مشرقیات

مشرقیات

اسلامی تاریخ میں ایثار وہمدردی کے بڑے عجیب ونایاب واقعات ملتے ہیں۔ ان میں ایک واقعہ وہ ہے ، جو خطیب بغدادیؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’تاریخ بغداد‘‘ میں امام واقدیؒ کے حالات میں لکھا ہے ۔ امام واقدی کا بیان ہے ، ایک مرتبہ مجھے بڑی مالی پریشانی کا سامنا کرناپڑا۔ فاقوں تک نوبت پہنچی ، گھر سے اطلاع آئی کہ عید کی آمد آمد ہے اور گھر میں کچھ نہیں۔ بڑے توصبر کر لیں گے ، لیکن بچے مفلسی کی عید کیسے گزاریں گے؟یہ سن کر میں اپنے ایک تاجر دوست کے پاس قرض لینے گیا، وہ مجھے دیکھتے ہی سمجھ گیا اور بارہ سو درہم کی سربمہر ایک تھیلی میرے ہاتھ میں تھمادی میں گھرآیا ابھی بیٹھا ہی تھا کہ میرا ایک دوست آیا اس کے گھر میں بھی افلاس وغربت نے ڈیرہ ڈالا تھا۔ میں نے گھر کا کہہ کر اہلیہ کو ساراقصہ سنایا ، کہنے لگی ، کتنی رقم دینے کا ارادہ ہے؟ میںنے کہا تھیلی کی رقم نصف نصف کر لیں گے اس طرح دونوں کا کام چل جائے گاکہنے لگی بڑی عجیب بات ہے آپ ایک عام آدمی کے پاس گئے اس نے آپ کو بارہ سو درہم دئیے اور آپ اسے ایک عامی آدمی کے عطیہ کا نصف دے رہے ہیں ۔ چنانچہ میں نے وہ تھیلی کھولے بغیر سربمہر اس کے حوالے کر دی وہ تھیلی لے کر گھر پہنچا تو میرا تاجر دوست اس کے پاس گیا ۔عید کی آمد ہے گھر میں کچھ نہیں ، کچھ قرض چاہئے ہاشمی دوست نے وہ تھیلی تاجر کو دے دی وہ اپنی ہی تھیلی دیکھ کر حیران رہ گیا اور اس تھیلی کو اس کے ہاں چھوڑ کر میرے پاس آیا میں نے اسے پورا قصہ سنایا کہ درحقیقت تاجر دوست کے پاس بھی اس تھیلی کے سوا کچھ نہیںتھا وہ ساری مجھے دے گیا اور خود قرض لینے اس کے پاس چلا گیا، ہاشمی نے جب وہ حوالے کرنا چاہی تو راز کھل گیا ۔ایثار وہمدردی کے اس انوکھے واقعے کی اطلاع جب وزیر یحییٰ بن خالد کے پا س پہنچی تو وہ دس ہزار دینار لے کر آئے ، کہنے لگے : ان میں دو ہزار آپ کے ، دو ہزار ہاشمی کے اور دو ہزار تاجر دوست کے اور چار ہزار آپ کی اہلیہ کے ہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ قابل قدر اور لائق اعزاز ہیں۔(تاریخ بغداد ، صفحہ نمر 2ج3)ایک شخص نے فضل بن ربیع کے نام جعلی خط تحریر کیا جس میں اپنے لئے ایک ہزار دینار کا حکم جاری کر کے دستخط کئے گئے تھے۔ وہ شخص خط لے کر فضل بن ربیع کے خزانچی کے پاس پہنچا۔ اس نے خط پڑھ ڈالا، مگر اسے کوئی شبہ نہ گزرا وہ ایک ہزار دینار اس کے سپرد کرنے ہی لگا تھا کہ اس دوران فضل بن ربیع کسی کام سے خود وہاں آپہنچا ۔فضل بن ربیع سرجھکا کر کچھ دیر سوچنے کے بعد خزانچی سے مخاطب ہوا ۔میں تمہیں صرف یہ تاکید کرنے آیا ہوں کہ اس شخص کو رقم فوراًادا کرکے اس کی ضرورت پوری کرو۔ وہ شخص ہکا بکا رہ گیا ۔فضل بن ربیع قریب ہو کر اس سے مخاطب ہوئے ، گھبرائو نہیں اور راضی خوشی گھر کارخ کرو، اس شخص نے فرط جذبات سے فضل بن ربیع کے ہاتھ کا بوسہ لیا اور کہا آپ نے میری پردہ پوشی کی اور رسوا نہ کیا روز قیامت خدا آپ کی پردہ پوشی فرمائے اور رسوائی سے بچائے۔یہ کہہ کراسنے دینار لیے اور نکل آیا۔
(المستطرف ، صفحہ نمبر 206)

اداریہ