Daily Mashriq

غریب تر بجٹ

غریب تر بجٹ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اپنا پہلا وفاقی بجٹ برائے مالی سال2019-20 قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ کہا تو یہ ہی جا رہا ہے کہ پہلا بجٹ ہے مگر جب سے پی ٹی آئی برسراقتدار آئی یعنی ایک سال کے عرصہ میں یہ پی ٹی آئی کا تیسرا بجٹ ہے۔ نواز شریف کی حکومت اپنا بجٹ دے گئی تھی جس کو پی ٹی آئی کی حکومت نے قبول نہیں کیا تھا چنانچہ دو مرتبہ اس بجٹ پر نظرثانی کر کے جو بجٹ پیش کیا گیا اس کو عمرانی بجٹ سے منسوب کیا گیا تھا۔ موجودہ بجٹ کو پی ٹی آئی کی حکومت نے کوئی نام نہیں دیا جیسا کہ ماضی کی حکومتیں عموماً نام رکھ دیا کرتی تھی کہ عوام دوست بجٹ، بہرحال پیش کئے گئے بجٹ کو عوامی بجٹ یا عوام دوست بجٹ تو ہرگز نہیںکہا جاسکتا ہے اور نہ اس میں پی ٹی آئی کی رمق برابر خو بو محسوس کی جارہی ہے، البتہ حزب اختلاف کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اس بجٹ کے پہلے حرف سے آخری حرف تک آئی ایم ایف کی بو باس آرہی ہے۔ گویا یہ بجٹ پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ نہیںہے جس کی عمران خان بائیس سال سے ڈونڈی پیٹ رہے تھے۔ خزانہ کی کنجیاں وزیراعظم کے ہاتھ میں ہیں لیکن بجٹ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے پیش کیا۔ انہوں نے آئندہ

