Daily Mashriq


کوئی مقدس گائے نہیں۔۔ جنرل اور جج کٹہرے میں

کوئی مقدس گائے نہیں۔۔ جنرل اور جج کٹہرے میں

یہ تو سب مانتے ہیں کہ اسامہ بن لادن اب اس دنیا میں نہیں رہے، وہ کیسے مرے؟ کس نے مارا؟ اور کہاں مرا؟ یہ معاملہ ابھی زیربحث ہے۔ اس ڈرامہ کے کرداروں‘ اس کی کہانی بنانے والے اور پھر اسے ڈرامائی تشکیل دینے والوں کو ابھی منظرعام پر لانے کیلئے وقت درکار ہے۔ ایبٹ آباد کے اس ڈرامہ پر پاکستانی تو کسی طور اعتبار کر نہیں رہے کچھ یوں ہی اب امریکی میڈیا میں بھی طرح طرح کی چیمہ گوئیاں ہو رہی ہیں۔ کچھ بین الاقوامی اور پاکستانی کرداروں نے رول تو ادا کر دیا ہے اور اپنے فن کی داد بھی پائی مگر وہ خود اپنی اس کارکردگی سے خوش نظر نہیں آتے، اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس سے اچھا رول چاہتے تھے یا پھر انہیں اپنے کردار کا پورا معاوضہ نہیں ملا۔ جہاں تک معاوضہ کی بات ہے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معاوضہ ڈائریکٹر (انکل ٹام) نے تو دیدیا ہو لیکن اسے آگے درمیان والے کھا گئے ہوں اور کرداروں کو صرف چند ٹکے ہی ملے ہوں جس پر وہ ناراض نظر آرہے ہیں۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود امریکہ ابھی بھی ناراض ہی ہے کہ پاکستان ابھی تک وہ کردار ادا نہیں کر رہا جو اسے کرنا چاہئے کیونکہ بقول ان کے اس کیلئے بھاری اخراجات ہو رہے ہیں۔ اسی لئے تو جب بھی کوئی امریکی پاکستان آتا ہے ’’ڈومور‘‘ کی ہی رٹ لگائے رکھتا ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ تب ہی جیتی جا سکتی ہے جب پاکستان اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا کرے۔امریکہ کی ڈومور کی فرمائش اور پاکستانی حکمرانوں کی فرمانبرداری میں ہماری قومی سوچ اور قومی وقار تک داؤ پر لگ چکے ہیں۔ امریکہ کمال مہارت سے کافی وقت سے یہی رٹ لگائے ہوئے ہے کہ پاکستان میں کئی دہشتگرد یا طالبان تحریکوں سرگرم عمل ہے لیکن وہ یہ نہیں بتا پائے کہ ان طالبان کو پاکستان اور افغانستان میں اس طرح کے آپریشنز کرنے کی جدید اور پختہ ٹریننگ کس نے دی اور ان کے پاس جدید ترین اسلحہ کہاں سے آیا۔ انہیں اتنے کم وقت میں اپنا ٹارگٹ اتنی آسانی سے پورا کر لینے کی صلاحیتیں کس کس نے فراہم کی۔ یہ سوالات ہمارے یہاں زبان زدعام ہیں ہر کوئی ان سوالات کا جواب چاہتا ہے۔ ادھر جب بات نکلی تو انہی دنوں میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے کہا کہ پاکستان میں را‘ خاد اور دیگر ایجنسیاں گھناؤنا کردار ادا کر ر ہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہمارے خفیہ اداروں نے اور بھی بہت کچھ معلومات اکٹھی کر رکھی ہیں اور وقت آنے پر ان غداروں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے کارروائیاں یقینا ہوں گی جیسے کہ ایک سابق بریگیڈئر اور میجر جنرل کیساتھ ساتھ ایک سویلین ڈاکٹر کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جاچکی ہے۔وطن عزیز میں ہر وقت یہی راگ الاپا جاتا ہے کہ سیاسی نمائندے کرپٹ ہیں اور ان ہی کیخلاف نیب اور دیگر ادارے آئے روز کارروائیاں کرتے رہتے ہیں اس سے یوں لگتا ہے کہ باقی سب چور اور گناہ گاروں کو کھلی چھوٹ ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہر کسی کا احتساب ہونا چاہئے‘ چاہے وہ کوئی بھی ہو جس نے ملک وقوم کیساتھ غداری کی ہو یا غریب عوام کا پیسہ کسی بھی طریقے سے ہڑپ کیا ہو، وطن عزیز میں آج انصاف پسندوں کی حکومت ہے اور وفاقی کابینہ نے گزشتہ دن اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کیخلاف سپریم جوڈیشنل کونسل میں دائر کئے گئے ریفرنسوں پر اپوزیشن جماعتیوں کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شعبے میں کوئی بھی ہو حکومت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات جاری رکھے گی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ججوں کیخلاف شکایات وزیراعظم کے دفتر کو موصول ہوئیں، برطانیہ کی لینڈ رجسٹری نے شکایت کی توثیق کی، اس پر نوٹری پبلک کی مہریں لگی ہیں۔ حکومت نے کہا کہ یہ عدلیہ کا معاملہ ہے اور سپریم جوڈیشنل کونسل ہی دیکھ رہی ہے تو پھر اسے عدلیہ پر حملہ قرار دینے والے سراسر غلط ہیں۔ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں واضح کر دیا ہے کہ کوئی بھی مقدس گائے نہیں، عوامی نمائندے، بیوروکریٹ، جج وجرنیل اور ہر اس شخص کا احتساب ہوگا جو کوئی بھی ملک وقوم کا پیسہ کھائے گا۔

ہم موجودہ حکومت کے ہر اس اقدام کی حمایت وتائید کرتے ہیں جس میں ملک وقوم کا مفاد اولین ترجیح ہو۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک ملک میں یکساں احتساب نہیں ہوگا اور جزا اور سزا کا تصور ناپید ہوگا تو پاکستان تو کیا کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا، ہمیں اپنے ہر ایک محکمے میں بے دریغ احتساب کرنا ہوگا اور چن چن کر کالی بھیڑوں کو سزائیں دینی ہوں گی جس سے ایک تو ان اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور دوسرے بے غیرت اور غداران وطن کو عبرت حاصل ہوگی۔ ایسے میں احتساب کیخلاف کوئی بھی احتجاج کرے کسی قسم کی بھی آگ لگانے کی دھمکی دے، سڑکوں پر نکلے یا اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ کرے یا ان میں آگ لگائے حکومت کو ان دھمکیوں پر دھیان دیئے بغیر احتساب اور انصاف کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں