Daily Mashriq

عوام دوست بجٹ ممکن ہی نہ تھا

عوام دوست بجٹ ممکن ہی نہ تھا

ہر سیاسی حکومت کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ عوام دوست بجٹ بنا کر عوام کو ریلیف دیگی، عوام بھی بجاطور پر اسی کی توقع رکھتی ہے۔ معاشی حالات اور قرضوں کی جکڑن ہر حکومت کے پاؤں کی بیڑیاں رہی ہیں، اگر دیکھا جائے تو موجودہ حکومت کے پاؤں میں آئی ایم ایف نے سخت شرائط کی صورت میں جو مزید بیڑیاں پہنا دی ہیں اس کے باعث وزیراعظم کی شدید خواہش اور مشیر خزانہ کی پوری مساعی کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پہلی باضابطہ بجٹ عوامی توقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی ایسا ہونا معروضی معاشی حقائق اور حالات میں ممکن تھا، اگرچہ بجٹ میں بعض مداعت میں ٹیکس کی شرح میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کا تاثر دیا گیا ہے لیکن اعداد وشمار کے اس ہیرپھیر میں اس امر کا تعین مشکل ہے کہ دکھایا کیا جا رہا ہے اور ہوگا کیا اور اس کے نتیجے میں عوام کو ریلیف کیا ملے گا؟ وطن عزیز کے عوام کو اس امر کا بخوبی اور تلخ تجربہ رہا ہے اور وہ یہ بات جانتے ہیں کہ بجٹ میں ان کو ریلیف نہیں ملتا بلکہ عوام پر مزید بوجھ ہی پڑتا ہے۔ عوام پر درآمدی اشیاء پر ٹیکس کی شرح میں رد وبدل سے زیادہ فرق نہیں پڑتا لیکن بنیادی اشیاء خاص طور پر اشیائے خوردنی پر ٹیکس کا نفاذ عوام پر سخت بوجھ کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات، سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ سخت مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ روزمرہ استعمال ہونے والی اشیاء چینی، گھی، خوردنی تیل، گوشت، خشک دودھ کے مہنگا ہونے پر پڑنے والے اثرات کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ دوائیں اور کھاد کی سستوائی کی شرح کتنی رہے گی اور خاص طور پر ادویات کی قیمتوں میں جو بے تحاشہ اضافہ کیا گیا تھا جن کو معمول پر لانے میں وزیراعظم کی سخت ہدایات کے باوجود حکومت کو کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تھی، بجٹ کے اقدامات اس پر کس حد تک اثرانداز ہوں گے اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں میں کچھ کمی آئے گی یا پھر واقعی اور حقیقی قیمتوں میں کمی ہوگی۔ کھاد کی قیمتیں بھی ناقابل برادشت تھیں، بہرحال یہ دونوں اقدامات عام آدمی کے نقطۂ نظر سے مفید ہیں۔ موبائل فونز سستے ہونے سے بھی اس کے کاروبار کو فروغ اور عام آدمی کو فائدہ ہوگا، البتہ وفاقی کابینہ کے اراکین کی تنخواہوں میں کمی اور اعلیٰ درجے کے سرکاری افسران کی تنخواہوں میں عدم اضافہ بہتر فیصلہ ہے بشرطیکہ اس میں ایک ہاتھ سے لینے اور دوسرے ہاتھ سے واپس دینے کا کوئی طریقہ وضع نہ ہو جس کا امکان قوی ہے۔ جن سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے ان پر ٹیکس کی شرح بھی بڑھا دی گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق گریڈ سترہ کے افسران کی تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس کی شرح بڑھنے کے بعد ان کو محض تین سو پچاس روپے کا قلیل فائدہ پہنچے گا۔ اسی طرح چھ لاکھ تنخواہ پر ٹیکس بحال کرکے تنخواہ دار طبقے کا سر پھر اوکھلی میں دیدیا گیا۔ ڈیم فنڈ میں کمی کرکے حکومت نے نہ صرف اپنے ہی ترجیحات کو غلط ثابت کیا ہے بلکہ اس فیصلے سے عوام ناخوش اور ملک بھی متاثر ہوگا۔ دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کا بڑا غلغلہ ہے، ایک اطلاع کے مطابق گزشتہ سال دفاعی بجٹ1.1ٹریلین روپے تھی جبکہ اس سال1.15ٹریلین روپے ہے تو اس میں کمی کیسے آئی بہرحال فی الوقت اس ضمن میں ابہام ہے۔ دفاعی بجٹ میں کمی کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کی شرط ہو یا رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں عدم اضافہ، اگر اس سے ہماری دفاعی ضروریات پر زیادہ اثر نہیں پڑتا اور کفایت شعاری کے ذریعے اس خلاء کو پر کرنا ممکن ہو تو یہ احسن اقدام ہوگا۔ صحت اور تعلیم کے بجٹ میں بھی کمی کر دی گئی ہے، تعلیمی بجٹ 197ارب روپے سے کم کر کے 77ارب اور صحت کا تیرہ ارب روپے سے کم کر کے گیارہ ارب روپے کر دیا گیا ہے، اس کی کمی کیساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا بھی حساب لگایا جائے تو یہ رقم مزید کم ہوجاتی ہے۔ اسی صورتحال میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کے کتنے امکانات ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ وفاقی میزانیہ میں اعلیٰ تعلیم کیلئے ایچ ای سی کے بجٹ میں کمی حکومت کی ترجیحات اور منشور کے سراسر برعکس معاملہ ہے۔ گزشتہ سال ایچ ای سی کا بجٹ46ملین روپے تھا اس سال ایچ ای سی نے55بلین روپے طلب کئے تھے جبکہ حکومت نے محض28بلین روپے دیئے جس سے تنخواہیں اور انتظامی اخراجات ہی بمشکل پورے ہوں گے۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں تخصص کیلئے جانے والے طالب علم وسائل نہ ہونے کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں اور ابتک ان پر خرچ ہونے والی رقم کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، تازہ صورتحال میں ایسا ہونا یقینی ہے۔ حکومت کو کم ازکم اتنے فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ نئے سکالرز تخصص کیلئے باہر نہ بھی جا سکیں تو کم ازکم پہلے سے گئے ہوئے طالب علموں کو تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس نہ آنا پڑے۔ خیبر پختونخوا کو وفاقی بجٹ میں نظرانداز کرنا نہایت افسوسناک عمل ہے جس کی صوبے کے عوام کو ہرگز توقع نہ تھی۔ سندھ اور بلوچستان کیلئے وفاقی میزانیہ میں پیکچ کا اعلان خوش آئند ہے لیکن خیبر پختونخوا کی محرومی تکلیف دہ اور باعث تعجب امر ہے اور یہ صوبے کے عوام کی سخت حق تلفی ہے۔ پختونخوا کیلئے بجٹ میں 533ارب روپے کا اعلان کر دیا گیا ہے مگر ان کی وصولی یقینی نہیں۔ گزشتہ سال 426ارب روپے کا اعلان کیا گیا مگر صوبے کے وفاق کے ذمے 404ارب روپے باقی رہ گئے۔ اسی طرح بجلی کے خالص منافع کی مد میں بھی صوبے سے سخت ناانصافی برتی گئی۔ جوں جوں بجٹ کے مفصل تجزیات سامنے آئیں گے توں توں اس کی وہ پرتیں بھی کھلتی جائیں گی جو پوشیدہ ہیں۔ حزب اختلاف روایتی احتجاج پر اکتفا کرے گی اور حکومت بے رحمانہ رویہ رکھنے کی روایت کا اعادہ کرے گی اور بالآخر عوام کی ٹوٹی کمر پر مزید بوجھ لاد دیا جائے گا اور راوی بھی اسے بے چینی کی جگہ چین ہی چین لکھے گا۔ جو حکومت 7022ارب روپے کا بجٹ پیش کرے اور اس میں سے تین سو ارب روپے سود کی ادائیگی کرنی ہو۔ مجموعی بجٹ کا تقریباً چالیس فیصد قرضوں کی ادائیگی کیلئے دینا پڑتا ہو اس حکومت سے عوام کو ریلیف دینے کی توقع ہی عبث ہے۔

متعلقہ خبریں