Daily Mashriq

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کیساتھ

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کیساتھ

کیا الیکشن کمیشن کیساتھ ساتھ سپریم کورٹ اس صورتحال کا نوٹس لینے پر غور کر سکتے ہیں کہ الیکشن میں اخراجات کی حد مقرر کئے جانے کے باوجود کھلم کھلا اعلانات کئے جارہے ہیں کہ ’’میرا دماغ خراب ہے کہ چار کروڑ جیب میں رکھ کر الیکشن لڑنے کیلئے میدان میں اترنا چاہتا ہوں مگر مجھے ٹکٹ ہی نہیں دیا گیا‘‘۔ یہ الفاظ گزشتہ روز تمام چینلز پر پاکستان بھر میں لوگوں نے اس وقت سنے جب جڑانوالہ کے تحریک انصاف کے صدر خان بہادر ڈوگر اور ان کیساتھ دو اور اراکین نے پارٹی ٹکٹ سے محروم رکھے جانے کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران کہے۔ تحریک انصاف نے ان لوگوں کو ٹکٹ کیوں نہیں دیئے یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے اور تحریک انصاف کا اندرونی معاملہ، تاہم کم ازکم یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ اگر خان بہادر ڈوگر اپنی جیب میں چار کروڑ رکھ کر میدان میں اترنے کو تیار تھے تو سوچنا پڑے گا کہ جسے ٹکٹ مل چکا ہے اس کی جیب ان سے بھی بھاری ہوگی۔ شاید اسی لئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے بھی گزشتہ روز چارسدہ میں خطاب کرتے ہوئے جہاں اور بہت سی باتیں کہی ہیں وہاں یہ بھی کہا ہے کہ دولت کے بل بوتے پر پاکستانی سیاست اغواء کرنے والے دہشتگردوں سے کم نہیں۔ اس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ
غرض نہیں ہے انہیں شہر کی روایت سے
یہ لوگ گاؤں سے پیسے کمانے آئے ہیں
یہ صورتحال سوچ کے کئی در وا کرتی ہے، تاہم سو سوال کا ایک سوا ل کہ جو لوگ کروڑوں خرچ کر کے اسمبلیوں میں پہنچنا چاہتے ہیں وہ بقول خان بہادر ڈوگر کیا واقعی پاگل ہیں؟ یا پھر انہیں عوام کے دکھ درد کا اتنا ہی ’’مرض‘‘ لاحق ہے کہ جیب سے کروڑوں خرچ کرکے صرف عوام کے مسائل حل کرنے کا شوق ہے۔ موصوف نے دھرنے کے 126دنوں کے دوران دھرنے والوں کو اپنی جیب سے ناشتہ اور کھانے کا بھی دعویٰ کیا اور پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مرغیاں ہم خرید کر کھلاتے رہے اور ٹکٹ کسی اور کو دیا گیا، بلکہ مستزاد یہ کہ بقول ان کے یہ ناشتہ اور دو وقت کا کھانا صرف تحریک انصاف کے کارکنوں کیلئے ہی نہیں تھا عوامی تحریک کے کارکنوں کو بھی کھلاتے پلاتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ رائے حسن نواز نے خودساختہ سروے کرواکے ان کے ٹکٹ پر شب خون مارا ہے۔ اب یہاں دو باتیں قابل توجہ ہیں، ایک تو یہ کہ احسان جتانے والوں کو احسان جتانے سے منع کیا گیا ہے اسلئے اگر خان بہادر ڈوگر اور ان کے ساتھیوں نے دھرنے والوں پر اتنا بڑا احسان کیا تھا تو اسے جتانے سے احتراز کرنا چاہئے تھا کیونکہ عین ممکن ہے کہ آنیوالے دنوں میں پارٹی ان کے احسانات کا بدلہ کسی اور شکل میں چکاتی جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ اتنا بڑا احسان کرتے ہوئے ڈوگر صاحب کو یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہئے تھی کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو اور اگر ان سے ناشتوں اور کھانوں کے عوض ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا بھی گیا تھا تو انہیں یہ بات بھی ذہن میں ضرور رکھنی چاہئے تھی کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔ خان بہادر ڈوگر کو تو اب یہی مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت، لیکن یہاں معاملہ خان بہادر ڈوگر کی ٹکٹ سے محرومی کا نہیں بلکہ لگ بھگ ہر جماعت کی جانب سے انتخابی میدانوں میں اُتارے گئے اُمیدواران کی انتخابی قوانین کی دھجیاں اُڑانے کا ہے جس کی ابتدا نہ جانے کب سے ہماری سیاست کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے، اس حوالے سے جنرل ضیاء الحق کا دور بھی یاد آجاتا ہے جب موصوف نے اُمیدواروں پر اسی طرح اخراجات کی مد میں پابندی لگائی مگر ہمیں یاد ہے کہ اسمبلی اجلاس کے پہلے ہی روز خطاب کرتے ہوئے موصوف نے نہ صرف یہ کہہ کر یوٹرن لے لیا تھا کہ انہیں معلوم ہے ممبران نے مقررہ حد سے زیادہ اخراجات کئے ہیں اور اب وہ گوشوارے جمع کراتے ہوئے جان بوجھ کر حقائق چھپائیں گے، اسلئے وہ انتخابی اخراجات کی مد میں عائد شرط کو واپس لیتے ہیں تاکہ اسمبلی کا آغاز جھوٹ سے نہ ہو، دوسری مہربانی انہوں نے یہ کی کہ اسمبلی ممبران کو قانون سازی پر توجہ دینے کی بجائے، انہیں انتہائی نچلی سطح پر لاتے ہوئے بلدیاتی اداروں کے ممبران کی سطح پر لاکھڑا کیا اور ان کیلئے گلیوں، سڑکوں، نالیوں وغیرہ کی تعمیر اور مرمت کرنے کیلئے صوابدیدی فنڈز دیکر اس کی چھینا جھپٹی پر مجبور کردیا، تب سے اب تک یہ صوابدیدی فنڈز ہی ہیں جن کی لت ممبران کو پڑ چکی ہے۔ اسلئے اگر کسی پر لیڈر کے اے ٹی ایم ہونے کی پھبتی کسی جاتی ہے تو یہ صورتحال دوسری جماعتوں میں بھی موجود ہے کیونکہ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں کے اندر ہی جب جمہوریت نہیں ہے اور زیادہ تر جماعتیں خاندانی وراثتی کلب بن چکی ہیں جہاں اصل ’’مالک‘‘ کے اشارہ ابرو سے ہی سب کچھ طے ہوتا ہے تو وہاں جمہوری اقدار کا کیا کام۔ ایسی صورت میں متعلقہ رہنماء ہی سب اخراجات اپنی جیب سے کیونکر کر سکتا ہے، ظاہر ہے پھر بعض لوگوں کو اے ٹی ایم، بعض کو ’’ذرائع آمدورفت‘‘ کے اخراجات برداشت کرنے اور بعض کو دھرنوں میں مرغیاں کھلانے، پھلاؤ پکوا کر پیش کرنے اور ناشتے کے اخراجات اٹھانے ہی پڑتے ہیں تاکہ آنیوالے ’’اچھے دنوں‘‘ میں اسمبلیوں میں پہنچ کر عوام کے ’’دکھ درد کا مداوا‘‘ کرنے کیلئے قومی وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔ یعنی بقول اکبر الہ آبادی
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کیساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کیساتھ

اداریہ