مالی سال2019-20 کیلئے70کھرب36ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کیا، جس میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا3151.2ارب روپے7.2فیصد تجویز کیا گیا جو گہری تشویش کا حامل ہے کیونکہ جب سے یہ حکومت آئی ہے چور چور کا شور تو خوب مچایا ہے مگر کسی کی چوری عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔ اسی طرح عوام کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے کہ وہ ٹیکس نہیں دیتی، بجٹ سے پہلے اسٹیٹ بینک نے گزرنے والے مالی سال کا جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ خود حکومت کی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ثابت ہو رہا ہے کہ پاکستان کے عوام اور خاص طور پر غریب عوام ہی تو ٹیکس باقاعدگی سے دیتے ہیں۔ ایک وہ شخص جو دن رات شہر کے پھیرے لگا کر کچرے میں سے اپنی روزی ڈھونڈتا ہے وہ بھی ٹیکس دیتا ہے کیونکہ اشیائے صرف پر سیلز ٹیکس ہے اور وہ جو ضروریات زندگی خریدتا ہے ٹیکس دیکر خریدتا ہے، اس ٹیکس کو سرمایہ کار وصول کرتا ہے مگر یہ ٹیکس حکومت کو منتقل نہیں ہوتا کیونکہ کارخانہ دار یا تاجر اس کی ادائیگی نہیں کرتا اور وہ محکمے جو ٹیکس وصولی کے ذمہ دار ہیں ان کے اہلکاروں کی ملی بھگت یا وہ آڈٹ کمپنیاں جو ان کا حساب کتاب ایسی چوری چکاری کیلئے ترتیب دیتی ہیں جسے بچت کا نام دیدیا گیا ہے، انہی کمپنیوں کا ایک نمائندہ آج ٹیکس وصولی کے ایک اہم ترین عہدے پر سرفراز عمرانی حکومت کر دیا ہے۔ کیا وہ یہاں سے فارغ ہوکر ان سرمایہ داروں کے پاس اپنے کاروبار کیلئے نہیں جائے گا تو وہ اب ان کے کان اینٹھ کر کیسے رقم نکلوا سکتا ہے۔واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں وزیراعظم نے وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کیا تھا جس کی وجہ سے تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر وفاقی وزیر خزانہ کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے، اسد عمر کیوں مستعفی ہوئے تھے اب یہ کوئی سوال نہیں رہا کیونکہ جس طرح ان کے جانے کے بعد تمام اہم مالی ادارے آئی ایم ایف کے نمائندوں کے سپرد کر دئیے گئے اس کا نتیجہ ایسے ہی بجٹ کے صورت میں آنا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ آئندہ مالی سال کا قطعی بجٹ نہیں ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے ابھی رقم دینی ہے اور اس کی مزید شرائط ہیں جن کو پورا کرنے کیلئے نئے مالی سال میں مزید نظرثانی بجٹ پیش ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک نے اپنے سالانہ تجزیہ میں کہا ہے کہ حکومت ریونیو کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے یہ ہی بات ورلڈ بینک نے کچھ عرصہ پہلے کہی تھی کہ پاکستان کو نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے اس کا ریونیو اتنا بنتا ہے کہ نہ ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے اور نہ خسارہ بڑھ سکتا ہے، کمی یہ ہے کہ ٹیکس وصولی کے جو اہداف ہیں اس میں ناکامی کا سامنا رہتا ہے، نئے بجٹ میں ایسا کوئی اقدام نہیں رکھا گیا ہے کہ ٹیکس وصولی کا سو فیصد ہدف پورا کیا جاسکے چنانچہ اس کے متبادل کے طور پر عوام کو مزید ٹیکس کی زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ مثلاً تنخواہ دار طبقہ کے ٹیکس میں چوٹ کی حد کم کر دی گئی ہے یہ وہ واحد طبقہ ہے جو باقاعدگی سے اور پورا پورا ٹیکس ادا کرتا ہے مگر اسی پر بوجھ ڈال دیا گیا ہے جبکہ یہ طبقہ اپنی سالانہ آمدنی ہی میں سے ٹیکس ادا نہیںکرتا بلکہ اس کے علاوہ وہ ٹیکس ادا کرتا ہے جو اس کو اشیاء پر لاگو خریداری پر ادا کرنا ہوتے ہیں مثلاً موبائل کا بیلنس لوڈ کرنے پر بھی وہ ٹیکس دیتا ہے، بجلی کے بل پر انکم ٹیکس بھی ادا کرتا ہے، ٹیلی فون کے بل پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے علاوہ انکم ٹیکس ادا کرتا ہے جبکہ وہ تنخواہ وصول کرتے وقت اپنی آمدنی میں سے پہلے ٹیکس کٹوتی کرا چکا ہوتا ہے۔ بجٹ کی کاپی کے مطابق بجٹ کا کل حجم 8238.1ارب روپے ہے جو دو ہزار اٹھارہ، انیس کے بجٹ کے مقابلے میں اڑتیس اعشاریہ نو فیصد زیادہ ہے۔ اس بجٹ میں دستیاب وسائل کا تخمینہ 7899.1ارب روپے ہے جبکہ دو ہزار اٹھارہ، انیس کے میزانیاتی تخمینے میں یہ چار ہزار نو سو سترہ اعشاریہ دو ارب روپیہ تھا۔ بجٹ کی دیگر تفصیلات کے مطابق قطعی مالیاتی وصولیات کا تخمینہ تین ہزار چار سو باسٹھ اعشاریہ ایک ارب ہے۔بجلی کے صارفین کیلئے دو سو ارب کی سبسڈی دی جائے گی۔ حماد اظہر نے اپنی تقریر میں بتایا کہ حکومت کا مجموعی قرضہ اکتیس ہزار ارب روپیہ ہے۔ سرکاری اداروں کا خسارہ تیرہ سو ارب روپیہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بیس بلین ڈالرز ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم یہ اضافہ گزشتہ بجٹ کی نسبت کم ہے۔ گریڈ اکیس اور بائیس کے ملازمین کی نتخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں