Daily Mashriq


خوشامد سے پرہیز

خوشامد سے پرہیز

جہاں دو چار ہم طبیعت مل بیٹھیں وہاں گپ شپ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، سب کچھ نہ کچھ کہنا چاہتے ہیں، بہت سے ایسے احباب بھی ہوتے ہیں جو صرف اور صرف آپ کے رکنے کا انتظار کرتے ہیں کہ جیسے ہی آپ کی بات ختم ہو وہ آپ کو اپنے اقوال زریں سے نوازیں، دوستوں کی اس قسم کی بے تکلف محفلوں میں بات چیت کے مختلف حوالے ہوتے ہیں، زیادہ تر لوگ اپنے منہ میاں مٹھو بننا پسند کرتے ہیں۔ وہ بات کو گھما پھرا کر ایک ایسے نکتے پر لے آتے ہیں جس میں ان کی تعریف کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور نکلتا ہے، ہم نے اس قسم کی تعریف کے حوالے سے بہت سوچا ہے اور آخرکار اس نکتے پر پہنچے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے زندگی میں کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے جس سے اس کے دوست احباب بے خبر ہیں اور اگر وہ اپنے کارنامے کا ذکر کرتا ہے جو جھوٹ بھی نہیں ہے سچی بات ہے تو آخر اس قسم کا واقعہ سنانے میں کیا قباحت ہے؟ مگر اب اس کا کیا علاج کہ لوگ ہماری منطق سے اتفاق نہیں کرتے اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے والوں کو عام طور پر پسند نہیں کیا جاتا! ہم نے بہت پہلے کسی جگہ پڑھا تھا کہ اپنی عقل اور دوسروں کی دولت سب کو اچھی لگتی ہے، لوگ دوسروں کے مال پر عیش کرنا چاہتے ہیں، ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا پیسہ بچا کر رکھیں، اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کرتے رہیں اور جس چیز کو وہ فراخدلی سے خرچ کرتے ہیں وہ ان کی دانست میں ان کی عقل ہوتی ہے، جسے وہ دوستوں، رشتہ داروں پر مشوروں اور نصیحت کی صورت لٹاتے رہتے ہیں۔ نصیحت کے بھی کچھ نفسیاتی حوالے ہوتے ہیں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کو کوئی نصیحت کرتے وقت آپ کے دل ودماغ میں اپنی برتری کا احساس کسی نہ کسی گوشے میں یقینا موجود رہتا ہے۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جسے نصیحت کی جارہی ہے اس کی عقل کہیں گھاس چرنے گئی ہوئی ہے اور جو بات آپ اسے سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں اگر اس نے اس پر پورے خشوع وخضوع کیساتھ عمل کیا تو اس کی زندگی بدل جائے گی اور وہ بہت زیادہ ترقی کرے گا کسی کو نصیحت کرنے کا ایک نفسیاتی محرک یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ اس کے سامنے ایک بے لوث ہمدرد کے طور پر پیش ہونا چاہتے ہیں، آپ اسے یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ آپ کو اس سے محبت ہے، آپ اس کی بہتری چاہتے ہیں اور جواباً آپ اس سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ بھی آپ کیساتھ اتنے ہی خلوص اور محبت کا مظاہرہ کرے! نفسیات کے ماہرین اس حوالے سے کہتے ہیں کہ زیادہ تر نصیحت کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے عملی زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کیا ہوتا اور انہیں اپنی کم مائیگی کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے وہ اس کمی کو نصیحتوں کی صورت پورا کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں ایک مرتبہ کسی سکول میں ایک ٹیچر نے اپنے شاگردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا نالائقو! محمد بن قاسم نے جب سندھ فتح کیا تو اس وقت اس کی عمر صرف سترہ برس تھی! ایک تم ہو کہ بس صرف روٹیاں توڑنا جانتے ہو، نہ کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے! استاد محترم کی بات کے جواب میں ایک طالب علم نے نظریں جھکا کر کہا سر جی: آپ کی عمر بھی چالیس برس ہوگی مگر آپ نے بھی ابھی تک کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا! کسی مرد دانا کا کہنا ہے کہ کام کرنے والوں کے پاس نصیحت کیلئے وقت نہیں ہوتا وہ اپنے کردار سے دوسروں پر اثرانداز ہوتے ہیں، ان کی شخصیت دوسرے لوگوں کیلئے رول ماڈل ہوتی ہے! ویسے فی زمانہ مشوروں کا چلن عام ہے کہتے ہیں جب کوئی مشورہ مانگے تو اسے مشورہ دینا چاہئے لیکن آج کل لوگ اس قسم کے تکلف میں نہیں پڑتے آپ کسی بھی حوالے سے کسی محفل میں کوئی بات کریں تو بھانت بھانت کے مشوروں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجائیگا۔ مفید مشورے کی افادیت سے کوئی بے وقوف ہی انکار کرسکتا ہے، دانا دوست بہت بڑا اثاثہ ہوتے ہیں جو وقت پر اچھا مشورہ دیتے ہیں جس میں خیر کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں! بات ابھی تک غیر ضروری مشوروں اور نصیحت کی ہورہی ہے ان کی ایک چھوٹی بہن بھی ہے جسے دنیا خوشامد کے نام سے جانتی ہے یہ دیکھنے میں جتنی بے ضرر اور معصوم نظر آتی ہے درحقیقت اتنی ہی خطرناک ہے، اس کا شکار عموماً حکمران یا اعلیٰ عہدوں پر براجمان لوگ ہوتے ہیں، ان کے گرد خوشامدیوں کا ٹولہ ہر وقت موجود رہتا ہے جو ان کی جا وبے جا تعریفوں کے پل باندھ باندھ کر ان کی ایسی تصویر کشی کرتا ہے کہ وہ اسے سچ سمجھ بیٹھتے ہیں یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب حقیقت ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے اور وہ ان کی خوشامد کی روشنی میں ایسے ایسے اوٹ پٹانگ فیصلے کرتے ہیں جن سے ان کی تباہی پر مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ہے پھر ان کے سامنے وہی دنیا ہوتی ہے جس کی تصویر اس کے اردگرد موجود خوشامدی ٹولے نے بڑی محنت سے تیارکر رکھی ہوتی ہے! سیاست کے ایوانوں میں خوشامد کا چلن عام ہے کہتے ہیں کہ جیت کے سو باپ ہوتے ہیں اور ہار ہمیشہ یتیم ہوتی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے والے صاحبان اقتدار اس خوشامدی ٹولے کی خوشامد کی وجہ سے کبھی بھی عوام کی حالت زار سے باخبر نہیں ہونے پاتے، انہیں ہمیشہ سب اچھا کی رپورٹ دی جاتی ہے ان پر حقیقت حال تب آشکارا ہوتی ہے جب ان کے اقتدار کا سورج ڈوب چکا ہوتا ہے یہ ضرب المثل ان پر صادق آتی ہے: اب پچھتائے کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!

متعلقہ خبریں