اک خریداری سے پہلے، اک خریداری کے بعد

اک خریداری سے پہلے، اک خریداری کے بعد

عید سے پہلے عید کی آمد کے آثار ہماری گلیوں، بازاروں، گھروں، مکانوں، تھڑوں دکانوں، چہروں مہروں حتیٰ کہ دل کے نہاں خانوں تک کو اپنے خوش رنگ نظاروں کی لپیٹ میں لے لیتے ہیں،
مہنگی ہو یا ہو سستی، جاکر خرید لاؤ
بازار بک رہی ہے تھوڑی سی عید لاؤ
عید سے پہلے در آنیوالی عید پر دکانیں بڑھانے والے بھی خوش نظر آتے ہیں، گلے کاٹنے والے بھی اور گلے کٹوانے والے بھی، اس کا گلا میں کاٹوں گا اور بازو میں نے کاٹنے ہیں، رات کے سناٹے میں دل دہلا دینے والا مکالمہ سن کر ڈیوٹی پر مامور پولیس والا چونکا اور اس نے تھر تھر کانپتی ہمت سے اس دروازے پر دستک دے ڈالی جس کے اندر سے گلا اور بازو کاٹنے کی دھنک سنائی دے رہی تھی، کس کا بازو اور گلا کاٹ رہے ہو میاں، اس نے گرجدار آواز میں دروازہ کھولنے والے سے پوچھا، جی ہم درزی ہیں، وہ کیا ہے کہ عید کی آمد آمد ہے، کسی قمیص کا گلا میں کاٹتا ہوں تو اس کے بازو یہ کاٹ ڈالتا ہے، اس نے اپنے دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کرکے کہا، کیا، کیا کیا جائے خان جی، عید کا سیزن ہے نا اور کام کی زیادتی ہے۔۔۔، پھر تو تم دونوں کو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا اتنا کہہ کر سنتری باچھا، عید سے پہلے عیدی وصول کرنے کی غرض سے ٹیلر ماسٹرکی دکان میں گھس گیا، کہتے ہیں ٹریفک والے بھی عید سے پہلے ایسی ہی کوئی مہم چلاتے ہیں۔
اگر روک لیں وہ اشارے سے تم کو
سمجھنا یہی وہ شنیدی مہم ہے
ٹریفک کا قانون اپنی جگہ پر
سنا ہے کہ یہ ان کی عیدی مہم ہے
اللہ کرے یہ سب جھوٹ ہو، ویسے عید کی آمد سے پہلے لوگ سچ کے بھاؤ جھوٹ خرید کر خوشی خوشی گھر لوٹتے ہیں کہ انہوں نے ہر قیمت پر عید منانے کی ٹھان رکھی ہوتی ہے۔ دور پار کے دیہاتوں کے لوگ عیدالفطرکی جی بھر کر خریداری کرنے کی غرض سے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بازاروں سے گزرنا محال ہو جاتا ہے۔ عید کے موقع پر بازاروں میں بھیڑ بھاڑ کا یہ عالم دن کے وقت بھی دیکھنے کو ملتا ہے لیکن رات کے وقت کا منظر دگرگوں ہوتا ہے۔ سجی سجائی اور رنگ برنگی قمقموں اور جلتی بجھتی روشنیوں سے جگمگاتی دکانوں پر سیل سیل سیل کے کتبے یا بینر دیکھ کر لوگ یوں خریداری کرنے لگتے ہیں جیسے مفت بانٹا جا رہا ہو سب کچھ اور یوں کانداروں کی مٹی بھی چاندی بننے لگتی ہے۔ پشاور میں جس مقام کو پی ٹی آئی حکومت نے ہیری ٹیج ٹریل کا نام دے کر جاذب نظر بنایا ہے وہاں پشاور کا مسلم مینا بازار بھی واقع ہے۔ گھنٹہ گھر پشاور کے قریب واقع مسلم مینا بازار جو کبھی مچھی ہٹہ کہلاتا تھا عید کی آمد سے پہلے زنانہ بازار بن جاتا ہے۔ اس بازار میں عید کی آمد سے پہلے عید کی خریداری کرنے کی غرض سے آنیوالی خواتین کا اس قدر رش ہوتا ہے کہ تاجر برادری دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں کے دوران اس بازار میں مردوں کے داخلے پر مکمل پابندی لگا دیتی ہے۔ لڑکوں بالوں یا من چلے اور دل پھینک مردوں کو اس بازار میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے۔ جس کیلئے بعض اوقات چھڑی یا لاٹھی کا استعمال بھی کرنا پڑجاتا ہے۔ پشاور کے علاوہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی ایسے بازار یا شاپنگ سنٹر سجتے ہونگے جہاں عید کی خریداری کے سیزن میں مردوں کا داخلہ ممنوع قرار پاتا ہوگا۔ عید کی خریداری کیلئے دورپار سے آنیوالی خواتین اپنی گاڑیوں میں آتی ہیں جن کو ان کے مرد ڈرائیو کر رہے ہوتے ہیں، لیکن ان کو بھی عید کی خریداری کیلئے سجنے والے کسی زنانہ بازار میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی، جو حضرات خواتین کے شانہ بشانہ عید کی خریداری کا شوق پورا کرنا چاہتے ہیں ان کیلئے پشاور شہر، صدر اور یونیورسٹی روڈ کے بیشمار شاپنگ سنٹر چشم ماروشن دل ماشاد کا منظر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ عید کی خریداری کیلئے سجنے والی دکانوں یا سٹالوں میں سب سے زیادہ بھیڑ رنگ برنگی اور جگمگاتی چوڑیوںکے سٹال پر نظر آتی ہے، کون، پوڈر اور پیسٹ مہندی کے سٹالوں پر عید کی خریداری کرنیوالی خواتین اور کڑیاں چڑیاں یا لڑکیاں بالیاں ٹوٹ کر خریداری کرتی دکھائی دیتی ہیں، ایک بچی جو اپنے ابو کے ہمراہ عید کی خریداری کرنے نکلی تھی اس نے نئے سینڈل بھی خرید لئے، نیا سوٹ بھی پیک کروا لیا، اچھی خاصی جیولری بھی خرید لی، چوڑیاں بھی پہن لیں، چوڑیوں کا سیٹ بھی اٹھا لیا اور آخر میں اپنے ننھے منے چٹے گورے ہاتھ پر مہندی کے ڈیزائین چھپوانے بیٹھ گئی، ڈیزائن تو اچھا ہے مگر انکل اس مہندی کا رنگ کیسا ہوگا؟، اس نے مہندی لگانے والے سے پوچھا، جس کے جواب میں اس نے کہا ’بیٹا اس مہندی کا رنگ بالکل تمہارے ابو کے چہرے کے رنگ جیسا لال سرخ ہوگا‘‘۔ یہی تو وجہ ہے کہ کہنے والے کہتے ہیں کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔

اداریہ