمی ہوں، اپنے گھرانے کی خستہ حالت آپ کو بتا کر مزید دکھی نہیں کرنا چاہتا اصل مسئلے کی طرف آتا ہوں۔ میں ضلع صوابی کے گاؤں یار حسین کا باشندہ ہوں، میری شریک حیات جن کی عمر لگ بھگ 60سال ہے اُن کے گلے کے غدود بڑھ گئے تھے۔ اس دوران ہمیں حکومت کی طرف سے صحت کارڈ عطا کیا گیا۔ مریضہ کو 14اپریل 2018ء کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس آپریشن کی غرض سے داخل کیا گیا اور پیر 16اپریل آپریشن کا دن ٹھہرا۔ میرا گاؤں یار حسین، ہسپتال سے تقریباً 100کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ 14اپریل کو ہسپتال جاتے ہی مریضہ کو ای۔ این۔ ٹی۔ بی وارڈ میں داخل کرایا اور صحت کارڈ لیکر مرکزی او، پی، ڈی میں کمرہ نمبر20 کی کھڑکی پر گیا۔کیس ہسٹری لاکر صحت سہولت والوں کے حوالے کی۔ یہ سب کرنے کے بعد موصوفہ کمرہ نمبر20 والی نے کمپیوٹر کی طرف التفات کیا۔ اب میں نے سوچا کہ میری مصیبتیں ختم ہو جائیں گی اور میں بھی صحت کارڈ کی نعمتوں سے مستفید ہو جاؤں گا۔ ہائے افسوس وہ تمنا ہی کیا جو پوری ہو۔ کمپیوٹر پر دیکھ کر صحت کارڈ والی نے یہ نادر شاہی حکم جاری کیا چونکہ آپ کا کارڈ ایکٹیویٹ نہیں ہے لہٰذا ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ اب پھر سر چکرایا کیونکہ کارڈ جاری ہوا تھا جنوری2018 میں۔ کارڈ کو ایکٹویٹ کرنا تو جاری کرنیوالے ادارے کا کام تھا ہم نے تو کارڈ لیکر صندوق میں سنبھال کر رکھا تھا کہ جب کوئی افتاد پڑے گی تو یہ ہمارے کام آئے گا۔ ویسے بھی، ٹی وی، اخبارات کے ذریعے حکومت نے ہمیں بے شمار سبز باغ دکھائے تھے۔ ہم نے اس کارڈ کو غریب کے اُس سکے کی طرح سنبھال کر رکھا تھا کہ وقت پڑنے پر کام آئے گا لیکن جب ضرورت پڑی تو سکہ کھوٹا نکلا۔ میری حالت اُس سے بھی بدتر تھی کیونکہ اس وقت میں اپنے ساتھ ڈھائی من کی لاش اُٹھائے پھر رہا تھا اور صحت کارڈ والے بجائے مدد اور رحم کرنے کے مسلسل میری ضبط وبرداشت کا امتحان لے رہے تھے۔ مارے غصے کے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر اُن سے پوچھا کہ کارڈ ایکٹیویٹ کرنے کا طریقہ ارشاد فرمائیں۔ فرمایا گیا پشاور صدر میں واقع اسٹیٹ لائف انشورنس کی عمارت میں جاکر کارڈ ایکٹیویٹ کیا جا سکتا ہے۔ مریضہ کو وارڈ میں لٹا کر پشاور صدر جانے کیلئے اللہ کا نام لیکر روانہ ہوا۔جوں توں کرکے بڑی مشکل سے ٹریفک کے اژدھام میں پشاور صدر میں واقع اسٹیٹ لائف کی بلڈنگ پہنچا، وہاں پہنچنے پر بلڈنگ کے پہریداروں نے بتایا کہ آج ہفتہ کا دن ہے اور دفاتر میں چھٹی ہونے کی وجہ سے آپ کا کام نہیں ہوسکتا۔ صحت کارڈ کے اسپانسرڈ ’’سالک فاؤنڈیشن‘‘ کے فون نمبر پر ایڈمن افسر کو رو روکر اپنا دُکھ درد اور اجنبی شہر میں اپنی حالت زار بیان کی۔ اُسے میری حالت پر رحم آگیا اُس نے مجھے میری قومی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی بذریعہ موبائل بھیجنے کو کہا۔ میں نے شناختی کارڈ کی تصویر ایڈمن آفسر سالک ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کو بھیج دی۔ تھوڑی دیر میں انہوں نے کارڈ ایکٹیویٹ ہونے کی نوید دی، خوشی خوشی ہسپتال آیا کہ اب میرے نصیب جاگ گئے ہوںگے اور میں صحت کارڈ کی نعمتوں سے مستفید ہو جاؤں گا۔ بھوکا پیاسا دوڑا دوڑا کمرہ نمبر20 کے معززین سے رحم فرمانے کی درخواست کی لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ ابھی صبر کے کچھ اور پیمانے باقی تھے۔ کھڑکی میں بیٹھی عورت گویا ہوئی کارڈ ایکٹیو نہیں ہوا۔ میں نے فوراً ٹیلیفون کرکے سالک فاؤنڈیشن افسر کی بات کمرے میں بیٹھی ہوئی عورت سے کرانی چاہی پہلے تو وہ ٹیلیفون ہی نہیں لے رہی تھی۔ بادل نخواستہ ٹیلیفون لیا، ایڈمن افسر نے اُن سے درخواست کی کہ کارڈ میں نے ایکٹویٹ کر دیا ہے ممکن ہے انٹرنیٹ کی وجہ سے تھوڑی سی دیر لگ رہی ہو لیکن وہ نہ مانی۔ پانچ بجے میں ابھی 20منٹ باقی تھے لیکن انہوں نے فوراً کھڑکی بند کی، کمپیوٹر آف کیا اور کمرے کو مقفل کرکے جانے لگی، میں بوڑھا اُن کی منت سماجت کرتا رہا کہ دومنٹ ٹھہر جاؤ اور مجھے ریفرنس لیٹر دے جاؤ لیکن اُنہوں نے سنی ان سنی کرتے ہوئے فرمایا کہ پیر کو آجاؤ اور وقت سے پہلے ہی بھاگ کھڑی ہوئی اور میں بھیگی آنکھوں سے حسرت ویاس کی تصویر بنا اُن کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ پیر کا دن آگیا آج مریضہ کا آپریشن تھا۔ 8بجے سے لیکر دوپہر کے تقریباً پونے ایک بجے تک مریضہ آپریشن تھیٹر میں موت وزیست کے بین بین رہی۔ اس دوران کبھی خون کی ضرورت پڑتی اور کبھی انجکشن اور دوائیوں کا انتظام کررہا تھا۔ صحت کارڈ جیب میں ہوتے ہوئے بھی قرض لے لیکر سب کچھ لاتا رہا۔ بڑی دُعاؤں کے بعد مریضہ کو آپریشن تھیٹر سے باہر نکالا گیا۔ مریضہ کی حالت بڑی پیچیدہ تھی۔ بڑی مشکل سے چار پانچ گھنٹوں بعد ہوش آیا تھا۔ مریضہ کو وارڈ میں چھوڑ کر اس حالت میں بھی فائل لیکر صحت کارڈ والوں کے پاس گیا کہ اب شاید میری کچھ داد رسی ہو جائے۔ کمپیوٹر پر کارڈ چیک کیا گیا۔ ایکٹویشن ہوگئی تھی لیکن اب کے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ کا آپریشن ہوگیا۔ میرے ہاں میں جواب کے بعد کمرہ نمبر20 کی کھڑکی والی صاحبہ نے یہ دھماکہ خیز جواب دیا کہ چونکہ آپ کی مریضہ کا آپریشن ہوگیا ہے اسلئے آپ کو صحت سہولت کی ضرورت نہیں رہی۔اس معمر شخص کی کہانی دردناک اور طویل تھی جسے مختصر کرکے پیش کیا گیا۔ اس طرح کے واقعات ہمارے ہاں روز کا معمول ہیں۔ کاش یہ نظا م بدلے، کاش ہم خود بدلیں۔ اس کی آرزو ہی کی جا سکتی ہے وگرنہ حقیقت حال پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا اور بہت کچھ تبدیل کرنا باقی ہے۔

مزیدخبریں